خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 158
خطبات مسرور جلد 17 158 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 مارچ 2019ء کے ثبوت میں دکھا دوں کہ حضرت عیسی علیہ السلام آسمان پر زندہ چلے گئے ہیں تو کیا آپ مان جائیں گے ؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا سینکڑوں آیات کا کیا ذکر ہے۔اگر آپ ایک ہی آیت مجھے ایسی دکھا دیں گے تو میں مان لوں گا۔کہنے لگے الحمد للہ۔میں لوگوں سے یہی بحث کرتا آیا ہوں کہ حضرت مرزا صاحب سے منوانا تو کچھ مشکل بات نہیں ہے یو نہی لوگ شور مچاتے ہیں۔پھر کہنے لگے اچھا سینکڑوں نہ سہی میں اگر سو آیتیں ہی حیات مسیح کے ثبوت میں پیش کر دوں تو کیا آپ مان لیں گے ؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ میں نے تو کہہ دیا ہے کہ اگر آپ ایک ہی آیت ایسی پیش کر دیں گے تو میں مان لوں گا۔قرآن مجید کی جس طرح سو آیتیوں پر عمل کرناضروری ہے اسی طرح اس کے ایک ایک لفظ پر عمل کرنا ضروری ہے۔ایک یا سو آیتوں کا سوال ہی نہیں۔کہنے لگے اچھا سو نہ سہی پچاس آیتیں اگر میں پیش کر دوں تو کیا آپ کا وعدہ رہا کہ آپ اپنی بات چھوڑ دیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پھر فرمایا میں تو کہہ چکا ہوں کہ آپ ایک ہی آیت پیش کریں میں ماننے کے لیے تیار ہوں۔اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام جوں جوں اس امر پر پختگی کا اظہار کرتے جائیں انہیں شبہ ہوتا جائے کہ شاید اتنی آیتیں قرآن میں نہ ہوں۔آخر کہنے لگے اچھا دس آیتیں اگر میں پیش کر دوں تو پھر ضرور مان جائیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہنس پڑے اور فرمایا میں تو اپنی پہلی ہی بات پر قائم ہوں۔آپ ایک آیت ہی پیش کریں۔کہنے لگے اچھا اب میں جاتا ہوں چار پانچ دن تک آؤں گا اور آپ کو قرآن سے ایسی آیتیں دکھلا دوں گا۔ان دنوں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی لاہور میں تھے اور حضرت خلیفہ اول بھی وہیں تھے اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی سے اس وقت مباحثے کے لیے شرائط کا تصفیہ ہو رہا تھا جس کے لیے آپس میں خط و کتابت بھی ہو رہی تھی۔مباحثے کا موضوع وفات مسیح تھا۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی یہ کہتے تھے کہ چونکہ قرآن مجید کی مفسر حدیث ہے اس لیے جب حدیثوں سے کوئی بات ثابت ہو جائے تو وہ قرآن مجید کی ہی بات سمجھی جائے گی۔اس لیے حدیثوں کی رو سے وفات وحیات مسیح پر بحث ہونی چاہیے اور حضرت مولوی صاحب فرماتے تھے کہ قرآن مجید حدیث پر مقدم ہے۔اس لیے بہر صورت قرآن سے ہی اپنے مدعا کو ثابت کرنا ہو گا۔اس پر بہت دنوں بحث رہی اور بحث کو مختصر کرنے کے لیے اور اس لیے کہ تا کسی نہ کسی طرح مولوی محمد حسین بٹالوی سے مباحثہ ہو جائے حضرت خلیفہ اول اس کی بہت سی باتوں کو تسلیم کرتے چلے گئے کہ ٹھیک ہے۔یہ بھی ٹھیک ہے اور مولوی محمد حسین بہت خوش تھے کہ جو شرائط میں منوانا چاہتا ہوں وہ مان رہے ہیں۔اس دوران میں میاں نظام الدین صاحب بھی وہاں پہنچے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے جب رخصت ہوئے تو ان کے پاس پہنچے اور کہنے لگے اب تمام بخشیں بند کر دو۔میں اب حضرت مرزا صاحب سے مل کر آیا ہوں اور وہ بالکل تو بہ کرنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔میں چونکہ آپ کا بھی دوست ہوں اور مرزا صاحب کا بھی اس لیے مجھے اس اختلاف سے بہت تکلیف ہوئی ہے۔میں یہ بھی جانتا تھا کہ حضرت مرزا صاحب کی طبیعت میں نیکی ہے اس لیے میں ان کے پاس گیا اور ان سے وعدہ لے کر آیا ہوں کہ قرآن سے دس آیتیں حضرت عیسی علیہ السلام