خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 2
خطبات مسرور جلد 17 2 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 جنوری 2019 کی نیکیوں پر حاوی نہیں ہو جاتا بلکہ اس کوشش کو حتی المقدور تمام سال پر جاری رکھنا اصل نیکی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے اور حقیقت میں ہماری ذاتی زندگیوں میں بھی یہ سال بے شمار برکات لانے والا بنے اور جماعت کی غیر معمولی ترقیات بھی ہم دیکھنے والے ہوں۔اس کے بعد اب میں آج کے دوسرے مضمون کی طرف آتا ہوں۔جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ جنوری سے وقف جدید کا سال شروع ہوتا ہے اور جنوری کے پہلے یا دوسرے خطبہ میں عموماً وقف جدید کے سال کا اعلان ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے مالی قربانی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کا ایک خاص امتیاز ہے۔اور کیوں نہ ہو کہ اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قرآن کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات اور ارشادات کی روشنی میں اس مالی قربانی کا خاص اور اک ہمیں عطا فرمایا ہے۔قرآن کریم میں متعدد جگہ اللہ تعالیٰ نے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے، اس لئے نہیں کہ اللہ تعالیٰ کو ہمارے مال کی ضرورت ہے بلکہ اس لئے کہ اس سے ہمیں فائدہ پہنچتا ہے۔اور مجموعی لحاظ سے جماعتی ترقیات کو بھی ہم دیکھتے ہیں۔جماعت کو بھی فائدہ پہنچتا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ فَاتَّقُوا اللهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَاسْمَعُوْا وَاَطِيْعُوا وَأَنْفِقُوا خَيْرًا لِأَنْفُسِكُمْ ۖ وَمَن يُوقَ شُعَ نَفْسِهِ فَأُولَبِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (التغابن: 17) یعنی پس اللہ کا تقوی اختیار کرو جس حد تک تمہیں توفیق ہے اور سنو اور اطاعت کرو اور خرچ کرو یہ تمہارے لئے بہتر ہو گا۔اور جو نفس کی کنجوسی سے بچائے جائیں تو یہی ہیں وہ لوگ جو کامیاب ہونے والے ہیں۔پھر اگلی آیت میں فرمایا کہ ان تُقرِضُوا اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا يُضْعِفْهُ لَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ وَاللهُ شَكُورُ حَلِيمٌ (التغابن: 18) اگر تم اللہ کو قرضہ حسنہ دو گے تو وہ اسے تمہارے لئے بڑھا دے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بہت قدر شناس اور بردبار ہے۔پس اللہ تعالیٰ بڑھا چڑھا کر دیتا ہے جو اس کی راہ میں خرچ کرتا ہے۔اس مالی قربانی سے انفرادی فائدہ بھی ہے اور جماعت کی ترقی بھی ہے جو پھر افراد کی ترقی کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بخل سے بچو۔یہ بخل ہی ہے جس نے پہلی قوموں کو ہلاک کیا۔(سنن ابو داؤد كتاب الزكاة باب في الشح حديث 1698) اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا کہ آگ سے بچو خواہ آدھی کھجور خرچ کرنے کی استطاعت ہو۔(صحیح البخارى كتاب الزكاة باب اتقوا النار ولو بشق تمرة۔۔۔الخ حديث 1417) یہ معمولی خرچ بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے دینا آگ سے بچاتا ہے۔پس یہ مالی قربانیاں ہمیں فائدہ پہنچانے کے لئے ہیں۔اس مالی قربانی کی اہمیت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : " تمہارے لئے ممکن نہیں کہ مال سے بھی محبت کرو اور خدا سے بھی۔صرف ایک سے محبت کر سکتے ہو۔" فرمایا" پس خوش قسمت وہ شخص ہے کہ خدا سے محبت کرے۔اور اگر کوئی تم میں سے خدا سے محبت کر