خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page iv of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page iv

خطبات مسرور جلد 17 2 پیش لفظ مسجد مبارک کی تعمیر و افتتاح کا تاریخی تذکرہ بھی ہے۔آیت استخلاف کی عرفان انگیز تفسیر اور عہدیداران کے فرائض اور اطاعت کا ذکر ہے۔رمضان کے روزوں کی اہمیت اور جمعہ کے فضائل اور جمعۃ الوداع کے غلط تصور کی تردید کا بیان ہے۔جلسہ سالانہ کی اہمیت ، اور جرمنی جلسہ اور یو کے جلسہ کے حوالہ سے تفصیل کا بیان ہے۔اسی طرح حضور انور ایدہ اللہ کے دورہ یورپ اور جلسہ سالانہ ہالینڈ میں بنفس نفیس شرکت اور مساجد کا افتتاح مذکورہے۔مختلف مقامات پر قرآن کریم کی تفسیر ، احادیث نبویہ کی تشریح اور حضرت خاتم الانبیاء محمد مصطفی صلی علیکم کی سیرت کا پاکیزہ معطر تذکرہ بھی ہے۔اور خاص طور پر جنگ بدر میں شامل ہونے والے عشق وفا کے پیکر جاں نثار صحابہ کی سیرت و سوانح کا مسلسل بیان ہے۔جو کسی بھی خلیفہ کی جانب سے اتنی تفصیل کے ساتھ پہلی بار ہو رہا ہے۔اور اس کے ساتھ ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس الہام کو بھی پورا کرنے والا ہے کہ ”جنگ بدر کا قصہ مت بھولو“ دنیا بھر میں دہشت گردی کی مذمت کے علاوہ دہشت گردی کے اسباب کا بڑی گہرائی میں جاکر بڑی جرات کے ساتھ اظہار بھی ہے۔ہمارا امام ہر احمدی کو اس کا مقام اور اس کے فرائض بھی یاد دلا تا ہوا نظر آتا ہے۔خلافت جیسی عظیم نعمت کی قدر کرنے اور اس کے مقام کو سمجھنے کے سلیقے بیان کر تا ہوا بھی نظر آتا ہے۔نیوزی لینڈ کی ایک مسجد میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعہ مذمت بھی ہے اور وہاں کی حکومت کے رد عمل پر داد تحسین بھی ہے۔اس درد ناک سانحہ کا ذکر کرتے ہوئے حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا: ”کئی بے گناہ اور معصوم اور بچے مذہبی اور قومی منافرت کی بھینٹ چڑھ گئے اور شہید کیے گئے۔اللہ تعالیٰ ان سب پر رحم فرمائے۔ان سے رحم کا سلوک فرمائے اور ان کے لواحقین کو صبر عطا فرمائے۔۔۔نیوزی لینڈ کی حکومت نے اور خاص طور پر وزیر اعظم نے جن اعلیٰ ترین اخلاق کا مظاہرہ کیا ہے اور حکومت کے فرائض ادا کرنے کا حق ادا کیا ہے وہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔کاش کہ مسلمان حکومتیں بھی اس سے سبق لیں اور مذہبی منافرت کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے والی ہوں۔۔۔وہاں مسجد میں بہت سے لوگ جو مسلمان تھے جن کو اس ظالم قاتل نے شہید کیا ان میں سے ایک خاتون کا ٹی وی پر انٹرویو آرہا تھا اور غیر معمولی صبر اور حوصلہ اس نے دکھایا۔ان کا خاوند بھی اور 21 سالہ نوجوان بیٹا بھی اس کی بھینٹ چڑھ گئے۔اور وہ اس طرح کہ لوگوں کی مدد کرتے ہوئے انہوں نے اپنی جان دی ہے تو بہر حال ایک نیکی کی خاطر اور نیک مقصد کی خاطر جان دی۔اللہ تعالیٰ ان سے رحم کا سلوک فرمائے۔“ ناشر