خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 16 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 16

خطبات مسرور جلد 17 16 2 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 جنوری 2019 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 11 جنوری 2019ء بمطابق 11/ صلح 1398 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یو کے تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: حضرت خلاد بن عمرو بن جموح انصاری صحابی تھے اور بدری صحابہ میں شامل تھے۔آپ اپنے والد حضرت عمرو بن جموح اور بھائیوں حضرت معاذ، حضرت ابو ایمن اور حضرت معوذ کے ہمراہ غزوہ بدر میں شامل ہوئے تھے۔حضرت ابوایمن کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ آپ کے بھائی نہیں تھے بلکہ آپ کے والد حضرت عمرو بن جموح کے آزاد کردہ غلام تھے۔(اسد الغابه جلد 1 صفحہ 184 خَلَّادُ بن عمرو مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) جنگ بدر کے لئے روانہ ہوتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لشکر کے ساتھ مدینہ سے باہر ایک جگہ سُفیا کے پاس قیام کیا۔حضرت عبد اللہ بن قتادة اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سقیا، مدینہ سے باہر ایک جگہ تھی جہاں کنواں بھی تھا ایک، اس کے قریب نماز ادا کی اور اہل مدینہ کے لئے دعا کی۔حضرت عدی بن أبي الزَّغْبَاء اور بنبش بن عَمْرو اسی جگہ اس قیام کے دوران میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور بعض روایات کے مطابق حضرت عبد اللہ بن عمرو بن حرام بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کا اس جگہ قیام کے م کرنا اور اصحاب کا جائزہ لینا بہت اچھا ہے اور ہم اسے نیک فال سمجھتے ہیں کیونکہ جب ہمارے یعنی بنو سلمہ اور اہل حُسینگہ کے درمیان معرکہ ہوا تھا تو ہم نے یہیں پڑاؤ ڈالا تھا۔اسلام سے پہلے کی پرانی بات بیان کر رہے ہیں۔مدینہ کے نواح میں ذباب نامی ایک پہاڑ ہے حُسینیگہ اس پہاڑ کے پاس ہی مقام تھا جہاں بڑی تعداد میں یہود آباد تھے۔اسی مقام پر کہتے ہیں کہ ہم نے بھی اپنے اصحاب کی حاضری اور جائزہ لیا تھا اور جو لوگ جنگ کی طاقت رکھتے تھے ان کو اجازت دی تھی اور جو ہتھیار اٹھانے کے قابل نہ تھے ان کو واپس بھیج دیا تھا اور پھر ہم نے حسنیگہ کے یہود کی طرف پیش قدمی کی تھی۔اس وقت حسینگہ کے یہو دسب یہود پر غالب تھے پس ہم نے انہیں جس طرح چاہا قتل کیا۔ان کی آپس میں بڑی جنگ ہوئی۔اس لئے انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے امید ہے کہ جب ہم لوگ قریش کے مقابل ہوں گے تو اس وقت اللہ تعالیٰ آپ کی آنکھوں کو ان سے ٹھنڈک عطا کرے گا یعنی آپ کو بھی فتح حاصل ہو گی جس طرح پرانے زمانے میں ہمیں ہو چکی ہے۔