خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 161 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 161

خطبات مسرور جلد 17 161 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 مارچ 2019ء قادیان ہجرت کی اور یہیں مستقل قیام کیا۔آپ کا بچپن قادیان کے ماحول میں بزرگ صحابہ اور درویشان قادیان کی صحبت میں گزرا۔میٹرک تعلیم الاسلام سکول قادیان سے کیا۔پھر مدرسہ احمدیہ میں داخلہ لیا۔1967ء میں مدرسہ احمدیہ قادیان سے مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا اور مدرسہ احمدیہ قادیان میں ہی پہلا تقرر بحیثیت ٹیچر کے ہوا۔اس کے بعد 1982ء میں مینیجر بدر مقرر ہوئے۔کچھ عرصہ ایڈیٹر بدر بھی رہے۔1989ء میں بحیثیت ناظم ارشاد وقف جدید قادیان خدمت کی توفیق پائی۔اسی طرح ما نائب ناظر اشاعت، صدر مجلس خدام الاحمدیہ بھارت، نائب ناظر مال بیت المال آمد کے طور پر بھی خدمت کی توفیق پائی۔2006ء میں انہیں میں نے وکیل المال تحریک جدید مقرر کیا تھا اور اس عہدے پر یہ وفات تک بڑے احسن رنگ میں خدمات سر انجام دیتے رہے۔اسی طرح کئی اہم مرکزی کمیٹیوں کے صدر اور ممبر بھی رہے۔انتظامی صلاحیت ان میں بڑی اچھی تھی اور بشاشت قلبی اور جانفشانی سے اپنے فرائض کو بڑی اچھی طرح انجام دیتے تھے۔چندہ تحریک جدید میں بھی بھارت بہت پیچھے تھا اس کی پوزیشن کو انہوں نے مستحکم کیا اور بڑی کوشش کی اور اللہ کے فضل سے قربانیوں کے لحاظ سے بڑا آگے لے آئے۔سلسلہ کے پیسے کا در درکھنے والے تھے اور بڑی احتیاط سے خرچ کیا کرتے تھے۔علمی صلاحیت بھی کمال تھی۔آپ کے مضامین بڑے عمدہ ہوتے تھے۔سالہا سال تک اخبار بدر قادیان کی کامیاب ادارت کی توفیق پائی۔اخبار بدر میں آپ کے اداریے دینی معلومات سے پر اور اردو کی فصاحت و بلاغت سے بھر پور ہوتے تھے۔حیدرآباد دکن میں ایک مقابلہ ہوا کر تا تھا۔ادارہ تعمیر ملت تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر مقابلہ کراتا تھا اور وہاں بھی ایک دفعہ انہوں نے مضمون لکھا تھا اور پہلا انعام حاصل کیا۔یہ چالیس سال پرانی بات ہے۔جوانی کی بات ہے۔مرحوم بہت سی خوبیوں کے حامل وجود تھے۔ملنساری، مہمان نوازی، انتھک محنت ان کے نمایاں وصف تھے۔جلسہ سالانہ سے قبل بڑی لگن کے ساتھ مہمانوں کی آمد کی تیاری کرتے تھے۔محدود وسائل ہونے کے باوجود بہت عمدگی سے مہمان نوازی کا انتظام کرتے۔بڑے صائب الرائے تھے۔غریبوں کے ہمدرد تھے اور افسران بالا کے انتہائی مطیع۔خلافت سے گہری وابستگی تھی۔آپ کا عرصہ خدمت قریباً باون سال پر پھیلا ہوا ہے۔آپ کی چار بیٹیاں اور ایک بیٹے ہیں۔اور بیٹے یہاں ہیں اور ایک بیٹی اان کی امریکہ میں ہے اور ایک قادیان میں۔ان کے داماد خالد احمد الہ دین صاحب نے لکھا کہ بیماری کے دنوں میں جب کبھی میں ان کو آرام کرنے کا کہتا تو یہی جواب دیتے تھے کہ میری خواہش ہے کہ میں آخر دم تک خدمت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو جاؤں اور اس عہد کو انہوں نے نبھایا۔اور ان کے نائب صدر مجلس تحریک جدید لکھتے ہیں ان کا طالبعلمی کے زمانہ سے خاکسار کے ساتھ تعلق تھا اور مختلف مواقع پر ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔بحیثیت نائب ناظر بیت المال آمد مقرر ہوئے تو اس وقت موصوف نے خاکسار کے ساتھ ایک لمبے عرصے تک نہایت عمدگی سے کام کیا۔نہایت اطاعت گزار، محنتی، دیانتدار تھے اور مالی معاملات پر بڑی گہری نظر رکھنے والے تھے۔جب ان کو وکیل المال کا چارج دیا گیا ہے تو