خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 19 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 19

خطبات مسرور جلد 17 19 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 جنوری 2019 نے ان لوگوں کو جنہوں نے کفر کیا ان کے غیض سمیت اس طرح لوٹا دیا کہ وہ کوئی بھلائی حاصل نہ کر سکے اور اللہ مومنوں کے حق میں قتال میں کافی ہو گیا اور اللہ بہت قوی اور کامل غلبہ والا ہے۔حضرت عائشہ نے دریافت کیا کہ اونٹنی پر کون کون ہیں ؟ تب حضرت ہند نے بتایا کہ میر ابھائی ہے، میرا بیٹا خلاف ہے اور میرے شوہر عمرو بن جموح ہیں۔حضرت عائشہ نے دریافت کیا کہ تم انہیں کہاں لئے جاتی ہو ؟ انہوں نے عرض کیا کہ انہیں مدینہ میں دفن کرنے کے لئے لے جارہی ہوں۔پھر وہ اپنے اونٹ کو ہانکنے لگیں تو اونٹ وہیں زمین پر بیٹھ گیا۔حضرت عائشہ نے فرمایا کہ اس پر وزن زیادہ ہے۔جس پر حضرت ہند کہنے لگیں کہ یہ تو دو اونٹوں جتناوزن اٹھالیتا ہے لیکن اس وقت یہ اس کے بالکل الٹ کر رہا ہے۔پھر انہوں نے اونٹ کو ڈانٹا تو وہ کھڑا ہو گیا۔جب انہوں نے اس کا رخ مدینہ کی طرف کیا تو وہ پھر بیٹھ گیا۔پھر جب انہوں نے اس کا رخ اُحد کی طرف پھیرا تو اونٹ جلدی جلدی چلنے لگا۔پھر حضرت ہند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعہ کی خبر دی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ اونٹ مامور کیا گیا ہے یعنی اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف اسی کام پر لگایا گیا تھا کہ یہ مدینہ کی طرف نہ جائے بلکہ اُحد کی طرف ہی رہے۔فرمایا کہ کیا تمہارے شوہر نے جنگ پر جانے سے پہلے کچھ کہا تھا؟ کہنے لگیں جب عمر و اُحد کی جانب روانہ ہونے لگے تھے تو انہوں نے قبلہ رُخ ہو کر یہ کہا تھا کہ اے اللہ مجھے میرے اہل کی طرف شر مندہ کر کے نہ لوٹانا اور مجھے شہادت نصیب کرنا۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسی وجہ سے اونٹ نہیں چل رہا تھا۔فرمایا کہ اے انصار کے گروہ ! تم میں سے بعض ایسے نیکو کار لوگ ہیں کہ اگر وہ خدا کی قسم کھا کر کوئی بات کریں تو خدا تعالیٰ ان کی وہ بات ضرور پوری کرتا ہے اور عمروبن جموح بھی ان میں سے ایک ہیں۔پھر آپ نے عمرو بن جموح کی بیوی کو فرمایا کہ اے ہند ! جس وقت سے تیر ابھائی شہید ہوا ہے اس وقت سے فرشتے اس پر سایہ کئے ہوئے ہیں اور انتظار میں ہیں کہ اسے کہاں دفن کیا جائے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان شہداء کی تدفین تک وہیں رکے رہے۔پھر فرمایا اے ہند ! عمرو بن جموح، تیرا بیٹا خلاڈ اور تیر ابھائی عبد اللہ جنت میں باہم دوست ہیں۔اس پر ہند نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میرے لئے بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ان کی رفاقت میں پہنچا دے۔(کتاب المغازی جلد اوّل صفحہ 232-233 غزوة أحد مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2013ء) دوسرے صحابی جن کا ذکر ہو گا وہ حضرت عقبہ بن عامر ہیں۔ان کی والدہ کا نام فكيهه بنت سكن تھا اور والد عامر بن نائ تھے۔ان کی والدہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت سے مشرف ہوئیں۔حضرت عقبہ بن عامر ان چھ انصار میں سے تھے جو سب سے پہلے مکہ میں ایمان لائے اور بعد میں آپ بیعت عقبہ اولیٰ میں بھی شامل ہوئے۔الطبقات الكبری جلد 3 صفحہ 428 عُقبہ بن عامر مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) الطبقات الكبرى جلد 8 صفحه 301 فكيهه بنت السكن مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) اس کی کچھ تفصیل حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے سیرة خاتم النبیین میں لکھی ہے کہ کس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کوششوں سے مدینہ میں اسلام کا پیغام پہنچا تھا۔فرماتے ہیں: اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ