خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 387 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 387

خطبات مسرور جلد 17 387 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 جولائی 2019 ہمراہ شریک ہوئے تھے۔حضرت مظهر حضرت عمر کے دورِ خلافت میں فوت ہوئے۔(صحيح البخارى كتاب المغازى باب تسمية من سمى من اهل بدر۔۔۔۔۔۔۔(ارشاد السارى لشرح صحیح البخاری جلد7 صفحه 195 ، دارالفکر بیروت 2010ء) (سبل الهدى والرشاد جلد 4 صفحه 106 ، غزوة بدر الكبرى، دار الكتب العلمية بيروت 1993ء)(اسدالغابه في معرفة الصحابه لا بن اثیر جلد5 صفحه 185، مظهر بن رافع،دارالکتب العلميه بیروت 2008ء) (الاصابة في تمييز الصحابه جزء6 صفحه 106، مظهر بن رافع دار الكتب العلميه بيروت 1995ء)(الاستيعاب في معرفة الاصحاب جلد4 صفحه 39 مظهر بن رافع، دارالکتب العلميه بيروت 2002ء) لیکن جو کتابیں ہیں وہ حضرت مظہر کو ثابت کرتی ہیں کہ غزوہ بدر میں شامل ہوئے تھے، اسی پر زیادہ تر اعتماد کیا جاتا ہے۔یخنی بن سهل بن ابو خشمہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت مظهر بن رافع حارثی میرے والد کے پاس ملک شام سے چند طاقتور مزدور اپنے ساتھ لے کر آئے تاکہ وہ ان کی زمینوں میں کام کر سکیں۔جب یہ خیبر میں پہنچے تو وہاں تین دن قیام کیا۔وہاں یہود نے ان مزدوروں کو حضرت مظہر کے قتل پر اکسانا شروع کر دیا اور دو یا تین چھریاں مخفی طور پر انہیں دے دیں۔جب حضرت منظیر خیبر سے باہر نکلے اور شبار نامی جگہ پر پہنچے جو خیبر سے 16 میل کے فاصلے پر واقع ہے تو ان لوگوں نے حضرت مظهر پر حملہ کر دیا اور پیٹ چاک کر کے انہیں شہید کر دیا۔پھر وہ لوگ خیبر واپس چلے گئے جس پر یہود نے انہیں زاد راہ اور خوراک دے کر روانہ کر دیا۔یہاں تک کہ وہ ملک شام واپس پہنچ گئے۔جب حضرت عمر بن خطاب کو یہ خبر ملی تو فرمایا کہ میں خیبر کی طرف نکلنے والا ہوں اور وہاں موجود اموال کو تقسیم کرنے والا ہوں اور اس کی حدود کو واضح کرنے والا ہوں اور زمینوں میں حد فاصل لگانے والا ہوں یعنی اس کا بدلہ لیا جائے گا اور یہود کو وہاں سے جلاوطن کرنے والا ہوں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا تھا کہ میں تمہیں اس وقت تک ٹھکانہ دوں گاجب تک اللہ نے تمہیں ٹھکانہ دیا اور اللہ نے انہیں جلاوطن کرنے کی اجازت دے دی ہے۔چنانچہ حضرت عمرؓ نے پھر ایسا ہی کیا۔(کنزالعمال جلد 4 صفحه 509 ، اخراج اليهود، حدیث نمبر 11505، مكتبه مؤسسة الرساله)(الاستيعاب في معرفة الاصحاب جلد 4 صفحه 39-40 ، مظهر بن رافع، دارالکتب العلميه بيروت 2002ء) (معجم البلدان جلد 2 صفحه 6 ، دار احياء التراث العربي حضرت مظھر کی شہادت کا واقعہ 120 ہجری میں پیش آیا تھا۔( الكامل في التاريخ لابى الحسن على جلد 2 صفحه 410 ، باب ثم دخلت سنة عشرين، دارالکتب العلميه بیروت 2006ء) پھر اگلے صحابی جن کا ذکر ہے ان کا نام حضرت مالک بن قدامہ ہے۔حضرت مالک بن قدامہ کے والد کا نام قدامہ بن عرفجہ تھا جبکہ ایک روایت کے مطابق ان کے دادا کا نام حارث بھی بیان ہوا ہے۔حضرت مالک یعنی عزہ فجہ کے بجائے حارث بھی کہا جاتا ہے۔حضرت مالک کا تعلق انصار کے قبیلہ اوس کے خاندان بنو غنم سے تھا۔حضرت مالک اپنے ایک بھائی حضرت مُنذر بن قدامہ کے ہمراہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے۔اس کے علاوہ حضرت مالک غزوہ احد میں بھی شریک ہوئے۔( السيرة النبويه لا بن هشام صفحه 466 ، الانصار ومن معهم من بنى غنم، دار الكتب العلمية بيروت 2001ء) (الطبقات الكبرى لابن۔سعد الجزء الثالث صفحه 367 مالك بن قدامه - دار الکتب العلميه بيروت لبنان 1990ء)