خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 392
رور جلد 17 392 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 جولائی 2019 کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک ایسی بات سے منع فرمایا جو ہمارے لیے فائدہ مند تھی۔میں نے کہا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہی بجا تھا۔ظہیر نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا۔آپ نے پوچھا تم اپنے کھیتوں کو کیا کرتے ہو۔میں نے کہا کہ ہم انہیں ٹھیکے پر دے دیتے ہیں۔زمینیں ہیں جو ہم اس شرط ٹھیکے پر دے دیتے ہیں کہ جو نالیوں کے قریب پیداوار ہو وہ ہم لیں گے یعنی جو پانی کے قریب جگہ ہے وہاں اچھی فصل ہو گی وہ ہم لیں گے اور کھجور اور جو میں چند وسق کے حساب سے لیں گے۔ایک وسق میں ساٹھ صاع ہوتے ہیں اور ایک صاع اڑھائی کلو کے قریب ہوتا ہے۔تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کے فرمایا کہ ایسانہ کیا کرو۔تم خود اس میں کاشت کرو یا ان میں کاشت کر او یا انہیں خالی رہنے دو۔حضرت رافع کہتے تھے کہ میں نے کہا میں نے سن لیا اور اب ایسا ہی ہو گا۔(صحيح البخاري جلد4 كتاب الْحَرْثِ وَالْمُزَارِعَهُ بَابُ مَا كَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوَاسِي بَعْضُهُمْ بَعْضًا فِي الرِّرَاعَةِ وَالثَّمَرَةِ- حديث 2339 و مترجم اردو - صفحه 334۔شائع کردہ نظارت اشاعت ربوه) (لغات الحدیث جلد چهارم صفحه 51’وسق‘۔لغات الحدیث جلد دوم صفحه 113’صاع) اس کے بعد ہم خود کاشت کیا کرتے تھے یا ایسے طریقے سے لیتے تھے جہاں حق دار کو اس کا حق بھی مل جائے۔پھر جن صحابی کا ذکر ہے ان کا نام حضرت عمرو بن ایاس ہے۔حضرت عمر و یمن سے تعلق رکھتے تھے اور انصار کے قبیلہ بنو کو ڈان کے حلیف تھے۔ان کے والد کا نام ایاس بن عمر و تھا۔دونوں ایک اور قول، روایت یہ بھی ہے کہ ان کے دادا کا نام زید تھا۔حضرت عمر و غزوہ بدر اور اُحد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شامل ہوئے۔حضرت عمر و حضرت ربیع بن ایاس اور حضرت ورقہ بن ایاس کے بھائی تھے اور ان تینوں بھائیوں کو غزوہ بدر میں شامل ہونے کی توفیق ملی۔( السيرة النبویہ لا بن ہشام صفحہ 469 الانصار و من معهم / من بنی لوذان وحلفائهم ، دار الكتب العلمیہ بیروت لبنان 2001ء) (اسد الغابہ فی معرفة الصحابه جزء4 صفحہ 186 عمرو بن ایاس بن زید ، دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان 2008ء) پھر جن صحابی کا ذکر ہے ان کا نام حضرت مدبلج بن عمرو ہے۔حضرت مریخ بن عمرو کا نام بذ لانج بھی بیان ہوا ہے۔ان کا تعلق قبیلہ بنو سلیم کے خاندان بنو خنجر سے تھا۔یہ بنو کبیر بن غنم بن دوران کے حلیف تھے جبکہ ایک دوسرے قول کے مطابق بنو عمر وبن دُور ان کے حلیف تھے جو پھر آگے بنو عبد شمس کے حلیف تھے۔(الطبقات الكبرى لابن سعد الجزء الثالث صفحه 53 مدلاج بن عمر و دار احیاء التراث العربى بيروت 1996ء)(السيرة النبوية لا بن هشام صفحه 460 ذكر من حضر بحراً من المسلمين دارالكتب العلمية بيروت لبنان 2001ء) (الاصابة في تمييز الصحابة جزء سادس صفحه 49 مدلاج بن عمرو الاسلمی، دارالکتب العلمية بيروت لبنان 2005ء) حضرت مدیح غزوہ بدر میں اپنے دو بھائیوں حضرت تقف بن عمرہ اور حضرت مالک بن عمرو کے ہمراہ شامل ہوئے تھے۔حضرت مدبلج بن عمر ور سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ بدر، احد اور بعد کے تمام غزوات میں شامل ہوئے۔(الاستيعاب في معرفة الاصحاب جزء رابع صفحه 31-32 مدلاج بن عمرو السلمي، دار الكتب العلمية بيروت 2002ء)(اسد الغابة في معرفة الصحابة جزء الخامس صفحه 127 مدلج بن عمرو دار الكتب العلميه بيروت 2008ء)