خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 156 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 156

خطبات مسرور جلد 17 156 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 مارچ 2019ء نہیں چاہیے کہ ایسا کریں مگر فرما یا وہ بھی دنیا کو نہیں چھوڑ سکتے۔جب دنیا ان کو نہیں ستاتی تو وہ خود اس کو جھنجھوڑتے اور بیدار کرتے ہیں تاکہ دنیا ان کی طرف متوجہ ہو اور ان کی باتوں کو سنے۔" (خطبات محمود جلد 24 صفحہ 272 تا 274) چاہے وہ کسی طرح سنے۔مخالفت میں بھی پھر اچھے لوگ نکل آتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ مولوی محمد حسین بٹالوی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے جوانی کے دوست اور آپ سے تعلق رکھنے والے تھے اور جو ہمیشہ آپ کے مضامین کی تعریف کیا کرتے تھے انہوں نے اس دعوے کے معا بعد، آپ کے دعوے کے معابعد یہ اعلان کیا کہ میں نے ہی اس شخص کو بڑھا یا تھا اور اب میں ہی اسے تباہ کر دوں گا۔اس وقت کون تصور کر سکتا تھا کہ مولوی محمد حسین بٹالوی جیسا معزز اور بار سوخ انسان کسی کے متعلق یہ کہے کہ میں اسے تباہ کر دوں گا اور پھر وہ تباہ بھی نہ ہو۔وہ یقیناً ایسے زور والے انسان تھے کہ جب کہتے تھے تو کر بھی سکتے تھے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اپنے رشتہ داروں نے بھی اعلان کردیا بلکہ بعضوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض رشتہ داروں نے اخبارات میں یہ اعلان بھی چھپوا دیا کہ اس شخص نے دکانداری چلائی ہے۔اس کی طرف کسی کو توجہ نہیں کرنی چاہیے اور اس طرح ساری دنیا کو انہوں نے بد گمان کرنے کی کوشش کی۔پھر آپؐ فرماتے ہیں کہ یہ میرے ہوش کی بات ہے کہ بہت سے کام کرنے والے لوگوں نے جو زمیندارا انتظام میں کھی کہلاتے ہیں آپ کے گھر کے کاموں سے انکار کر دیا۔جو آپ کے ملازم تھے انہوں نے بھی کام سے بالکل انکار کر دیا اس کے محرک دراصل ہمارے رشتہ دار ہی تھے۔غرض اپنوں اور بیگانوں نے مل کر آپ کو مٹانا اور آپ کو تباہ وبرباد کرنا چاہا۔(ماخوذ از الفضل 13 / نومبر 1940ء صفحہ 2-3 جلد 28 نمبر 258) لیکن ہوا کیا! آج آپ کا نام دنیا کے 212 ممالک میں لیا جاتا ہے۔یہ آپ کی صداقت نہیں تو اور کیا ہے ؟ پھر ایک اور نشان صداقت بیان کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ہمارے اندر پیدا کیا اور آپ کا وجود ہمارے لیے آیات مبینات بن گیا۔جو شخص بھی آپ کے پاس بیٹھا اس کو قرآن کریم اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی نظر آگئی اور کوئی چیز اس کو اسلام سے ہٹانے والی نہ رہی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر جب کرم دین بھیں والا مقدمہ ہوا تو مجسٹریٹ ہندو تھا۔آریوں نے اسے ورغلا یا اور کہا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ضرور کچھ نہ کچھ سزا دے اور اس نے ایسا کرنے کا وعدہ بھی کر لیا۔خواجہ کمال الدین صاحب نے جب یہ بات سنی تو ڈر گئے۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں گورداسپور حاضر ہوئے جہاں مقدمے کے دوران میں آپ ٹھہرے ہوئے تھے اور کہنے لگے کہ حضور بڑے فکر کی بات ہے۔آریوں نے مجسٹریٹ سے کچھ نہ کچھ سزا دینے کا وعدہ لے لیا ہے۔اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام لیے ہوئے تھے۔آپ فوراً اٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا خواجہ صاحب ! خدا کے شیر پر کون ہاتھ ڈال سکتا ہے! میں خدا کا شیر ہوں۔وہ مجھ پر ہاتھ ڈال کر تو دیکھے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔