خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 386
خطبات مسرور جلد 17 386 30 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 جولائی 2019 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 26 جولائی 2019ء بمطابق 26/ وفا1398 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح (مورڈن، سرے)، یوکے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: آج بھی میں بدری صحابہ کا ذکر ہی کروں گا۔پہلے صحابی جن کا ذکر ہے ان کا نام ہے حضرت مظهر بن رافع دے۔حضرت مظہر کے والد کا نام رافع بن عدی تھا۔حضرت مظہر کا تعلق انصار کے قبیلہ اوس کے خاندان بنو حارثہ بن حارث سے تھا۔حضرت مظہر اور حضرت ظهیر ان دونوں سگے بھائی تھے۔یہ دونوں حضرت رافع بن خد يحرضی اللہ تعالیٰ کے چاتھے۔السيرة النبوية لابن هشام صفحه 324 حاشیه باب اسماء من شهد العقبه دار الكتب العلميه بيروت 2001ء) یعنی حضرت رافع بن خدیج کا بھی ذکر آتا ہے جو بدری صحابی تو نہیں تھے لیکن ان کا بھی تاریخ میں ایک مقام ہے، ان کے یہ چاتھے یعنی بھتیجے کا نام بھی رافع تھا اور باپ کا نام بھی۔حضرت رافع کے بارے میں مختصر یہ بتا دوں کہ یہ وہ صحابی تھے جنہوں نے غزوہ بدر میں جانے کے لیے خود کو پیش کیا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کم عمری کی وجہ سے واپس بھیج دیا تھا اور اُحد کے دن ان کو شامل ہونے کی اجازت دے دی تھی۔حضرت رافع غزوہ احد اور خندق اور دیگر غزوات میں شریک ہوئے تھے۔احد کے دن ایک تیر ان کی ہنسلی کی ہڈی میں لگا تھا۔تیر تو نکال لیا گیا تھا لیکن اس کا اگلا حصہ ان کی وفات تک جسم کے اندر ہی رہا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت رافعح سے فرمایا کہ قیامت کے دن میں تمہارے لیے شہادت دوں گا۔ان کی وفات عبد الملک بن مروان کے دورِ حکومت میں 174 ہجری میں 86 / سال کی عمر میں ہوئی تھی۔(اسدالغابه في معرفة الصحابه لابن اثیر جلد2 صفحه 232-233 ، رافع بن خدیج، دارالکتب العلميه بيروت 2008ء) یہ تو ان کے بھتیجے کا ذکر تھا۔حضرت ظھیر ے کے بارے میں بتاتا ہوں۔امام بخاری نے اس بات کا تذکرہ کیا ہے کہ حضرت ظہیر ، اپنے بھائی کے ہمراہ غزوہ بدر میں شامل ہوئے تھے اور اس بھائی کا نام انہوں نے اپنی کتاب میں درج نہیں کیا۔بخاری کے شارحین نے لکھا ہے کہ حضرت ظهیر دمہ کے بھائی کا نام مظہر تھا۔اسی طرح سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر مشتمل کتاب سُبُلُ الْهُدى والرشاد میں حضرت ظہیر بن رافع کے ضمن میں لکھا ہے کہ بخاری کے مطابق ان کے بھائی حضرت مظہر بھی غزوہ بدر میں شامل ہوئے تھے۔حضرت مھیر میں نے کہا تھا۔حضرت مظہر کا ذکر ہو رہا ہے۔یہ ان کے بارے میں بتارہا ہوں۔صحابہ کے حالات پر مشتمل کتابیں جیسے اُسد الغابہ، الاصابة، الاستیعاب وغیرہ جو ہیں ان میں حضرت مظہر کے حالات کے ضمن میں ان کے غزوہ بدر میں شامل ہونے کا تذکرہ نہیں مانتک ان تینوں کتابوں میں حضرت مظہر کے بارے میں یہ لکھا ہے کہ غزوہ اُحد اور بعد کے تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے