خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 157
خطبات مسرور جلد 17 157 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 مارچ 2019ء فرماتے ہیں دو مجسٹریٹ تھے جن کی عدالت میں یکے بعد دیگرے یہ مقدمہ پیش ہوا اور ان دونوں کو بڑی سخت سزا ملی۔جو آپ کے خلاف کرنا چاہتے تھے ان میں سے ایک تو معطل ہوا اور ایک کا بیٹا دریا میں ڈوب کر مر گیا اور وہ اسی غم میں نیم پاگل ہو گیا۔اس پر اس واقعہ کا اتنا اثر تھا، حضرت مصلح موعودؓ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میں دہلی جار ہا تھا کہ وہ لدھیانے کے سٹیشن پر مجھے ملا اور بڑے الحاج سے ، بڑی لجاجت سے ، بڑے درد سے کہنے لگا کہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے صبر کی توفیق دے۔مجھ سے بڑی بڑی غلطیاں ہوئی ہیں اور میری حالت ایسی ہے کہ میں ڈرتا ہوں کہ میں کہیں پاگل نہ ہو جاؤں۔آپ نے فرمایا کہ انہوں نے کہا کہ میرا ایک بیٹا ہے دعا کریں، ایک بیٹا تو مر گیا۔اب ایک بیٹا اور ہے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اسے اور مجھے دونوں کو ہی تباہی سے بچائے جو ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کیا تھا۔آپ لکھتے ہیں کہ غرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بات پوری ہوئی کہ خدا تعالیٰ کے شیر پر کون ہاتھ ڈال سکتا ہے اور آریوں کو ان کے مقصد میں ناکامی ہوئی۔(ماخوذ از تفسیر کبیر جلد 6 صفحه 359) پھر آپ لکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے کا ایک دلچسپ واقعہ ہے۔آپ کے ایک دوست تھے جو مولوی محمد حسین بٹالوی کے بھی دوست تھے۔ان کا نام نظام الدین تھا۔انہوں نے سات حج کیے تھے۔بہت ہنس مکھ اور خوش مزاج تھے۔چونکہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی دونوں سے دوستانہ تعلقات رکھتے تھے اس لیے جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعوای ماموریت کیا اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے آپ پر کفر کا فتوی لگایا تو ان کے دل کو بڑی تکلیف ہوئی کیونکہ ان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نیکی پر بہت یقین تھا۔وہ لدھیانہ میں رہا کرتے تھے اور مخالف لوگ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف کچھ کہتے تو وہ ان سے جھگڑ پڑتے اور کہتے کہ تم پہلے حضرت مرزا صاحب کی حالت تو جا کر دیکھو وہ تو بہت ہی نیک آدمی ہیں۔اور میں نے ان کے پاس رہ کر دیکھا ہے کہ اگر انہیں قرآن مجید سے کوئی بات سمجھادی جائے تو وہ فور ماننے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔وہ فریب ہر گز نہیں کرتے۔کبھی دھوکا نہیں کرتے اگر انہیں قرآن کریم سے سمجھا دیا جائے گا کہ ان کا دعوی غلط ہے تو مجھے یقین ہے کہ وہ فور مان جائیں گے۔بہت دفعہ وہ لوگوں کے ساتھ اس امر میں جھگڑتے اور کہا کرتے تھے کہ جب میں قادیان جاؤں گا تو دیکھوں گا کہ وہ کس طرح اپنے دعویٰ سے تو بہ نہیں کرتے۔میں قرآن کھول کر ان کے سامنے رکھ دوں گا اور جس وقت میں قرآن کی کوئی آیت حضرت عیسی علیہ السلام کے زندہ آسمان پر جانے کے متعلق بتاؤں گا تو وہ فوراًمان جائیں گے۔وہ کہنے لگے کہ میں خوب جانتا ہوں کہ وہ قرآن کی بات سن کر پھر کچھ نہیں کہا کرتے۔آخر ایک دن انہیں خیال آیا اور لدھیانے سے قادیان پہنچے۔آتے ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کہا کہ کیا آپ نے اسلام چھوڑ دیا ہے اور قرآن سے انکار کر دیا ہے ؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے۔قرآن کو تو میں مانتا ہوں اور اسلام میر امذ ہب ہے۔کہنے لگے الحمد للہ۔میں لوگوں سے یہی کہتا رہتا ہوں کہ وہ قرآن کو چھوڑ ہی نہیں سکتے۔پھر کہنے لگے اچھا اگر میں قرآن مجید سے سینکڑوں آیتیں اس امر