خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 11 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 11

خطبات مسرور جلد 17 11 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 جنوری 2019 اہتمام سے چندہ ادا کرتی تھی اور مجھے بھی چندے کی ادائیگی کی طرف توجہ دلاتی تھی۔اس پر میں اسے یہ کہہ کر ٹال دیتا کہ جب بہت زیادہ پیسے ہوں گے تو پھر چندہ دے دیا کروں گا۔اس پر وہ کہتی کہ زیادہ پیسے تب ہی ہوں گے جب اللہ تعالیٰ کا حق پورا کریں گے۔اس طرح میری اہلیہ نے زبر دستی مجھ سے چندہ ادا کروانا شروع کر دیا۔جب میں نے پوری شرح کے ساتھ چندہ ادا کر نا شروع کیا تو میں نے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو بارش کی طرح نازل ہوتے دیکھا۔کہتے ہیں کہ مجھ سے زیادہ پڑھے لکھے اور زراعت کے شعبہ میں ڈگریاں لینے والوں کی فصلوں کو وہ پھل نہیں لگا جو اللہ تعالیٰ نے مجھ ناچیز اور نا سمجھ کو عطا کرنا شروع کیا۔اب میں زمینوں سے فصل تب ہی گھر لاتا ہوں جب ان کا پورا حساب کر کے لوکل مشنری کو چندہ دے کر اس سے رسید کٹوالیتا ہوں۔آئیوری کوسٹ کے ریجن کے مبلغ لکھتے ہیں کہ ایک دوست زابلو صاحب کو خواب کے ذریعہ احمدیت قبول کرنے کی توفیق ملی تھی۔بیعت کے بعد باقاعدہ خطبات سنتے ہیں اور ایک پر جوش داعی الی اللہ ہیں۔ذاتی رقم خرچ کر کے جماعتی لٹریچر خرید کر غیر احمدی احباب کو دیتے ہیں۔زابلو صاحب ایک ہوٹل میں کام کرتے تھے اور اچھی پوسٹ پر تھے لیکن اب ان کے پاس نوکری نہیں ہے اور ان کی اہلیہ ہی گھر کے خرچ برداشت کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں۔کہتے ہیں کچھ دن پہلے انہوں نے فون پر کہا کہ میں تیس ہزار فرانک سینا(CFA Frank)بطور چندہ وقف جدید بھیج رہا ہوں۔اس پر میں نے انہیں کہا کیونکہ میں ان کے حالات سے واقف تھا، کہ آپ کے حالات اچھے نہیں تو بیشک کم ادا کریں۔یہ رقم زیادہ ہے آپ کے لئے اور جلسہ سالانہ بھی آرہا ہے۔اس پر وہ کہنے لگے کہ میں نے اپنی اہلیہ سے کہا تھا کہ میں ہزار فرانک چندہ دیتے ہیں لیکن میری اہلیہ کا اصرار ہے کہ ہم نے تیس ہزار فرانک سیفا ہی دینا ہے اور اللہ کے فضل سے پھر وہ جلسہ میں بھی شامل ہوئے۔تو اس طرح بہت سی جگہ عورتیں ہیں جو مردوں سے بھی قربانیاں کرواتی ہیں۔آسٹریلیا کی ایک جماعت کے صدر بیان کرتے ہیں کہ ایک مخلص دوست اپنا چندہ وقف جدید ادا کر چکے تھے۔20/ دسمبر کو عاملہ ممبران کو ایک دفعہ پھر خصوصی تحریک کے ذریعہ بقایا ادا کرنے کی طرف توجہ دلائی گئی۔ان سے رابطہ کیا گیا تو پھر انہوں نے ایک بہت خطیر رقم ادا کر دی۔اگلے روز شام کو کہتے ہیں ان کا فون آیا اور بڑے جذباتی انداز سے کہنے لگے کہ خاکسار نے چندہ وقف جدید کی جو ادائیگی کی تھی وہ ایک ہی دن میں اللہ تعالیٰ نے پوری کر دی۔کہنے لگے کہ میں تین سال سے ایک فوڈ ٹیک اوے چلا رہا ہوں اور پچھلے تین سالوں میں ایک بھی دن ایسا نہیں آیا کہ اس قدر کسٹمر آئے ہوں، گاہک آئے ہوں جتنے اس دفعہ چندہ ادا کرنے کے بعد آئے۔اسی طرح انڈو نیشیا کا ایک واقعہ ہے۔ایمان پر قائم رہنے کے یہ ایسے واقعات ہیں کہ حیرت ہوتی ہے۔انڈونیشیا میں ایک نو مبائع جنہوں نے 2016ء میں بیعت کی تھی۔بیعت کے بعد ان کی فیملی اور پڑوسیوں کی طرف سے سخت مخالفت شروع ہو گئی۔یہاں تک کہ ایک روز ان کی فیملی کے کئی افراد نے ان کو کافی مارا اور انہوں نے جماعت چھوڑنے پر مجبور کیا۔ان کو مبلغ سے ملنے پر پابندی لگادی۔اس کے بعد وہ چھپ کر مبلغ سے ملتے تھے۔ہمارے مبلغ نے انہیں بتایا کہ قربانی تو جماعت میں آنے کے بعد کرنی پڑتی ہے۔اب آپ خود دیکھ