خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 6
خطبات مسرور جلد 17 6 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 جنوری 2019 چھوڑ نہیں سکتا۔بعض پرانی رسمیں روایتیں ہیں جنہوں نے ان لوگوں کو باندھا ہوا ہے۔اور اِس سال بھی انہوں نے اپنا چندہ دو گنا ادا کیا ہے۔گیمبیا (Gambia) کیانگ (Kiang)ڈسٹرکٹ کے ایک گاؤں میں جماعت کے مخالفین نے ممبران کو احمدیت سے ہٹانے کی کوشش کی اور دعویٰ کیا کہ وہ سب احمدیوں کو احمدیت سے ہٹا دینے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔اس پر ہمارے ایک احمدی ممبر جالو نے معلم صاحب کو بتایا کہ مخالفین کی یہ کوشش ایک کھاد کا کام کر رہی تھی کیونکہ اس مخالفت سے پہلے میں فعال احمدی نہیں تھا لیکن اب نہ صرف چندہ وقف جدید اور تحریکات کا ادا کر رہا ہوں بلکہ وصیت کی بابرکت سکیم میں بھی میں شامل ہو گیا ہوں۔تو مخالفین تو جماعت کو مٹانا چاہتے تھے لیکن اس مخالفت نے کچھ احمدیوں کو ایمان میں پہلے سے کئی گنا بڑھا دیا۔گنی کناکری ایک ملک ہے وہاں کے ایک دوست اکوبی (Akobi) صاحب کہتے ہیں کہ مشنری انچارج نے جب وقف جدید کے حوالے سے گزشتہ سال کا میر ا خطبہ جمعہ، جس میں چند مالی قربانیوں کے واقعات بیان کئے تھے وہ سنایا۔تو کہتے ہیں میرے دل پر اس کا بڑا اثر ہوا۔اگلے دن اپنے کاروبار کے سلسلہ میں میں سیر الیون جارہا تھا۔میرے پاس سفر کے لئے صرف تین سو ڈالر تھے اور مجھے پیسوں کی کافی ضرورت تھی لیکن اس کے باوجو د میں نے تین سو ڈالر میں سے ایک سوڈالر علیحدہ کر کے لفافے میں ڈال دیا کہ یہ میں وقف جدید میں ادا کر دوں گا۔اس کے بعد میں دوسرے کاموں میں لگ گیا اور لفافہ بھجوانا بھول گیا۔کہتے ہیں ابھی اس بات کو دو گھنٹے ہی گزرے تھے کہ ایک شخص میرے دفتر میں داخل ہوا اور مجھے ایک لفافہ دیتے ہوئے کہنے لگا کہ یہ آپ کے فلاں دوست نے بھجوایا ہے۔جب میں نے لفافہ کھول کر دیکھا تو اس میں تین سو ڈالرز تھے اور لکھا ہوا تھا کہ تم سفر پر جارہے ہو یہ تمہارے سفر خرچ کے لئے بھجوا رہاہوں۔اس پر مجھے فورا یاد آیا کہ میں نے تو ابھی وہ رقم بھجوائی بھی نہیں تھی کہ اللہ تعالیٰ نے کئی گنا بڑھا کر مجھے لوٹا دی اور پھر کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی حمد سے میر ادل بھر گیا کہ اس نے ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیاری جماعت میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔اس طرح اللہ تعالیٰ لوگوں کے ایمان بڑھاتا چلا جارہا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو فرمایا ناں کہ مال اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے، اس بات کی ان کو سمجھ آرہی ہے۔بین کی ریجن بوھیکوں(Bohicon) کے مبلغ لکھتے ہیں کہ بوھیکوں(Bohicon) ریجن کی ایک جماعت ابو مے (Abomey) کے صدر اہو نگان جیکس ( Ahouangan Jacques) صاحب کہتے ہیں کہ ان کے ذمہ ایک بڑی رقم قرض کی تھی جو ادا نہیں ہو رہی تھی۔اسی دوران ان کے حلقے کے معلم نے چندہ وقف جدید کی طرف توجہ دلاتے ہوئے بتایا کہ سال ختم ہو رہا ہے اور جس جس نے ابھی تک اپنی ادائیگی مکمل نہیں کی وہ جلد جلد مکمل کریں۔صدر صاحب کہتے ہیں کہ میرے پاس اس وقت زیادہ پیسے نہ تھے لیکن قرض کے علاوہ یہ فکر بھی لگ گئی کہ وقف جدید کا چندہ بھی دینا ہے۔چنانچہ اسی وقت میری جیب میں جو پانچ سو فرانک تھے وہ اس چندے میں دے دئے اور گھر چلا گیا۔دعا کرتارہا کہ قرض ہے وہ کیسے ادا ہو گا۔کہتے ہیں کہ اگلے ہی