خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 21 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 21

خطبات مسرور جلد 17 21 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 جنوری2019 حارث یہ بھی بنو نجار سے تھے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا عبد المطلب کے ننھیال کے قبیلہ سے تھے۔3۔رافع بن مالک جو بنو زُریق سے تھے۔اب تک جو قرآن شریف نازل ہو چکا تھا وہ اس موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو عطا فرمایا۔4۔قبہ بن عامر جو بنی سلمہ سے تھے۔5۔عقبہ بن عامر جو بنی حرام سے تھے ، ( یہ انہیں کا ذکر ہو رہا ہے۔اس سارے واقعہ میں )، یہ عقبہ بن عامر بدری صحابی تھے۔اور 6۔جابر بن عبد اللہ بن رئاب جو بنی عبید سے تھے۔اس کے بعد یہ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے رخصت ہوئے اور جاتے ہوئے عرض کیا کہ ہمیں خانہ جنگیوں نے بہت کمزور کر رکھا ہے۔ہم میں آپس میں بہت نا اتفاقیاں ہیں۔ہم یثرب میں جا کر اپنے بھائیوں میں اسلام کی تبلیغ کریں گے۔کیا عجب کہ اللہ تعالیٰ آپ کے ذریعے ہم کو پھر جمع کر دے۔پھر ہم ہر طرح آپ کی مدد کے لئے تیار ہوں گے۔چنانچہ یہ لوگ گئے اور ان کی وجہ سے یثرب میں اسلام کا چرچا ہونے لگا۔یہ سال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں بیشرب والوں کی طرف سے ظاہری اسباب کے لحاظ سے ایک بیم و رجا کی حالت میں گزارا۔آپ اکثر یہ خیال کیا کرتے تھے کہ دیکھیں ان کا کیا انجام ہو تا ہے اور آیا یثرب میں کامیابی کی کوئی امید بندھتی ہے یا نہیں۔مسلمانوں کے لئے بھی یہ زمانہ ظاہری حالات کے لحاظ سے ایک بیم ورجا کا زمانہ تھا۔کبھی امید کی کرن ہوتی تھی۔کبھی مایوسی ہوتی تھی۔وہ دیکھتے تھے کہ سرداران مکہ اور رؤسائے طائف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کو سختی کے ساتھ رڈ کر چکے ہیں۔دیگر قبائل بھی ایک ایک کر کے اپنے انکار پر مہر لگا چکے تھے۔مدینہ میں امید کی ایک کرن پیدا ہوئی تھی مگر کون کہہ سکتا تھا کہ یہ کرن مصائب و آلام کے طوفان اور شدائد کی آندھیوں میں قائم رہ سکے گی۔دوسری طرف مکہ والوں کے مظالم دن بدن زیادہ ہو رہے تھے اور انہوں نے اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیا تھا کہ اسلام کو مٹانے کا بس یہی وقت ہے مگر اس نازک وقت میں بھی جس سے زیادہ نازک وقت اسلام پر کبھی نہیں آیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے مخلص صحابی ایک مضبوط چٹان کی طرح اپنی جگہ پر قائم تھے اور آپ کا یہ عزم و استقلال بعض اوقات آپ کے مخالفین کو بھی حیرت میں ڈال دیتا تھا کہ یہ شخص کس قلبی طاقت کا مالک ہے کہ کوئی چیز اسے اپنی جگہ سے ہلا نہیں سکتی۔بلکہ اس زمانہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ میں خاص طور پر ایک رعب اور جلال کی کیفیت پائی جاتی تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی بات کرتے تھے تو آپ کی باتوں میں بڑار عب اور جلال ہو تا تھا اور مصائب کے ان تند طوفانوں میں آپ کا سر اور بھی بلند ہو تا جاتا تھا۔یہ نظارہ اگر ایک طرف قریش مکہ کو حیران کر تا تھاتو دوسری طرف ان کے دلوں پر کبھی کبھی لرزہ بھی ڈال دیتا تھا۔ان ایام کے متعلق سرولیم میور نے بھی لکھا ہے کہ : ان ایام میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم کے سامنے اس طرح سینہ سپر تھا کہ انہیں بعض اوقات حرکت کی تاب نہیں ہوتی تھی۔اپنی بالآخر فتح کے یقین سے معمور مگر بظاہر بے بس اور بے یار و مددگار وہ اور اس کا چھوٹا سا گروہ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کا چھوٹا سا گر وہ چند مسلمان اس زمانہ میں گویا ایک شیر کے منہ میں