خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 162 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 162

خطبات مسرور جلد 17 162 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 مارچ 2019ء تحریک جدید کا بجٹ چند لاکھ تھا جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے کروڑوں میں چلا گیا۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کے بچوں کو بھی ان کی نیکیاں جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔دوسرا جنازہ طاہر حسین منشی صاحب نائب امیر فجی کا ہے جو 5 مارچ کو 72 سال کی عمر میں وفات پاگئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ راجِعُونَ۔نجی جماعت کے دیرینہ خادم تھے۔بڑا لمبا عرصہ ان کو نائب امیر کے طور پر خدمت کی توفیق ملی۔بہت نیک ، دعا گو، مخلص اور باوفا بزرگ انسان تھے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے ، حصہ جائیداد اپنی زندگی میں ادا کر دیا تھا۔پسماندگان میں ایک بیٹا اور ایک بیٹی یاد گار چھوڑی ہیں۔یہ دونوں بچے احمدی نہیں ہیں۔آپ نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے نجی کے تعلیمی شعبہ میں بہت نام کمایا۔کالج کے پرنسپل رہے۔منسٹری آف ایجو کیشن میں سیکنڈری پر نسپل ایجو کیشن آفیسر رہے۔بعد ازاں ترقی ہوئی تو ڈ پٹی ڈائریکٹر ایجو کیشن ہو گئے اور اسی پوسٹ پر 1999ء میں ان کی ریٹائر منٹ ہوئی۔پھر ان کو گورنمنٹ نے دوبارہ ری امپلائی ( re-employee) کر لیا اور پبلک اکاؤنٹ کمیٹی کا رکن بنا دیا جو کچھ عرصہ تک رہے پھر بیماری کے بعد اس سے فراغت ہو گئی۔قبولیت احمدیت کے بارے میں حامد حسین صاحب صدر جماعت نسر وانگا بیان کرتے ہیں کہ منشی صاحب کی پہلی پوسٹنگ 1968ء میں نسروانگا پرائمری سکول میں ہوئی تو میں اس وقت سکول کا سیکرٹری تھا۔چنانچہ میری ان کے ساتھ دوستی ہو گئی۔ہم اکثر وقت اکٹھا گزارا کرتے تھے۔کہتے ہیں کہ جماعت کے خلاف ہونے کے باوجو د وہ احمدیت کی بات سنتے تھے اور بحث بھی کرتے تھے۔وہ سنیوں میں سے تھے۔منشی صاحب کی بیک گراؤنڈ سٹی تھی۔اور جب وہ اپنے مولوی کو بحث کے لیے بلاتے تو وہ انکار کر دیتے تھے جس پر ان کو بہت افسوس ہو تا تھا۔بعد ازاں اللہ تعالیٰ نے ان پر بہت فضل کیا اور ان کو امام وقت کو ماننے کی توفیق بھی دی۔حامد حسین صاحب ہی بیان کرتے ہیں کہ ان کو احسان کس طرح اتارنے کی توفیق ملی۔کہتے ہیں کہ ایک دفعہ منشی صاحب قادیان سے ہو کر لوٹے تو مجھے بتایا کہ میں نے بیت الدعا میں آپ کے لیے بہت دعا کی ہے کہ اللہ تعالی نے مجھے آپ کے ذریعہ سے اس مقام پر پہنچایا یعنی ان کے ذریعہ سے احمدیت قبول کرنے کی توفیق ملی تو بیت الدعا میں گئے تو ان کے لیے دعا کرتے رہے کہ اس شخص نے مجھ پر بہت احسان کیا ہے۔محسن کے لیے ایسی دعا کا خیال بھی ایک احمدی کو ہی آسکتا ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے زمانے میں آپ نے ان کو نائب امیر نجی مقرر کیا تھا۔نعیم اقبال صاحب مبلغ لکھتے ہیں کہ بڑے باوفا تھے۔خلافت سے بہت زیادہ وفا کا تعلق تھا۔دوسروں کو بھی خلافت کے احترام اور اطاعت کی تحریک کرتے تھے۔اپنا اعلیٰ نمونہ بھی ہر وقت دکھاتے۔کبھی کسی بات پر اختلاف ہو تا لیکن جب پتا لگتا کہ خلیفتہ المسیح کی رائے اس بارے میں یہ ہے تو فوراً اپنی رائے چھوڑ دیتے۔تیسر اجنازہ موسیٰ سسکو صاحب کا ہے جو مالی کے باشندے ہیں۔15 / فروری کو ان کی وفات ہوئی۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ۔آپ فوج میں بریگیڈ کمانڈر تھے۔احمدیت کا تعارف آپ کو جماعت کے رسالے سے ہوا۔اس کے بعد سکاسو (Sikasso) ریجن کے مبلغ سے مسلسل رابطے میں رہے۔نومبر 2012ء میں احمدیت