خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 24
خطبات مسرور جلد 17 24 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 جنوری2019 سیکرٹری خدمت خلق اور مقامی صدر لجنہ کی خدمت کی توفیق ملی۔ہمیشہ جماعت اور خلافت سے گہرا تعلق رکھا اور ہر قسم کی قربانی کے لئے ہر وقت تیار رہتی تھیں۔بہت شفیق اور پیار کرنے والی خاتون تھیں۔آپ کو جماعت احمد یہ امریکہ کے ابتدائی وقت کے واقعات زبانی یاد تھے جن کا آپ اکثر ذکر کیا کرتی تھیں۔حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو اپنے گھر کھانے پر مدعو کرنے کا بھی ان کو موقع ملا۔خاوند مکرم احمد شہید صاحب مرحوم کو امریکہ کی نیشنل عاملہ میں اور بطور صدر جماعت پٹس برگ (Pittsburg) خدمت کی توفیق ملی۔مرحومہ کے لواحقین میں ان کے اکلوتے بیٹے عمر شہید صاحب شامل ہیں جنہیں گزشتہ اٹھارہ سال سے بطور صد ر جماعت پٹس برگ خدمت کی توفیق مل رہی ہے۔یہ افریقین امریکن تھیں۔صدر لجنہ اماء اللہ امریکہ سسٹر عالیہ کے بارے میں لکھتی ہیں کہ ان کی طرز زندگی، ان کی باتیں، ان کی ہر نقل و حرکت اس بات کا ثبوت پیش کرتی تھی کہ وہ اپنے عہد بیعت پر پختگی کے ساتھ عمل پیرا تھیں جو انہوں نے 76 سال پہلے باندھا تھا۔ان کی خدمات صرف امریکہ تک محدود نہیں تھیں بلکہ ان کے معترف دنیا بھر میں تھے اور جب یہ ساری لجنہ بیرونی لجنات بھی پاکستانی لجنہ صدر کے انڈر تھیں تو اُس وقت حضرت مریم صدیقہ صاحبہ جو حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی حرم تھیں وہ پوری دنیا کی لجنہ کی صدر تھیں۔ان کی طرف سے ان کی خدمات کو بہت سراہا بھی گیا تھا۔یہ لکھتی ہیں کہ سٹر عالیہ کا نام ایلا لوکس ( Ella Louise) تھا اور ان کے منگیتر ولیم فرینک براؤننگ (William Frank Browning) افریقن میتھوڈسٹ چرچ Methodist Church) کے بہت سرگرم رکن تھے۔ان کی شادی ہونے والی تھی اور وہ اپنی شادی کی تیاریوں میں مصروف تھے ، جب ان کے میاں تک احمدیت کا پیغام پہنچا تو ولیم صاحب اپنے والدین کے ساتھ احمد کی ہو گئے اور انہوں نے اپنا نام احمد شہید رکھا۔عالیہ نے شادی تو کر لی لیکن بیعت نہیں کی۔احمد شہید صاحب کچھ عرصہ بعد پٹس برگ جماعت کے صدر منتخب ہوئے اور نہ صرف جماعتی طور پر مقبول ہوئے بلکہ ملک بھر میں اپنی تبلیغی کاوشوں کی وجہ سے مشہور ہو گئے۔اسی دوران ان کے ہاں ایک بیٹا پید اہوا جس کا نام انہوں نے عمر رکھا۔عالیہ صاحبہ اپنے احمدی سسرال میں رہتی تھیں جہاں انہوں نے اپنے سسرال اور شوہر سے چھپ کر جماعتی کتب کا مطالعہ شروع کیا۔اسی دوران ان تک حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کتاب 'احمدیت یعنی حقیقی اسلام ، پہنچی جسے پڑھ کر وہ بہت متاثر ہوئیں۔بعد ازاں اپنے گھر میں منعقد ہونے والی تربیتی کلاسوں میں شرکت کرنے لگیں۔پھر ایک روز بنگالی صاحب، مکرم عبد الرحمن بنگالی صاحب جو وہاں مبلغ تھے ان کا لیکچر سنا جس میں انہوں نے مسیح کی صلیب سے نجات اور کشمیر کی طرف ہجرت کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عقیدہ بیان کیا۔یہ لجنہ صدر لکھتی ہیں کہ آپ کہا کرتی تھیں کہ اس کے بعد میں نے چرچ جانا ترک کر دیا اور مسجد میں جانے لگ گئی اور بالآخر 1936ء میں احمدیت قبول کر لی۔اپنا نام عالیہ کس طرح رکھا ؟ کہتی ہیں ایک کتاب میں میں نے ایک نام عالیہ پڑھا تھا جو مجھے اچھا لگا۔احمد کی ہونے کے بعد میں نے اسی نام کو اپنا لیا۔سٹر عالیہ ہمیشہ علم کی جستجو میں رہنے والی تھیں۔مسجد کی صفائی کرتے، کھانا پکاتے، نماز پڑھتے صرف