خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 4
خطبات مسرور جلد 17 4 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 جنوری 2019 گھانا کے ایک دوست فرم پونگ ( Frimpong) صاحب کہتے ہیں کہ چند سال پہلے میں نے اپنی تعلیم کے حوالے سے پانچ ہزار پاؤنڈ فیس ادا کرنی تھی۔اُس وقت میں کام بھی کر رہا تھا لیکن میری تنخواہ اتنی نہیں تھی۔اگر میں بارہ مہینوں کی تنخواہ بھی جمع کر لیتا تو اتنی رقم نہیں بنتی تھی۔بہر حال مجھے بنک سے تین ہزار پاؤنڈ کا قرض مل گیا اور میری تنخواہ کا چالیس فیصد ہر ماہ قرض کی ادائیگی میں چلا جاتا لیکن پھر بھی میں چندہ بھی پوری تنخواہ پر ادا کر تا تھا۔یہ پرواہ نہیں کی کہ چالیس فیصد چلا جاتا ہے۔کہتے ہیں ایک دن میں کماسی مشن ہاؤس گیا۔کماسی گھانا کا ایک شہر ہے، تو سرکٹ مشنری نے میرے وقف جدید کے وعدے کے حوالے سے یاد دہانی کروائی۔اس وقت میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا تو میرے وعدے کے مطابق رقم موجود تھی لیکن میں نے سوچا کہ اگر یہ رقم چندے میں ادا کر دی تو میرے پاس جاب پر جانے کے لئے باقی دنوں میں کرائے کے پیسے بھی نہیں بچیں گے۔کہتے ہیں بہر حال میں نے وہ رقم اسی وقت چندے میں ادا کر دی۔میں مشن ہاؤس سے گھر واپس جارہا تھا تو فون پر میسج آیا کہ میرے بنک اکاؤنٹ میں کچھ رقم منتقل ہوئی ہے جو اس سے پانچ گنازیادہ تھی جو میں نے چندے میں ادا کی تھی۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بڑھا کر لوٹاتا ہے۔کہتے ہیں میں نے سوچا کہ شاید بنک کی طرف سے غلطی سے یہ رقم آگئی ہو جو وہ بعد میں واپس لے لیں گے کیونکہ تنخواہ تو پہلے ہی میرے اکاؤنٹ میں آچکی تھی لیکن اگلے روز جب میں کام پر گیا تو پتہ چلا کہ گورنمنٹ کی طرف سے یہ رقم ملی تھی جو گزشتہ مہینوں کے بقایا جات تھے۔اس پر میں نے اللہ کا شکر ادا کیا۔اللہ تعالیٰ نے مجھے خوف کے باوجود چندے کی رقم ادا کرنے کی ہمت عطا فرمائی۔اس دن کے بعد پھر ہمیشہ میں اپنے وعدہ جات اور چندہ کی ادائیگی کی طرف بڑی توجہ دیتا ہوں۔یہ افریقہ کے ہیں۔دور دراز ملک میں رہنے والے ہیں۔بورکینا فاسو افریقہ کا ایک اور ملک ہے جو فرنچ بولنے والوں کا ملک ہے۔وہاں کے بوبو جلاسو (Bobo-Dioulasso) کے مبلغ لکھتے ہیں۔یہ وہاں کے شہر کا نام ہے کہ ایک نو مبائع خادم زودی (zodi) صاحب کچھ عرصہ سے ذہنی بیماری کی وجہ سے پریشان تھے اور نیند کی گولیاں استعمال کرتے تھے۔ڈیپریشن ہوا اور وہ بہت زیادہ بڑھ گیا تھا۔ایک دن ہمارے ہاں مشن ہاؤس آئے اور کہنے لگے کہ ان کا چندہ وقف جدید اور تحریک جدید کتنا ہے وہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔ہمارے مشنری نے بتایا کہ یہ چندہ آپ حسب توفیق جتنا بھی ادا کرنا چاہیں ادا کر دیں۔اس پر انہوں نے کہا کہ معیاری چندہ کتنا ہے ؟ مشنری نے ان کو بتایا۔انہوں نے خوشی خوشی چندہ ادا کیا اور چلے گئے۔کچھ دن کے بعد پھر مشن ہاؤس آئے اور کہنے لگے کہ میں بیمار تھا اور چندے کی برکت سے اب میری حالت بہت بہتر ہے۔میں نے نیند کی گولیاں کھانی بھی چھوڑ دی ہیں اور دلی سکون محسوس کر رہا ہوں۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف رغبت پیدا ہوئی۔چندہ دیا، عبادت کی طرف توجہ پیدا ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے پھر فضل فرمایا جبکہ اس سے پہلے ان کی یہ حالت تھی کہ خود کشی کرنے کی طرف مائل ہو گئے تھے۔