خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 5 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 5

خطبات مسرور جلد 17 5 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 جنوری 2019 یو کے کے ہی ایک دوست ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ کچھ عرصہ پہلے مجھے فون پر چندہ تحریک جدید ادا کرنے کی یاد دہانی کرائی گئی اور بتایا گیا کہ گزشتہ سال میں نے اتنی رقم ادا کی تھی۔اس پر میں نے گزشتہ سال سے کچھ بڑھا کر دینے کا وعدہ کیا۔اس وقت میرے پاس پیسے بالکل نہیں تھے۔میں نے دعا کرنی شروع کی کہ اللہ تعالیٰ کہیں سے خود ہی انتظام فرما دے۔چنانچہ کہتے ہیں دو ہفتے کے بعد ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے مجھے خط موصول ہوا۔میں نے دوران سال ٹیکس زیادہ دیا ہو ا تھا اور وہ یہ رقم واپس کر رہے تھے۔میں خود اکاؤنٹنٹ ہوں اور مجھے اپنے ٹیکس وغیرہ کے حساب کا اچھی طرح علم ہو تا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے معجزانہ طور پر رقم کا یہ انتظام کر دیا کیونکہ میرے حساب سے تو پورا ٹیکس دیا گیا تھا۔کہتے ہیں اس کے چند مہینے بعد صدر صاحب نے دوبارہ فون کیا، چندہ وقف جدید کے حوالے سے یاد دہانی کروائی اور بتایا کہ گزشتہ سال میں نے اتنا چندہ ادا کیا تھا۔اس پر میں نے گزشتہ سال کی نسبت کچھ بڑھا کر وعدہ لکھوا دیا۔اتفاق سے اس وقت بھی میرے پاس پیسے نہیں تھے۔پھر میں سوچنے لگا کہ پہلے تو اللہ تعالی نے ٹیکس ریٹرن (tax return) کی رقم بھجوادی تھی اب بظاہر کوئی صورت نظر نہیں آرہی۔پھر کہتے ہیں میں دعا میں لگ گیا۔ایک ہفتہ بعد ہی میں اپنے کاغذات دیکھ رہا تھا تو مجھے ایک بل نظر آیا جس کے ساتھ کچھ آفر (offer) بھی تھی۔میں نے کمپنی والوں کو فون کیا تو اس آفر کے مطابق مجھے پری پیڈ (pre-paid) کارڈ بنوا کر بھجوا دیا گیا اور اُس میں اُس سے زیادہ رقم موجود تھی جو میں نے چندے میں ادا کرنی تھی۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے وقف جدید کے چندے کا انتظام کر دیا۔یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف افریقہ میں نظارے دکھاتا ہے، بلکہ ہر جگہ جو نیک نیتی سے چندہ ادا کرنا چاہیں وہ ان کو ایسے نظارے دکھاتا ہے۔بورکینا فاسو سے بشارت علی صاحب مبلغ ہیں، کہتے ہیں کہ بورو مو (Boromo) ریجن کے ایک نو مبائع احمدی کو نے آدم (Kone Adama) صاحب کو گزشتہ سال وقف جدید کی تحریک کی گئی۔اس پر انہوں نے جو ہر سال گاؤں کے مولوی کو دیتے تھے وہ چندے میں دے دیا۔مسلمان تھے۔بیعت کر لی تو انہوں نے کہا میں مولویوں کو دیتا تھاوہ چندے میں دے دیا۔اُن کے والد کو اس کا علم ہوا تو بڑے ناراض ہوئے اور زمین کا ایک حصہ ان کو دے کر ان کو الگ کر دیا۔کہتے ہیں اس سال انہوں نے اپنی فصل لگائی۔اللہ کے فضل سے بہت اچھی فصل ہوئی اور بعض جگہ زیادہ بارشیں ہونے کی وجہ سے فصلیں خراب ہوئی تھیں لیکن ان کی جو پانی والی جگہ کی فصل تھی وہ بھی خراب نہیں ہوئی جبکہ ان کے والد اور باقی رشتہ داروں کی فصلیں زیادہ بارش کی وجہ سے خراب ہو گئیں۔انہوں نے اپنے والد کی فصل دوبارہ لگانے میں ان کی مدد بھی کی اور اپنی اچھی فصل سے بھی اُن کو حصہ دیا۔یہ مسلمان تھے اور مسلمانوں سے احمدی ہوئے تھے تو اس پر ان کے والد نے کہا کہ یقینا تمہاری جماعت کو چندہ دینے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے تم پر اپنا فضل کیا ہے۔والد نے اس بات کو تسلیم کیا اور یہ بھی کہا کہ تمہاری جماعت سچی ہے تم اس پر قائم رہنا۔میری مجبوری ہے کہ میں مولوی کو