خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 388 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 388

خطبات مسرور جلد 17 388 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 جولائی 2019 پھر جن صحابی کا ذکر ہے ان کا نام حضرت خریم بن فاتک ہے۔حضرت خریم بن فاتک کا تعلق بنو اسد سے تھا۔ان کے والد کا نام فاتک بن آخرم یا آخرم بن شداد بھی بیان کیا گیا ہے۔ان کی کنیت ابو بھی جبکہ ایک روایت کے مطابق ابو ایمن بیان ہوئی ہے کیونکہ ان کے بیٹے کا نام حضرت ایمن بن خریم تھا۔حضرت خریم بن فاتیک اپنے بھائی حضرت سبرہ بن فاتک کے ہمراہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے۔(اسد الغابه في معرفة الصحابه المجلد الثانى صفحه 167 خُريم بن فَاتِك دار الكتب العلميه بيروت لبنان 2008ء) ایک قول کے مطابق حضرت خریم صلح حدیبیہ میں شامل تھے۔ایک غیر معروف روایت یہ بھی ہے کہ حضرت خریم اور ان کے بیٹے حضرت ایمن نے اس وقت اسلام قبول کیا جب فتح مکہ کے بعد قبیلہ بنو اسد نے اسلام قبول کیا تھا جبکہ پہلی روایت زیادہ درست ہے کہ حضرت خریم غزوہ بدر میں شامل ہوئے اور امام بخاری نے اپنی کتاب التاریخ الکبیر میں ان کا بدری ہو نا بیان کیا ہے۔حضرت خریم بیٹے سمیت بعد میں کوفہ چلے گئے اور ایک روایت کے مطابق یہ دونوں رحمہ شہر جو دریائے فرات کے شرقی جانب ایک مشہور شہر ہے وہاں منتقل ہو گئے اور یہ دونوں اسی جگہ حضرت امیر معاویہ کے دورِ حکومت میں فوت ہوئے۔(الاصابه في تمييز الصحابه لابن حجر عسقلانی جلد 2 صفحه 236 خُرَيْم بن فاتك، دار الفكر بيروت 2001ء) (التاريخ الكبير ازابو عبد الله محمد بن اسماعیل بخاری جلد 3 صفحه 196،مطبوعه دارالكتب العلمیه بیروت لبنان 2001ء) (معجم البلدان جلد 4 صفحه 413-414) حضرت خریم بن فاتک اپنے اسلام قبول کرنے کا واقعہ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ اونٹ گم گئے تھے تو میں اپنے اونٹوں کو ڈھونڈھنے نکلا، ان کے نشانات کا پیچھا کرتے کرتے مجھے رات ہو گئی۔چنانچہ میں نے انہیں آبرقی العزّاف یہ بنو اسد بن خزیمہ کے پانی پینے کی مشہور جگہ کا نام ہے جو مدینہ سے بصرہ کے راستے پر ہے، وہاں جا کر پا لیا تو میں نے انہیں وہیں باندھ دیا اور ان میں سے ایک اونٹ کی ران کے ساتھ ٹیک لگا کر لیٹ گیا۔رات گزارنے کے لیے وہیں رہ گئے اور کہتے ہیں کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے ابتدائی زمانے کی بات ہے۔میں نے کہا کہ میں اس وادی کے سردار کی پناہ مانگتا ہوں۔اونچی آواز میں کہا۔یہ اس زمانے میں ان کا رواج تھا۔میں اس وادی کے عظیم کی پناہ مانگتا ہوں۔حضرت خریم کہتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ اسی طرح کہا کرتے تھے۔زمانہ جاہلیت میں جب کوئی شخص کسی ویران وادی میں رات گزارنے کی غرض سے داخل ہو تا تو اس کے اہل اور بیوقوفوں کے شر سے بچنے کے لیے یہ الفاظ کہا کرتا تھا۔بہر حال کہتے ہیں کہ جب میں یہ کہہ رہا تھا تو اچانک ایک پکارنے والے نے مجھے آواز دی اور یہ اشعار پڑھے کہ تیر ابھلا ہو تو اللہ ذوالجلال کی پناہ مانگ جو حرام اور حلال کا نازل کرنے والا ہے۔اللہ کی توحید کا اقرار کر پھر تجھے جنات کی آزمائشوں کی کوئی پروا نہیں ہو گی۔جب تو اللہ کو یاد کرے گا تو کئی میلوں اور زمینوں اور پہاڑوں کی پنہائیوں میں جنات کا مکر نا کام ہو جائے گا سوائے تقوی والے شخص کے اور نیک اعمال کے یعنی نیکیاں جاری رہیں گی۔کوئی برائی نہیں آئے گی۔حضرت خریم کہتے ہیں کہ میں نے جو ابا کہا کہ اے پکارنے والے ! تو جو کچھ کہہ رہا ہے کیا تیرے نزدیک وہ ہدایت کی بات ہے یا تو مجھے گمراہ کر رہا ہے۔یہ زمانہ جاہلیت کی باتیں تو اور تھیں۔اور یہ تم توحید کی عجیب باتیں کر رہے ہو۔اس نے کہا یہ اللہ کے رسول ہیں۔بھلائیوں والے ہیں۔لیس اور خمیمات لے کر آئے ہیں اور اس کے بعد