خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 390
خطبات مسرور جلد 17 390 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 جولائی 2019 ہیں یارسول اللہ۔آپ نے فرمایا تمہارا اپنے بال بڑھانا اور اپنا ازار لٹکانا یعنی ایسالمباپاجامہ پہنا جو فخر کے طور پر پہنا جاتا ہے۔پس حضرت خریم گئے اور اپنے بال کٹوا دیے اور اپنا ازار چھوٹا کر دیا۔(المستدرك على الصحيحين للحاكم جلد 6 صفحه 2363 كتاب معرفة الصحابة حديث 6608 مكتبه نزار مصطفى الباز مكه المكرمه 2000ء) ایک یہ روایت ہے اور ایک روایت تاریخ الکبیر میں یہ بھی ہے کہ حضرت ابن حنظلیہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خُریم اسدی کتنا ہی اچھا شخص ہوتا اگر اپنے بال مونڈھوں تک نہ بڑھاتا۔کندھے تک نہ لاتا اور اپنا ازار نہ لڑکا تا فخر کے طور پر۔اپنا پا جامہ جو نچلا لباس ہے یا جو بھی نیچے لباس پہنا ہوتا ہے وہ زیادہ لمبانہ ہو۔حضرت خریم کو یہ بات پہنچی تو انہوں نے اپنا چھوٹا استرالیا اور اپنے بال کانوں تک کاٹ دیے۔لمبے بالوں کی بجائے یہاں تک کاٹ دیے، اور اپنا ازار نصف پنڈلیوں تک اوپر کر لیا۔التاریخ الکبیر از ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل بخاری جلد 3 صفحہ 196 حدیث 3651، مطبوعہ دار الكتب العلمیہ بیروت لبنان 2001ء) کیونکہ وہ اس وقت لوگوں میں فخر کی نشانی سمجھی جاتی تھی۔اس لیے وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ بلاوجہ بلاضرورت لمبے بال رکھنے میں کیا حرج ہے۔اتنے ہی پٹے کانوں کی کو تک، رکھنے چاہئیں جتنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورتوں کی طرح لمبے نہیں ہونے چاہئیں۔حضرت عمرؓ کے زمانے میں شام کی فتوحات میں یہ شریک ہوئے تھے۔(سیر الصحابہ جلد ہفتم صفحہ 307 حضرت زید بن حارثہ مطبوعہ دار اشاعت کراچی) حضرت قیس بن ابو حازم اور حضرت عامر شعبی ﷺ سے مروی ہے کہ مروان بن حکم نے حضرت آئین بن خریم سے کہا تم ہمارے ساتھ جنگ میں کیوں شریک نہیں ہوتے؟ انہوں نے کہا میرے والد اور میرے چا غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے اور انہوں نے مجھے یہ تاکیدی حکم دیا تھا کہ میں کسی ایسے شخص سے نہ لڑوں جو کہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔حضرت ایمن نے مروان بن حکم سے کہا کہ اگر تم میرے پاس آگ سے براءت لائے ہو تو میں تمہارے ساتھ جنگ میں شریک ہو جاؤں گا تو مروان نے کہا تم ہمارے پاس سے چلے جاؤ۔پس وہ نکلے تو یہ اشعار پڑھتے جارہے تھے کہ میں کسی شخص سے نہیں لڑوں گا جو قریش کے کسی دوسرے سلطان کی تعریف کرتا ہے۔اس کے لیے اس کی سلطنت ہے اور میرے اوپر میر ا گناہ۔میں ایسی جہالت اور غصے سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔کیا میں ایک مسلمان کو بغیر کسی جرم کے قتل کروں گا۔اگر ایسا ہوا تو میں جتنی زندگی بھی جی لوں اس کا مجھے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔(المستدرك على الصحيحين للحاكم جلد3 صفحه 1004 كتاب معرفة الصحابة، ذكر خُريم بن فَاتِك، حدیث 2667 مكتبه نزار مصطفى الباز مكه المكرمه 2000ء) آج کل کے مسلمانوں کے عمل دیکھیں تو پتا لگتا ہے کہ یہ اصل تعلیم سے کتنی دُور جاچکے ہیں۔پھر جن صحابی کا ذکر ہے حضرت معمر بن حارث ان کا نام ہے۔حضرت مغمر بن حارث کا تعلق قبیلہ قریش کے خاندان بنو صبح سے تھا۔ان کے والد کا نام حارث بن معمر تھا اور والدہ کا نام قبیلہ بنت مظعون تھا جو حضرت عثمان بن مظعون کی بہن تھیں۔یوں حضرت عثمان بن مظعون حضرت معمرہ کے ماموں تھے۔حضرت معمرؓ کے دو اور بھائی تھے جن