خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 18
خطبات مسرور جلد 17 18 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 جنوری 2019 لازماً اس میں شامل ہوں گا۔پھر اولاد نے ان کو اُن کی معذوری کے حوالے سے روکنا چاہا تو یہ خود آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ میں خود ہی حضور سے اجازت لے لوں گا۔چنانچہ وہ حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میرے بیٹے اس دفعہ پھر مجھے جہاد سے روکنا چاہتے ہیں۔پہلے بدر میں روکا تھا۔اب اُحد میں بھی جانے نہیں دیتے۔میں آپ کے ساتھ اس جہاد میں شامل ہونا چاہتا ہوں۔پھر انہوں نے کہا کہ خدا کی قسم ! میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میری دلی مراد قبول کرے گا اور مجھے شہادت عطا فرمائے گا اور میں اپنے اسی لہ لنگڑے پاؤں کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤں گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عمرو! بیشک اللہ تعالیٰ کو آپ کی معذوری قبول ہے اور جہاد آپ پہ فرض نہیں ہے لیکن ان کے بیٹوں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ ان کو نیک کام سے نہ روکو۔ان کی دلی تمنا اگر ایسی ہے تو پھر اسے پورا کرنے دو شاید اللہ تعالیٰ انہیں شہادت عطا فرما دے۔چنانچہ حضرت عمرو نے اپنے ہتھیار لئے اور یہ دعا کرتے ہوئے میدان اُحد کی طرف روانہ ہوئے کہ۔اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي شَهَادَةَ وَلَا تَرُكَّنِي إِلَى أَهْلِي خَائِبًا۔کہ اے اللہ! مجھے شہادت عطا کرنا اور مجھے اپنے گھر کی طرف ناکام و نامراد واپس لے کر نہ آنا۔اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی دعا کو قبول کیا اور انہوں نے وہاں جام شہادت نوش کیا۔(اسد الغابه جلد 4 صفحه 195-196- خَلَّادُ بن عمرو مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) حضرت علاؤ کی والدہ حضرت ہند بنت عمر و ( ان کے والد کا نام بھی عمر و تھا اور خاوند کا نام بھی) حضرت جابر بن عبد اللہ کی پھوپھی تھیں۔غزوہ اُحد میں حضرت ہند نے اپنے خاوند ، اپنے بیٹے اور اپنے بھائی کو شہادت کے بعد اونٹ پر لادا۔پھر جب ان کے متعلق حکم ہوا تو انہیں واپس اُحد لوٹایا گیا اور وہ وہیں اُحد میں دفن کئے گئے۔(الاصابة في تمييز الصحابة جلد 2 صفحه 287 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1995ء) جب پتہ لگا ہے کہ شہید ہو گئے ہیں تو یہ تینوں کو پہلے مدینہ لانے کے لئے لے کر آئی تھیں، لیکن پھر واپس لے گئیں اور اس کی تفصیل بھی آگے بیان ہوئی ہے۔یہ خدا تعالیٰ کی مرضی تھی کہ اُحد کے یہ شہداء احمد میں ہی دفن ہوں۔اس واقعہ کی تفصیل اس طرح ملتی ہے کہ حضرت عائشہ غزوہ اُحد کے بارہ میں خبر لینے کے لئے مدینہ کی عورتوں کے ساتھ گھر سے باہر نکلیں۔اس وقت تک پر دے کے احکام نازل نہیں ہوئے تھے۔جب آپؐ ، (حضرت عائشہ ) حرہ کے مقام تک پہنچیں تو آپ کی ملاقات ہند بنت عمرو سے ہوئی جو کہ حضرت عبد اللہ بن عمرو کی ہمشیرہ تھیں۔حضرت ہند اپنی اونٹنی کو ہانک رہی تھیں۔اس اونٹنی پر آپ کے شوہر حضرت عمرو بن جموح، بیٹے حضرت غلاذ بن عمرو اور بھائی حضرت عبد اللہ بن عمرو کی نعشیں تھیں۔جب حضرت عائشہ نے میدان جنگ کی خبر لینے کی کوشش کی تو حضرت عائشہ نے ان سے پوچھا کہ کیا تمہیں کچھ خبر ہے کہ تم پیچھے لوگوں کو کس حال میں چھوڑ آئی ہو ؟ اس پر حضرت ہند نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بخیریت ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہر مصیبت آسان ہے ، جب آپ خیریت سے ہیں تو پھر کوئی ایسی بات نہیں۔اس کے بعد حضرت ہند نے یہ آیت پڑھی۔وَرَدَّ اللهُ الَّذِينَ كَفَرُوا بِغَيْظِهِمْ لَمْ يَنَالُوا خَيْرًا وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ وَكَانَ اللهُ قَوِيًّا عَزِيزًا (الاحزاب:26) یعنی اور اللہ