خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 383 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 383

خطبات مسرور جلد 17 383 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 19 جولائی 2019 تھے۔بہت متحمل مزاج تھے۔بردبار شخصیت کے حامل تھے۔انکسار والی طبیعت تھی۔شخصیت کا ایک نمایاں پہلوان کا انکسار تھا۔بڑا ہو یا چھوٹا، امیر ہو یا غریب، تعلیم یافتہ ہو یا ان پڑھ ہر ایک کے ساتھ نہایت محبت سے ملتے تھے اور توجہ سے ان کی بات سنتے تھے۔پھر مشورے سے نوازتے تھے اور ہر ایک آنے والے کو چاہے چھوٹا ہو بڑا ہو یہ کرسی سے اٹھ کے ملا کرتے تھے۔جماعتی ذمہ داریوں کو ادا کرنے اور روزانہ رات دیر تک دفتر میں بیٹھ کر کئی گھنٹے اپنے جماعتی مفوضہ امور سر انجام دیتے تھے۔اپنے دفتر سے سیدھے جماعت کے دفتر میں آتے تھے اور پھر رات دس بجے تک بیٹھتے تھے۔پھر جماعت کے بچوں اور نوجوانوں کو حصولِ تعلیم کے لیے راغب کرنے کی بہت کوشش کرتے تھے۔بحیثیت امیر آپ ہر شعبہ کے سیکرٹری سے نیز صدران حلقہ جات سے ذاتی رابطہ رکھتے تھے اور گاہے بگاہے ان کے شعبہ جات کے کاموں میں ان کی رہنمائی کیا کرتے تھے۔صدر انصار اللہ پاکستان لکھتے ہیں کہ جماعت کی تعلیم اور تربیت کے لیے بڑے (فکر مند ) رہتے تھے۔کہتے ہیں ایک مرتبہ میں دورے پر وہاں گیا، عہدیداروں کا ریفریشر کورس تھا تو میرے پاس آئے اور بڑے درد سے مجھے کہا کہ آپ ریفریشر کورس کے لیے کراچی آئے ہیں میں آپ کو صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آج فجر کی نماز پر مسجد میں صرف ہم تین انصار تھے جبکہ مسجد کے قریب بہت سے گھر ہیں اور گاڑیاں بھی ہر ایک کے پاس ہیں۔آسانی سے نماز فجر پہ آسکتے ہیں اور پھر انہوں نے کہا کہ اس میٹنگ میں سارے عہدیداران آئے ہوئے ہیں آپ ان کو سمجھائیں کہ اولاً اپنے اندر نیک اور پاک تبدیلیاں پیدا کریں اور عبادت کی طرف خصوصی توجہ کریں۔پھر اپنی اولادوں اور نوجوان نسل کی تعلیم و تربیت کی بھی فکر کریں۔کہتے ہیں جب یہ بات کر رہے تھے تو ان کے اندر ایک درد تھا۔پھر ایک خاتون نے لکھا ہے کہ ہم انڈیا جا رہے تھے۔قادیان جارہے تھے تو ہر ایک کے پاس کچھ نہ کچھ انڈین کرنسی تھی اور پہلے ہمیں یہی تھا کہ لے جانے کی اجازت ہے لیکن بعد میں کہا گیا کہ نہیں ہے تو ہر ایک کو فارم پر کرنے کے لیے دیا گیا۔انڈین امیگریشن کے ایک کارکن نے انہیں بتایا کہ کرنسی لے جانے کی اجازت تو نہیں ہے مگر اگر آپ غلطی سے لے آئے ہیں تو کوئی بات نہیں۔اس فارم میں اس کا ذکر نہ کریں اور لے جائیں لیکن امیر صاحب نے ان کی بات نہیں مانی اور فارم میں اپنے پاس موجود جو ان کی رقم تھی تھوڑی رقم نہیں تھی تقریباً پچیس تیس ہزار روپے تھے ، اس کو declare کر دیا۔امیگریشن کے اس کار کن نے دوبارہ کہا کہ یہ یہاں نہ لکھیں ورنہ ہم قانون کی رو سے اس رقم کو ضبط کرنے پر مجبور ہیں۔پھر بھی آپ نے فارم میں پوری دیانت داری سے یہ رقم declare کی اور پھر ان کو خوشی سے ساری رقم دے دی کہ ٹھیک ہے تم اس کو ضبط کرو۔کسی بھی قسم کی آسانی سے فائدہ نہ اٹھایا۔اور جیسا کہ میں نے ذکر کیا خدام نے بھی لکھا کہ بڑی خاص توجہ ہم پر ہوتی تھی۔ڈیوٹی دینے والوں کا شکریہ ادا کرتے تھے اور اس طرح شکر گزار ہوتے تھے جس طرح ہم نے ان پر بہت احسان کیا ہے۔امتیاز حسین شاہد صاحب کراچی کے ڈرگ روڈ کے امیر ہیں کہتے ہیں کہ اگر میں ان کی شخصیت کو ایک کوزے میں بند کرنے کی کوشش کروں تو جو صفات سامنے آئیں گی وہ یہ ہیں عاجزی اور انکساری، عشق خلافت اور احترام نظام جماعت۔