خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 20 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 20

علیہ و رور جلد 17 20 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 جنوری 2019 یہ وسلم حسب دستور مکہ میں اشہر حرام کے اندر قبائل کا دورہ کر رہے تھے کہ آپ کو معلوم ہوا کہ میثرب کا ایک مشہور سويد بن صامت مکہ میں آیا ہوا ہے۔سوید مدینہ کا ایک مشہور شخص تھا اور اپنی بہادری اور نجابت اور دوسری خوبیوں کی وجہ سے کامل کہلا تا تھا اور شاعر بھی تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کا پتہ لیتے ہوئے اس کے ڈیرے پر پہنچے اور اسے اسلام کی دعوت دی۔اس نے کہا کہ میرے پاس بھی ایک خاص کلام ہے جس کا نام مجله لقمان ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ جو کلام تمہارے پاس ہے مجھے بھی اس کا کوئی حصہ سناؤ۔جس پر سوید نے اس صحیفہ کا ایک حصہ آپ کو سنایا۔آپ نے اس کی تعریف فرمائی یعنی جو کچھ سنایا گیا تھا کہ اس میں اچھی باتیں ہیں۔مگر فرمایا کہ میرے پاس جو کلام ہے وہ بہت بالا اور ارفع ہے، بہت اونچے مقام کا ہے۔چنانچہ پھر آپ نے اسے قرآن شریف کا ایک حصہ سنایا۔جب آپ ختم کر چکے تو اس نے کہا ہاں واقعی یہ بہت اچھا کلام ہے۔اور گو وہ مسلمان نہیں ہوا مگر اس نے فی الجملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی اور آپ کو جھٹلایا نہیں۔لیکن افسوس ہے کہ مدینہ میں واپس جا کر اسے زیادہ مہلت نہیں ملی اور وہ جلد ہی کسی ہنگامہ میں قتل ہو گیا۔یہ جنگ بعاث سے پہلے کی بات ہے۔اس کے بعد اسی زمانہ کے قریب یعنی جنگ بعاث سے قبل آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر ایک دفعہ حج کے موقع پر قبائل کا دورہ کر رہے تھے کہ اچانک آپ کی نظر چندا جنبی آدمیوں پر پڑی۔یہ قبیلہ اوس کے تھے اور اپنے بت پرست رقیبوں یعنی خزرج کے خلاف قریش سے مدد طلب کرنے آئے تھے۔یہ بھی جنگ بعاث سے پہلے کا واقعہ ہے۔گویا یہ طلب مدد اسی جنگ کی تیاری کا ایک حصہ تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے اور اسلام کی دعوت دی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تقریر سن کر ایک نوجوان شخص جس کا نام ایاسن تھا بے اختیار بول اٹھا کہ خدا کی قسم ! جس طرف یہ شخص یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو بلاتا ہے وہ اس سے بہتر ہے جس کے لئے ہم یہاں آئے ہیں۔یعنی جنگ کے لئے مدد طلب کرنے کی بجائے بہتر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہمارار جوع ہو۔مگر اس گروہ کے سردار نے ایک کنکروں کی مٹھی اٹھا کر اس کے منہ پر ماری اور کہا چپ رہو۔ہم اس کام کے لئے یہاں نہیں آئے اور اس طرح اس وقت یہ معاملہ یوں ہی دب کر رہ گیا۔مگر لکھا ہے کہ ایاس جب وطن واپس گیا، جب فوت ہونے لگا تو اس کی زبان پر کلمہ توحید جاری تھا۔اس کے کچھ عرصہ بعد جب جنگ بعاث ہو چکی تو 11 نبوی کے ماہ رجب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مکہ میں یثرب والوں سے پھر ملاقات ہوئی۔یہ نبوت کے گیارھویں سال کی بات ہے۔آپ نے حسب و نسبہ پوچھا تو معلوم ہوا کہ قبیلہ خزرج کے لوگ ہیں اور یثرب سے آئے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت محبت کے لہجہ میں کہا " کیا آپ لوگ میری کچھ باتیں سن سکتے ہیں ؟ انہوں نے کہاہاں ! آپ کیا کہتے ہیں ؟ آپ بیٹھ گئے اور ان کو اسلام کی دعوت دی اور قرآن شریف کی چند آیات سنا کر اپنے مشن سے آگاہ کیا۔ان لوگوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور کہا یہ موقع ہے۔ایسا نہ ہو کہ یہود ہم سے سبقت لے جائیں۔یہ کہہ کر سب مسلمان ہو گئے۔یہ چھ اشخاص تھے جن کے نام یہ ہیں: 1۔ابو امامہ اسعد بن زرارہ جو بنو نجار سے تھے اور تصدیق کرنے میں سب سے اول تھے۔2۔عوف بن