خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 3
خطبات مسرور جلد 17 3 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 جنوری 2019 ( مجموعہ اشتہارات جلد 3 صفحہ 497-498) کے اس کی راہ میں مال خرچ کرے گا تو میں یقین رکھتا ہوں کہ اس کے مال میں بھی دوسروں کی نسبت زیادہ برکت دی جائے گی۔کیونکہ مال خود بخود نہیں آتا بلکہ خدا کے ارادہ سے آتا ہے۔پس جو شخص خدا کے لئے بعض حصہ مال کا چھوڑتا ہے وہ ضرور اسے پائے گا۔لیکن جو شخص مال سے محبت کر کے خدا کی راہ میں وہ خدمت بجا نہیں لاتا جو بجالانی چاہئے تو وہ ضرور اس مال کو کھوئے گا۔" ضائع ہو جائے گا۔فرمایا کہ " یہ مت خیال کرو کہ مال تمہاری کوشش سے آتا ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے۔اور یہ مت خیال کرو کہ تم کوئی حصہ مال کا دے کر یا کسی اور رنگ سے کوئی خدمت بجالا کر خدا تعالیٰ اور اس کے فرستادہ پر کچھ احسان کرتے ہو، بلکہ یہ اس کا احسان ہے کہ تمہیں اس خدمت کے لئے بلاتا ہے۔فرمایا تم یقیناً سمجھو یہ کام آسمان سے ہے اور تمہاری خدمت صرف تمہاری بھلائی کے لئے ہے۔" اللہ تعالیٰ کے فضل سے قربانیوں اور خدمت کی اس روح کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آنے والوں نے سمجھا اور خوب سمجھا اور بڑھ چڑھ کر قربانی کی طرف توجہ دیتے ہیں۔نہ صرف یہ کہ جو ایک عرصے سے احمدیت کو قبول کئے ہوئے ہیں بلکہ نو مبائعین بھی بیعت کے بعد اس مالی قربانی کی روح اور حقیقت کو سمجھتے ہیں۔ایسے بھی ہیں جو انتہائی غربت کی زندگی گزار رہے ہیں لیکن مالی قربانیوں میں کسی سے پیچھے نہیں رہنا چاہتے اور اسی طرح قربانیاں کرتے ہیں جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وقت میں آپ کے صحابہ نے کیں۔بعض ایسے نمونے بھی ہیں اور جن کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس وقت فرمایا تھا کہ میں اپنی جماعت کے محبت اور اخلاص پر تعجب کرتا ہوں کہ ان میں سے نہایت ہی کم معاش والے ہیں۔پھر آپ نے مثال دی، فرمایا جیسے میاں جمال الدین اور خیر الدین ہیں اور امام الدین کشمیری ہیں۔فرمایا کہ یہ میرے گاؤں کے قریب رہنے والے ہیں وہ تینوں بھائی جو شاید تین چار آنہ روزانہ مزدوری کرتے ہیں سر گرمی سے ماہواری چندے دیتے ہیں چندے میں شریک ہیں۔(ماخوذ از ضمیمه رساله انجام آتھم ، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 13 3 حاشیہ ) ان بزرگوں کی اس وقت اشاعت دین کے لئے یہ قربانیاں ہیں جو آج ان کی اولادیں اور ان کی نسلیں کشائش سے زندگی بسر کر رہی ہیں۔جیسا کہ میں نے کہا کہ یہی روح ہمیں آج بھی نظر آتی ہے بعض جگہ پہ بلکہ بہت سی جگہوں پہ اور دور دراز کے رہنے والے غریب لوگوں میں نظر آتی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے سے سو سال بعد پید اہوئے یا احمدی ہوئے اور کبھی خلیفہ وقت سے براہ راست ملے بھی نہیں۔لیکن دین کی محبت، خلافت کی اطاعت، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے عہد وفا اور عہد بیعت، دین کی خاطر قربانی کا جذبہ اس قدر بڑھا ہوا ہے کہ حیرت ہوتی ہے۔اگر صرف اسی بات کو ہی دیکھا جائے تو یہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کی ایک دلیل ہے۔اور یہ جذبہ سوائے خدا تعالیٰ کی ذات کے کوئی دلوں میں پیدا نہیں کر سکتا۔بعض لوگوں کی قربانیوں اور اللہ تعالیٰ کے ان سے سلوک کے واقعات ہیں ان میں سے چند ایک پیش کرتا ہوں۔