خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 23
خطبات مسرور جلد 17 23 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 جنوری 2019 اس عہد پر قائم رہے تو تمہیں جنت نصیب ہو گی اور اگر کمزوری دکھائی تو پھر تمہارا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے وہ جس طرح چاہے گا کرے گا۔یہ بیعت تاریخ میں بیعت عقبہ اولیٰ کے نام سے مشہور ہے کیونکہ وہ جگہ جہاں بیعت لی گئی تھی عقبہ کہلاتی ہے جو مکہ اور منی کے درمیان واقع ہے۔عقبہ کے لفظی معنی بلند پہاڑی رستے کے ہیں۔مکہ سے رخصت ہوتے ہوئے ان بارہ کو مسلمین نے درخواست کی کہ کوئی اسلامی معلم ہمارے ساتھ بھیجا جائے جو ہمیں اسلام کی تعلیم دے اور ہمارے مشرک بھائیوں کو اسلام کی تبلیغ کرے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مُصْعَب بن عمیر کو جو قبیلہ عبد الدار کے ایک نہایت مخلص نوجوان تھے ان کے ساتھ روانہ کر دیا۔اسلامی مبلغ ان دنوں میں قاری یا مقری کہلاتے تھے کیونکہ ان کا کام زیادہ تر قرآن شریف سنانا تھا کیونکہ یہی تبلیغ کا ایک بہترین ذریعہ تھا۔چنانچہ مصعب بھی یثرب گئے تو یثرب میں مقری کے نام سے مشہور ہو گئے۔بیعت عقبہ ثانیہ جو تھی یہ 13 نبوی میں ہوئی تھی اور اس میں ستر انصار نے بیعت کی تھی۔(ماخوذ از سیرت خاتم النبیین از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے صفحہ 221 تا 227،225) حضرت عقبہ بن عامر نے غزوہ بدر، احد اور خندق سمیت تمام غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شرکت کی۔آپ غزوہ اُحد کے دن خود میں سبز رنگ کے کپڑے کی وجہ سے پہچانے جارہے تھے۔آپ حضرت ابو بکر کے دور خلافت میں بارہ ہجری میں جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔الطبقات الكبری جلد 3 صفحہ 428 عُقبہ بن عامر مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) حضرت عقبہ بن عامر بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے بیٹے کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ ابھی وہ نو عمر لڑکا تھا۔میں نے عرض کیا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، میرے بیٹے کو دعائیں سکھائیں جن کے ذریعہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کیا کرے اور اس پر شفقت فرمائیں۔آپ نے فرمایا اے لڑکے ! کہو کہ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَلُكَ صِحَّةً فِي اِيْمَانٍ وَاِيْمَانًا فِي حُسْنِ خُلُقٍ وَ صَلَاحًا يَتْبَعُهُ نَجَاحٌ (اسد الغابه جلد 4 صفحه 52 عُقبه بن عامر مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) کہ اے اللہ ! میں تجھ سے حالت ایمان میں صحت طلب کرتا ہوں اور ایمان کے ساتھ حسن خلق کی دعا کرتا ہوں اور صلاح کے بعد کامیابی چاہتا ہوں۔اللہ تعالیٰ ان صحابہ کے درجات بلند فرماتا چلا جائے۔اب اس کے بعد میں امریکہ کی ایک بہت پرانی بزرگ احمدی کا ذکر کروں گا اور پھر ان کا جنازہ بھی جمعہ کے بعد پڑھاؤں گا۔ان کا نام تھا سسٹر عالیہ شہید صاحبہ اور یہ احمد شہید صاحب مرحوم کی اہلیہ تھیں۔26 دسمبر کو ان کی وفات ہوئی۔اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی لمبی عمر عطا فرمائی اور کام کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔معذوری سے بھی بچایا۔105 سال کی ان کی عمر تھی۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُوْنَ۔امیر صاحب امریکہ نے ان کے بارے میں لکھا ہے کہ ان کو 1936ء میں بیعت کرنے کی سعادت عطا ہوئی اور آپ نے 1963ء سے 1966ء تک بطور صدر لجنہ امریکہ خدمت کی توفیق پائی۔اسی طرح مرحومہ کو لجنہ اماء اللہ امریکہ میں پچاس سال پر محیط ایک لمبا عرصہ بطور جنرل سیکرٹری، سیکرٹری مال، سیکرٹری تعلیم،