خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 22
خطبات مسرور جلد 17 22 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 جنوری 2019 تھے۔مگر اس خدا کی نصرت کے وعدوں پر کامل اعتما در کھتے ہوئے جس نے اسے رسول بنا کر بھیجا تھا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے عزم کے ساتھ اپنی جگہ پر کھڑا تھا، ولیم میور لکھتا ہے، کہ جسے کوئی چیز اپنی جگہ سے ہلا نہیں سکتی تھی۔یہ نظارہ ایک ایسا شاندار منظر پیش کرتا ہے جس کی مثال سوائے اسرائیل کی اس حالت کے اور کہیں نظر نہیں آتی کہ جب اس نے مصائب و آلام میں گھر کر خدا کے سامنے یہ الفاظ کہے تھے کہ اے میرے آقا! اب تو میں ہاں صرف میں ہی اکیلا رہ گیا ہوں۔پھر لکھتا ہے کہ نہیں بلکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ نظارہ اسرائیلی نبیوں سے بھی ایک رنگ میں بڑھ کر تھا۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ اسی موقعہ پر کہے گئے تھے کہ اے میری قوم کے صنادید ! تم نے جو کچھ کرنا ہے کر لو۔میں بھی کسی امید پر کھڑا ہوں۔بہر حال اسلام کے لئے یہ ایک بہت نازک موقع تھا۔مکہ والوں کی طرف سے تو مکمل طور پر ایک ناامیدی ہو چکی تھی مگر مدینہ میں یہ جو بیعت کر کے گئے تھے ان کی وجہ سے بھی امید کی کرن پید اہو رہی تھی۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بڑی توجہ کے ساتھ اس طرف نظر ، نگاہ لگائے ہوئے تھے کہ آیا مدینہ بھی مکہ اور طائف کی طرح آپ کو رڈ کرتا ہے یا اس کی قسمت دوسرے رنگ میں لکھی ہے۔چنانچہ جب حج کا موقع آیا تو آپ بڑے شوق کے ساتھ اپنے گھر سے نکلے اور مٹی کی جانب عقبہ کے پاس پہنچ کر ادھر ادھر نظر دوڑائی تو آپ کی نظر اچانک اہل بیثرب کی ایک چھوٹی سی جماعت پر پڑی جنہوں نے آپ کو دیکھ کر فورا پہچان لیا اور نہایت محبت اور اخلاص سے آگے بڑھ کر آپ کو ملے۔اس دفعہ یہ بارہ اشخاص تھے جن میں سے پانچ تو وہی گزشتہ سال کے مصدقین تھے اور سات نئے تھے اور اوس اور خزرج دونوں قبیلوں میں سے تھے۔ان کے نام یہ ہیں۔1- أبو أمامه اسعد بن زرارہ 2۔عوف بن حارث۔3۔رافع بن مالک 4۔قطبہ بن عامر۔5۔عقبہ بن عامر۔عقبہ بن عامر جن کی سیرت بیان ہو رہی ہے یہ اس دفعہ بھی دوبارہ حج کے لئے آئے۔6۔معاذ بن حارث۔یہ قبیلہ بنی نجار سے تھے اور 7۔ذکوان بن عبد میں قبیلہ بنو زریق سے تھے۔8۔ابو عبد الرحمن یزید بن ثعلبہ از بنی بلی اور و۔عُبادہ بن صامت از بنی عوف۔وہ خزرج قبیلہ کے بنی بلی سے تھے اور یہ بنی عوف سے تھے۔10۔عباس بن عبادہ بن نضلہ۔یہ بنی سالم میں سے تھے۔11۔ابو الہیثم بن تینان یہ بنی عبد الا شکل کے تھے اور 12۔عویم بن ساعدہ یہ اوس قبیلے کے بنی عمرو بن عوف سے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے الگ ہو کر ایک گھائی میں ان بارہ افراد سے ملے تھے۔انہوں نے میثرب کے حالات سے اطلاع دی اور اب کی دفعہ سب نے باقاعدہ آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔یہ بیعت مدینہ میں اسلام کے قیام کی بنیاد، قیام کا بنیادی پتھر ہے۔اس سے بنیاد پڑی۔چونکہ اب تک جہاد بالسیف فرض نہیں ہو ا تھا اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے صرف ان الفاظ میں بیعت لی تھی جن میں آپ جہاد فرض ہونے کے بعد عورتوں سے بیعت لیا کرتے تھے یعنی یہ کہ ہم خدا کو ایک جانیں گے۔شرک نہیں کریں گے۔چوری نہیں کریں گے۔زنا کے مرتکب نہیں ہوں گے۔قتل سے باز رہیں گے۔کسی پر بہتان نہیں باندھیں گے اور ہر نیک کام میں آپ کی اطاعت کریں گے۔بیعت کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم صدق و ثبات کے ساتھ