خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 160
خطبات مسرور جلد 17 160 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 مارچ 2019ء بھینٹ چڑھ گئے اور شہید کیے گئے۔اللہ تعالیٰ ان سب پر رحم فرمائے۔ان سے رحم کا سلوک فرمائے اور ان کے لواحقین کو صبر عطا فرمائے۔کچھ باتیں بعد میں بھی آگئیں تو اس موقع پر نہ بیان کرنے کا فائدہ اس لحاظ سے ہو گیا کہ نیوزی لینڈ کی حکومت نے اور خاص طور پر وزیر اعظم نے جن اعلیٰ ترین اخلاق کا مظاہرہ کیا ہے اور حکومت کے فرائض ادا کرنے کا حق ادا کیا ہے وہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔کاش کہ مسلمان حکومتیں بھی اس سے سبق لیں اور مذہبی منافرت کو ختم کرنے میں اپنا کر دار ادا کرنے والی ہوں۔وہاں کے عوام نے بھی پورا ساتھ دیا ہے۔سنا ہے کہ آج جمعہ کو ریڈیو اور ٹیلی ویژن نے یہ بھی اعلان کیا تھا کہ جمعہ کے وقت میں مسلمانوں سے پیچجہتی کے سلوک کے طور پر، ٹیلی ویژن اور ریڈیو پر اذانیں بھی دی جائیں گی۔غیر مسلم عورتوں نے، عیسائی عورتوں نے بھی یکجہتی کے اظہار کے طور پر سر پر سکارف اور دوپٹہ لینے کا اعلان کیا۔اللہ تعالیٰ ان کی ان نیکیوں کو قبول کرتے ہوئے ان کو سچائی اور حق کے پہچاننے کی بھی توفیق عطا فرمائے۔وہاں مسجد میں بہت سے لوگ جو مسلمان تھے جن کو اس ظالم قاتل نے شہید کیا ان میں سے ایک خاتون کاٹی وی پر انٹر ویو آرہا تھا اور غیر معمولی صبر اور حوصلہ اس نے دکھایا۔ان کا خاوند بھی اور 21 سالہ نوجوان بیٹا بھی اس کی بھینٹ چڑھ گئے۔اور وہ اس طرح کہ لوگوں کی مدد کرتے ہوئے انہوں نے اپنی جان دی ہے تو بہر حال ایک نیکی کی خاطر اور نیک مقصد کی خاطر جان دی۔اللہ تعالیٰ ان سے رحم کا سلوک فرمائے۔یہ ایک انتہائی قابل افسوس واقعہ ہے اور وہاں کے مسلمانوں نے تو بڑے صبر اور حوصلے کا مظاہرہ کیا ہے اور یہی ایک مسلمان سے توقع کی جاسکتی ہے۔اور یہی ایک اظہار ہے جو مسلمان کو کرنا چاہیے لیکن بعض شدت پسند گروہوں نے یہ اعلان کیا ہے کہ ہم اس کا بدلہ لیں گے حالانکہ انتہائی غلط چیز ہے۔اس طرح تو دشمنیاں چلتی چلی جائیں گی۔اللہ تعالیٰ کرے کہ اسلام کے اندر جو شدت پسند گروہ ہیں ان کا بھی خاتمہ ہو اور اسلام کی حقیقی اور خوبصورت تعو دنیا میں پھیلے اور مسلمانوں کو بھی اللہ تعالیٰ یہ توفیق عطا فرمائے کہ ان کی اکثریت بلکہ تمام ہی زمانے کے امام کو ماننے والے ہوں اور تاکہ پھر ایک ہو کر دنیا میں اسلام کی حقیقی اور خوبصورت تعلیم کو پھیلایا جا سکے۔اس کے علاوہ کچھ نمازوں کے بعد میں جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا۔پہلا جنازہ ہے مولانا خورشید احمد انور صاحب کا جو قادیان میں تحریک جدید کے وکیل المال تھے۔19 / مارچ کو 73 سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی ہے۔انا للہ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رجِعُوْنَ۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔ایک لمبے عرصے سے کینسر کی وجہ سے علیل تھے لیکن بڑے صبر اور ہمت اور حوصلے کے ساتھ آپ نے اس بیماری کا سامنا کیا، اس بیماری کو برداشت کیا۔شدید بیماری اور کمزوری کے باوجود اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی میں کبھی کو تاہی نہیں کی۔باقاعدگی سے دفتر آتے۔بلکہ اپنے وقف کو آخر دم تک احسن رنگ میں جس حد تک کوشش ہو سکتی تھی نبھانے کی کوشش کی بلکہ میں سمجھتا ہوں جس طرح حق ادا کرنا چاہیے تھا وہ حق ادا کیا۔مرحوم عبد العظیم صاحب درویش قادیان اور رئیسہ بیگم صاحبہ کے بیٹے تھے اور پنڈی بھٹیاں سے ان کا تعلق تھا۔ان کے خاندان میں سب سے پہلے ان کے والد کو قبول احمدیت کی توفیق نصیب ہوئی۔بیعت کے بعد آپ کے دادا نے ان کی شدید مخالفت کی اور زدو کوب کیا۔پھر انہوں نے