خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 391 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 391

خطبات مسرور جلد 17 391 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 جولائی 2019 کے نام حاطب اور خطاب تھے۔یہ تینوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دارِ ارقم میں داخل ہونے سے قبل اسلام قبول کر چکے تھے۔حضرت معمر کا شمار السَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ میں ہوتا ہے۔(اسد الغابه فى معرفة الصحابه المجلد الخامس صفحه 226 معمر بن الحارث دار الكتب العلميه بيروت لبنان 2008ء) (سیر اعلام النبلاء لامام محمد بن احمد الذهبى جلد 1 صفحه 144، الرسالة العالمية 2014ء) حضرت عائشہ بنت قدامہ سے روایت ہے کہ بنو مظعون میں سے حضرت عثمان، حضرت قدامہ حضرت عبد اللہ اور حضرت سائب بن عثمان بن مظعون اور حضرت معمر بن حارث مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آئے تو حضرت عبد اللہ بن سلمہ عجلانی کے گھر ٹھہرے تھے۔(الطبقات الكبرى لابن سعد الجزء الثالث صفحه 302 عثمان بن مظعون ، دار الكتب العلمية بيروت لبنان 1990ء) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معمرہ کی مواخات حضرت مُعاذ بن عفراء کے ساتھ کروائی تھی۔حضرت معمر بن حارث غزوہ بدر، احد، خندق سمیت تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے تھے۔حضرت مغمر بن حارث کی وفات حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں 123 ہجری میں ہوئی تھی۔الطبقات الكبرى لابن سعد الجزء الثالث صفحه 307 معمر بن الحارث ، دار الكتب العلمية بيروت لبنان 1990ء) (البداية والنهاية لابن كثير جلد 7 صفحه 139، ذِكْرُ مَنْ تُوَفَّى فِي خِلَافَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، دار الكتب العلمية بيروت 2001ء) پھر جن صحابی کا ذکر ہے ان کا نام ہے ظہیر بن رافع۔پہلے صحابی حضرت مظھر کا جو ذکر آیا تھا، یہ ان کے بھائی تھے۔حضرت ظهیر انصار کے قبیلہ اوس کے خاندان بنو حارثہ بن حارث سے تعلق رکھتے تھے۔(السيرة النبويه لا بن هشام مَنْ شَهِدَ مِنْ بَنِى حَارِثَه بن الْحَارِثُ صفحه 209 مطبوعه دار ابن حزم بيروت 2009ء) حضرت ظهير بن رافع کے بیٹے کا نام اسید تھا جنہیں صحابی ہونے کا شرف بھی حاصل تھا۔حضرت ظهیر ، رافع بن خدیج کے چچا تھے ، حضرت رافع کا ذکر میں پہلے کر چکا ہوں۔حضرت ظہیر کی بیوی کا نام فاطمہ بنت بشر تھا جو بنو عدی بن غنم سے تھیں۔(أسدالغابة في معرفة الصحابة جلد3 صفحه 103 ظهير بن رافع دار الكتب العلميه بيروت 2008ء) (أسدالغابة في معرفة الصحابة جلد 1 صفحه 243 244 أُسَيْد بن ظهير دار الكتب العلميه بيروت 2008ء) (الطبقات الكبرى جلد 4 صفحه 273 اسيد بن ظهير مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) حضرت مظهر بن رافع ، حضرت ظہیر کے سگے بھائی تھے۔دونوں بھائیوں کو غزوہ بدر میں شامل ہونے کی توفیق ملی۔(أسدالغابة في معرفة الصحابة جلد 5 صفحه 185 مُظَهَّرُ بن رافع دار الكتب العلميه بيروت 2008ء) (صح البخارى كتاب المغازى باب تسمية من سمى من اهل بدر۔۔۔۔۔) جو کہتے ہیں کہ نہیں یہاں یہ کہہ رہے ہیں اور اکثر تاریخیں یہ کہتی ہیں کہ دونوں بھائی شامل ہوئے تھے۔حضرت ظھیر بیعت عقبہ ثانیہ اور غزوہ بدر اور غزوۂ احد اور اس کے بعد کے تمام غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک ہوئے تھے۔(اسدالغابة في معرفة الصحابة جلد3 صفحه 103 ظهير بن رافع دار الكتب العلميه بيروت 2008ء) حضرت رافع بن خدیج اپنے چچا حضرت ظهیر بن رافع سے روایت کرتے تھے کہ حضرت ظھیر نے کہا