خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 389
خطبات مسرور جلد 17 389 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 جولائی 2019 مفصلات سورتیں بھی لائے ہیں جنہوں نے ہمیں یہ ساری باتیں بتائی ہیں اور جو بہت ساری چیزوں کو حرام قرار دینے والے ہیں اور بہت ساری چیزوں کو حلال قرار دینے والے ہیں۔وہ نماز اور روزے کا حکم دیتے ہیں اور لوگوں کو ان برائیوں سے روکتے ہیں جو گذشتہ دنوں کی برائیاں لوگوں میں موجود تھیں۔یہ ان کو جواب ملا کہ اس طرح ہمیں توحید کا اعلان پتالگا ہے اس لیے ہم کہتے ہیں۔حضرت خریم کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ اللہ تجھ پر رحمت کرے تم کون ہو ؟ اس نے کہا میں ملک بن مالک ہوں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اہل نجد کے جن یعنی سرداروں پر مقرر کر کے بھیجا ہے۔یہ ان کی آپس میں بات چیت ہو رہی ہے۔حضرت خریم کہتے ہیں کہ میں نے کہا اگر میرے لیے کوئی ایسا شخص ہو تا جو میرے اونٹوں کی کفالت کرتا، تو میں ضرور اس رسول کے پاس جاتا، یہاں تک کہ اس پر ایمان لے آتا۔ان کو توحید کی باتیں اچھی لگیں، ملک بن مالک نے کہا کہ میں ان کی، تمہارے اونٹوں کی ذمہ داری لیتا ہوں یہاں تک کہ میں انہیں تیرے اہل تک ان شاء اللہ صحیح سلامت پہنچا دوں گا۔کہتے ہیں کہ میں نے ان میں سے ایک اونٹ تیار کیا اور اس پر سوار ہو کر مدینہ آگیا۔باقی اونٹ ان کے سپرد کر دیے۔میں ایسے وقت میں پہنچا کہ جب لوگ نماز جمعہ میں مصروف تھے۔جمعہ کا وقت تھا تو میں نے سوچا یہ لوگ نماز پڑھ لیں پھر میں اندر جاؤں گا کیونکہ میں تھکا ہوا تھا لہذا میں نے اپنی سواری کو بٹھا دیا۔جب حضرت ابو ذر باہر نکلے تو انہوں نے مجھے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے ہیں کہ اندر آ جاؤ۔پس میں اندر آ گیا۔جب آپ نے مجھے دیکھا تو فرمایا اس بوڑھے شخص کا کیا بنا جس نے تمہیں ضمانت دی تھی کہ تمہارے اونٹ صحیح سلامت تمہارے گھر پہنچا دے گا۔اس نے تمہارے اونٹ تمہارے گھر صحیح سلامت پہنچا دیے ہیں ؟ یہ سارا نظارہ جو تھا اللہ تعالی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس کی اطلاع دے دی۔حضرت خریم کہتے ہیں کہ یہ سن کر میں نے کہا اللہ اس پر رحم کرے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اللہ اس پر رحم کرے۔اس پر حضرت خریم نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اس طرح بڑے اچھے انداز میں وہ اسلام لے آئے۔(المعجم الکبیر از حافظ ابو القاسم سليمان بن احمد ،طبرانی، جلد 4 صفحه 211تا 213 حدیث نمبر 4166، مکتبه ابن تيميه قاهره (السيرة النبويه لابن كثير جلد 1 صفحه 379 ، مكتبه دار المعرفه بيروت لبنان 1976ء) (م البلدان جلد 1 صفحه 68) ( بلوغ الا رب مترجم از ڈاکٹر پیر محمد حسن جلد 3 صفحہ 135۔اردوسائنس بور ڈلا ہو ر 2002ء) انہوں نے اپنا اسلام لانے کا یہ واقعہ بیان کیا۔حضرت خریم بن فاتک نہایت لطیف مزاج اور نفاست پسند تھے۔لباس اور وضع قطع میں خوبصورتی اور نفاست کا بہت لحاظ رکھتے تھے۔(ماخوذ از سیر الصحابہ جلد ہفتم صفحہ 307 حضرت زید بن حارثہ مطبوعہ دار الاشاعت کراچی) اسلام لانے سے پہلے نیچا ازار پہنتے تھے، لمبا یا جامہ یا جو نچلا لباس ہے وہ لمبا کر کے پہنتے تھے۔لمبے بال رکھا کرتے تھے۔چنانچہ مستدرک حاکم میں اس کے متعلق ایک حدیث میں بیان ہوا ہے کہ حضرت خریم بن فاتک سے مروی ہے کہ ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا اسے خریم اگر تم میں دو باتیں نہ ہو تھیں تو تم بہت اچھے شخص ہوتے۔انہوں نے کہا کہ میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں وہ دو باتیں کون سی