خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 17 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 17

خطبات مسرور جلد 17 17 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 جنوری 2019 حضرت خَلاذ بن عمرو کہتے ہیں کہ جب دن چڑھا تو میں خُذ بی میں اپنے اہل کے پاس گیا۔خُذ بی اس محلے کا نام ہے جہاں بنو سلمہ کے گھر تھے۔کہتے ہیں میرے والد حضرت عمرو بن جموح نے کہا کہ میر اخیال تھا کہ تم لوگ جاچکے ہو۔پہلی روایت جو بیان ہوئی تھی اس میں یہ لکھا تھا کہ والد عمرو بن جموح کے ہمراہ غزوہ بدر میں شامل ہوئے لیکن اس روایت سے اور بعد کی روایتوں سے بھی یہی پتہ لگتا ہے کہ والد شامل نہیں تھے۔میں نے ان کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سُقیا کے میدان میں لوگوں کا جائزہ اور گنتی کروا رہے ہیں۔تب حضرت عمرہؓ نے کہا کہ کیا ہی نیک فال ہے۔واللہ ! ہمیں امید رکھتا ہوں کہ تم غنیمت حاصل کرو گے اور مشرکین قریش پر کامیابی حاصل کرو گے۔جس روز ہم نے حسنیکہ کی طرف پیش قدمی کی تھی ہم نے بھی یہیں پڑاؤ ڈالا تھا۔اس پرانی بات کی یہ بھی تصدیق کر رہے ہیں جو پہلے روایت میں آگئی ہے کہ یہودیوں کی آپس میں لڑائی ہوئی تھی۔حضرت خلّا ذ بیان کرتے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے حُسینگہ کا نام بدل کر سُفیار کھ دیا۔میرے دل میں یہ خواہش تھی کہ میں اس جگہ کو شقیا کو خرید لوں۔لیکن مجھ سے پہلے ہی حضرت سعد بن ابی وقاص نے اسے دو اونٹوں کے عوض خرید لیا اور بعض کے مطابق سات آذقیہ یعنی دو سواستی درہم کے عوض خریدا تھا۔جب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس بات کا ذکر ہوا تو آپ نے فرما یا بع التبنيع یعنی اس کا سودا بہت ہی نفع مند ہے۔(کتاب المغازی جلد اوّل صفحہ 37-38 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2013ء) (معجم البلدان جلد 3 صفحہ 258" سقیا" مطبوعہ دار الكتب العلمیہ بیروت) (وفاء الوفاء جلد 3 صفحہ 1200"خربي " مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1984ء) (لغات الحدیث جلد اوّل صفحہ 82 " اوقیہ " مطبوعہ علی آصف پر نٹر زلاہور 2005ء) حضرت ملاذ کے والد حضرت عمرو بن جموح بدر میں شامل نہیں ہوئے تھے۔خلاذ اور آپ کے والد حضرت عمرو بن جموح اور حضرت ابو ایمن تینوں غزوہ اُحد میں شامل ہوئے تھے اور ان تینوں نے جام شہادت بھی نوش کیا۔(مستدرك على الصحيحين جلد 3 صفحہ 226 كتاب معرفة الصحابه باب ذکر مناقب عمرو بن الجموح مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2002ء) یعنی خود بھی اور بھائی بھی اور والد بھی یہ تینوں جنگ اُحد میں شامل ہوئے تھے۔والد ان کے جنگ بدر میں شامل نہیں ہوئے تھے۔ان کی شامل ہونے کی خواہش تھی لیکن ان کی ٹانگ کی مجبوری کی وجہ سے ، ان کی ایک ٹانگ میں لنگڑاہٹ تھی۔صحیح نہیں تھے، معذور تھے۔اس لئے ان کو بدر میں ان کے بیٹوں نے شامل ہونے سے روک دیا تھا۔حضرت علاؤ کے والد حضرت عمرو بن جموح کے بارے میں آتا ہے کہ بدر کے موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کی تحریک فرمائی تو عمر د کے پاؤں میں تکلیف کی وجہ سے ان کے بیٹوں نے انہیں جنگ میں شامل ہونے سے روک دیا۔اللہ تعالیٰ نے بھی معذوروں کو جنگ سے رخصت دی ہوئی ہے۔اسی وجہ سے بیٹوں نے بھی انہیں روک دیا تھا کہ ہم چار لڑکے لڑنے جا رہے ہیں تو پھر آپ کو کیا ضرورت ہے جبکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو رخصت ہے۔اور پھر یہ باوجود خواہش کے بیٹوں کے کہنے پر جنگ بدر میں شامل نہیں ہوئے تھے۔لیکن جب اُحد کا موقع آیا تو عمر و اپنے بیٹوں کو کہنے لگے کہ تم لوگوں نے مجھے بدر میں بھی شامل نہیں ہونے دیا تھا۔اُحد کا موقع آیا ہے تو مجھے روک نہیں سکتے۔میں لازماً جاؤں گا اور اُحد میں شریک ہوں گا۔بہر حال انہوں نے کہا اب تم مجھے روک نہیں سکتے اور میں