خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 384
خطبات مسرور جلد 17 384 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 19 جولائی 2019 پھر یہ کہتے ہیں کہ 2016ء میں کراچی میں امارات مقامی کا نظام قائم ہوا اور ان کا تقرر امیر کے طور پر ہو گیا۔کہتے ہیں میں امیر صاحب ضلع کے پاس گیا کہ بڑی بھاری ذمہ داری عائد ہو گئی ہے تو انہوں نے مجھے کہا کہ بھاری ذمہ داری تو ہے۔لہذا ہمیشہ یاد رکھیں کہ کبھی کوئی مشکل پیش آئے تو خلیفہ وقت کو دعا کے لیے خط لکھ دیا کریں اور اللہ تعالیٰ پھر فضل فرماتا ہے اور کہا کہ میں بھی یہی کرتا ہوں۔اس لیے بڑی باقاعدگی سے ان کے ہر ہفتے جمعہ سے پہلے اور کراچی کا ہر اہم جو کوئی بھی فنکشن ہو تا یا کوئی واقعہ ہو تا یا چندوں کے سال کے آخر ہوتے تو ضرور دعا کے لیے مجھے لکھا کرتے تھے۔قائد خدام الاحمدیہ بلال حیدر ٹیپو کہتے ہیں کہ امیر صاحب کو سورۃ المؤمنون سے بہت لگاؤ تھا۔اکثر خدام الاحمدیہ کے پروگرام میں تلاوت ہوتی تو مجھے کہتے ، سورۃ المومنون تلاوت کروائیں اور پھر پیار سے نصیحت بھی کرتے کہ اس سورت کو، خاص طور پہ شروع کا حصہ غور سے پڑھا کرو۔کہتے ہیں آج بھی جب میں سوچتا ہوں دل گواہی دیتا ہے کہ انہوں نے اپنی نمازوں کی حفاظت کی، ہر لغویات سے پر ہیز کیا اور انہوں نے ہمیں ایک مثال بن کر دکھایا کہ مومن فلاح کیسے پاسکتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جو دوسری نصیحت مجھے یاد ہے وہ یہ کہ ایک دن مجھے اکیلے میں انہوں نے پیار سے کہا کہ میری زندگی کا یہ نچوڑ ہے کہ ہر ہفتے خلیفہ وقت کو خط ضرور لکھا کرو اور بڑے پیار سے مجھے یہ بات سمجھائی اور کہتے ہیں میں بھی اس سے فائدہ اٹھا رہا ہوں۔خلافت کی اطاعت حقیقت میں بہت زیادہ تھی اور بڑا احترام تھا۔خاندان کا ہی ایک فنکشن تھاوہاں کچھ ایسی باتیں ہوئیں جو مجھے پتا لگیں، میں نے ان کو بھی لکھا کہ آپ بھی وہاں موجود تھے اور اس طرح نہیں ہونا چاہیے تھا۔مجھے امید نہیں تھی۔اس پر ان کا خط آیا۔اور پہلے تو معافی کا خط تھا۔اس کے بعد انہوں نے مجھے لکھا کہ مجھے اس بات پہ خوشی بھی ہوئی کہ ہم آزاد نہیں ہیں۔ہمیں کوئی احساس دلانے والا ہے ، ہماری کوئی تربیت کرنے والا ہے اور ساتھ ہی انہوں نے میرا بڑا شکر یہ بھی ادا کیا۔رشتے میں بڑے تھے۔رشتے کا تعلق تھا۔خلافت سے پہلے میرا ان سے کافی احترام کا جو رشتہ تھا وہ تو قائم تھا ہی لیکن میرے خلیفة المسیح منتخب ہونے کے بعد انہوں نے انتہائی عاجزی سے بلکہ جب میں ناظر اعلیٰ ہو ا ہوں، حضرت خلیفہ رابع نے مقرر کیا تو اس وقت بھی بڑی عاجزی سے انہوں نے نظام کا احترام کرتے ہوئے میری عزت کی اور ہر طرح سے انہوں نے وفا اور عزت کا سلوک کیا۔اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحمت کا سلوک فرمائے ان کے درجات بلند فرمائے۔ان کے بچوں کو بھی ان کی نیکیاں جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔دوسر اجنازہ جو ہے وہ خلیفہ عبد العزیز صاحب نائب امیر جماعت کینیڈا کا ہے جو 19 جولائی کو حرکت قلب بند ہو جانے کی وجہ سے 84 سال کی عمر میں وفات پاگئے۔اِنَّا لِلهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رجِعُوْنَ۔ان کا تعلق جموں کشمیر کے مشہور احمدی خلیفہ خاندان سے تھا۔ان کے والد حضرت خلیفہ عبد الرحیم صاحب دادا حضرت خلیفہ نور الدین صاحب جموئی اور نانا حضرت عمر بخش صاحب تینوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے۔