خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 12 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 12

خطبات مسرور جلد 17 12 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 جنوری 2019 لیں۔لیکن انہوں نے کہا کہ میں بہر حال قربانی کروں گا۔مخالفت چاہے بڑھتی جائے۔اور چندہ اور مالی قربانی کی اہمیت بھی ان کو بتائی گئی۔موصوف نے بیعت کے ایک ماہ کے بعد ہی چندہ ادا کرنا شروع کر دیا۔مستقل نوکری ہی نہیں تھی۔اس کے باوجود چھوٹے چھوٹے کاموں سے جو بھی اجرت ملتی اس سے فوراً کچھ رقم چندے کے لئے علیحدہ کر لیتے۔لوگوں سے چھپ کر رات کے وقت مشن ہاؤس آتے۔مشن ہاؤس جانے سے پہلے گاؤں کے مختلف چکر لگاتے تاکہ لوگ انہیں مشن ہاؤس جاتا نہ دیکھ لیں اور اس حالت میں بھی موصوف نے با قاعدگی سے مشن ہاؤس سے رابطہ رکھا اور چندہ ادا کرنے کے لئے آتے رہے۔ایک اور واقعہ ہے۔جو احمدی نہیں ان کو بھی بعض دفعہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کس طرح تحریک ہوتی ہے۔مالی کی جماعت کے مبلغ لکھتے ہیں کہ وقف جدید کے حوالے سے ریڈیو " احمد یہ کیتا " پر میر اخطبہ چل رہا تھا۔گزشتہ سال کے خطبہ کی ریکارڈنگ چل رہی تھی۔اسی دوران وہاں شہر سے 45 کلو میٹر دور ایک گاؤں کے چیف نے فون کر کے ہمیں اپنے گاؤں میں تبلیغ کرنے کی دعوت دی۔جب ہم تبلیغ کے لئے وہاں گئے تو چیف نے بڑے جذباتی انداز میں کہا کہ جب خلیفہ وقت وقف جدید کے حوالے سے مختلف ممالک کے ایمان افروز واقعات بتارہے تھے تو انہیں سن کر ، ہم گاؤں والوں پر ان کا عجیب حیرت انگیز اثر ہوا اور ہمیں افسوس ہوا کہ کیوں اب تک ہم اس پاکیزہ تحریک میں حصہ نہیں لے سکے تو اس لئے میں نے آپ کو فون کر کے بلایا ہے۔وہاں احمدیوں کے ٹی وی لگے ہوئے ہیں جس پر وہ خطبہ دیکھ رہے تھے اور سن رہے تھے نہ کہ ریڈیو پہ۔تب تبلیغ کا پروگرام بھی کیا گیا اور خدا تعالیٰ کے فضل سے اسی دن پچاسی افراد نے احمدیت قبول کی۔گاؤں والوں نے اُسی وقت ایک بوری مکئی اور ہزار فرانک وقف جدید کی بابرکت تحریک میں پیش کئے۔اللہ تعالیٰ بھی عجیب عجیب طری سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پیغام کو نہ صرف لوگوں تک پہنچارہا ہے بلکہ مدد گار بھی پیدا فرمارہا ہے۔بین کے لو کوسا (Lokossa) ریجن کے مبلغ لکھتے ہیں کہ لو کوسا کی ایک جماعت میں چندہ وقف جدید کی تحریک کی گئی۔کچھ روز بعد ہمارا ریجنل جلسہ بھی تھا اس میں شامل ہونے کے لئے بھی تحریک کی گئی۔کہتے ہیں اس وقت صدر جماعت غفار صاحب میرے پاس آئے اور کہا کہ انہوں نے کچھ رقم جلسہ میں شامل ہونے کی غرض سے جمع کر رکھی ہے لیکن چندہ بھی ادا کرنا ضروری ہے۔اس لئے کیا کرنا چاہئے ؟ کہتے ہیں میں نے اس پہ کہا کہ جلسہ میں شامل ہوں۔اللہ تعالیٰ فضل فرمائے گا۔چندہ بعد میں ادا کر دیں۔کہتے ہیں چند روز کے بعد جب وہ جلسہ میں مجھے ملے تو کچھ رقم مجھے دے دی اور کہنے لگے یہ میر اچندہ لے لیں تو کہتے ہیں میں نے سیکرٹری مال کو کہا کہ ان کو رسید کاٹ کر دے دیں۔اس پر سیکرٹری مال نے بتایا کہ غفار صاحب نے وہی رقم جو چندے میں ادا کی ہے جو انہوں نے جلسہ میں آنے کے لئے جمع کی تھی اور یہ خود بمع اپنے اہل و عیال کے پندرہ کلو میٹر کا پیدل سفر کر کے جلسہ میں شامل ہوئے ہیں۔تو یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو عطا فرمائے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی باتوں کو سنتے ہیں اور پھر تزکیہ نفس کے