خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 155 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 155

خطبات مسرور جلد 17 155 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 مارچ 2019ء نہیں رہا۔" تھا۔مخالفت میں کچھ کمی ہو گئی تھی۔"بہر حال قومیں آپ کی مخالف تھیں۔تمام مذاہب کے پیرو آپ کے مخالف تھے۔مولوی آپ کے مخالف تھے۔گدی نشین آپ کے مخالف تھے۔عوام آپ کے مخالف تھے اور امراء اور خواص بھی آپ کے دشمن تھے۔غرض چاروں طرف مخالفت کا ایک طوفان برپا تھا۔لوگوں نے آپ کو بہت کچھ سمجھایا بعض نے دوست بن بن کر کہا کہ آپ اپنے دعووں میں کسی قدر کمی کر دیں۔بعض نے کہا کہ اگر آپ فلاں فلاں بات چھوڑ دیں تو سب لوگ آپ کی جماعت میں شامل ہو جائیں گے۔مگر آپ نے ان میں سے کسی کی بھی پرواہ نہ کی اور ہمیشہ اپنے دعوی کو پیش فرماتے رہے۔اس پر شور ہو تا رہا۔ماریں پڑتی رہیں۔قتل ہوتے رہے مگر باوجود ان تمام تکالیف کے " اور یہ اب تک جاری ہیں " اور باوجود اس کے کہ آپ کا مقابلہ ایک ایسی دنیا سے تھا جس کا مقابلہ کرنے کی ظاہری سامانوں کے لحاظ سے آپ میں قطعا طاقت نہ تھی پھر بھی آپ نے اپنے مقابلہ کو جاری رکھا بلکہ مجھے خوب یاد ہے۔" حضرت مصلح موعودؓ لکھتے ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ "میں نے متعدد بار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے سنا کہ نبی کی مثال تو ویسی ہی ہوتی ہے جیسے لوگ کہتے ہیں کہ ایک گاؤں میں ایک پاگل عورت رہتی تھی جب بھی وہ باہر نکلتی چھوٹے چھوٹے لڑکے اکٹھے ہو کر اسے چھیڑ نے لگ جاتے، اس کے ساتھ مذاق کرتے " اسے تنگ کرتے۔۔۔اسے بار بار تنگ کرتے۔وہ بھی مقابلہ میں ان لڑکوں کو گالیاں دیتی اور بد دعائیں دیتی۔آخر ایک دن گاؤں والوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ یہ عورت مظلوم ہے اور ہمارے لڑکے اسے ناحق تنگ کرتے رہتے ہیں۔مظلومیت کی حالت میں یہ انہیں بد دعائیں دیتی ہے کہیں ایسا نہ ہو اس کی بد دعائیں کوئی رنگ لائیں " قبول ہو جائیں کہیں "ہمیں چاہیے کہ اپنے لڑکوں کو روک لیں تاکہ نہ وہ اسے تنگ کریں اور نہ یہ بد دعائیں دے۔چنانچہ اس مشورہ کے بعد انہوں نے فیصلہ کیا کہ کل سے سب گاؤں والے اپنے لڑکوں کو گھروں میں بند رکھیں اور انہیں باہر نہ نکلنے دیں۔چنانچہ دوسرے دن سب لوگوں نے اپنے اپنے لڑکوں سے کہہ دیا کہ آج سے باہر نہیں نکلنا اور مزید احتیاط کے طور پر انہوں نے باہر کے دروازوں کی زنجیریں لگا دیں " تالے لگا دیئے۔"جب دن چڑھا اور وہ پاگل عورت حسب معمول اپنے گھر سے نکلی تو کچھ عرصہ تک وہ ادھر ادھر گلیوں میں پھرتی رہی۔کبھی ایک گلی میں جاتی اور کبھی دوسری "گلی " میں مگر اسے کوئی لڑکا نظر نہ آیا۔پہلے تو یہ حالت ہوا کرتی تھی کہ کوئی لڑکا اس کے دامن کو گھسیٹ رہا ہے، کوئی اسے چٹکی کاٹ رہا ہے، کوئی اسے دھکا دے رہا ہے ، کوئی اس کے ہاتھوں کے ساتھ چمٹا ہوا ہے اور کوئی اس سے مذاق کر رہا ہے مگر آج اسے کوئی لڑکا دکھائی نہ دیا۔دوپہر تک تو اس نے انتظار کیا مگر جب دیکھا کہ اب تک بھی کوئی لڑکا اپنے گھر سے نہیں نکلا تو وہ دکانوں پر گئی اور ہر دکان پر جاکر کہتی آج تمہارا گھر گر گیا ہے؟ بچے مر گئے ہیں ؟ آخر کیا ہوا کیا ہے کہ وہ نظر نہیں آتے؟ تھوڑی دیر کے بعد جب اس طرح اس نے ہر دکان پر جاکر کہنا شروع کیا تو لوگوں نے کہا گالیاں تو اس طرح بھی ملتی ہیں اور اس طرح بھی۔چھوڑو بچوں کو ، ان کو قید کیوں کر رکھا ہے۔آپ یہ حکایت بیان کر کے فرمایا کرتے تھے کہ انبیاء علیہم السلام کا حال بھی اپنے رنگ میں ایسا ہی ہوا کرتا ہے۔دنیا ان کو چھیڑتی ہے، تنگ کرتی ہے، ان پر ظلم و ستم ڈھاتی ہے اور اس قدر ظلم کرتی ہے کہ ان کے لیے زندگی گزارنا مشکل ہو جاتا ہے اور ایک طبقہ کے دل میں یہ احساس پید ا ہو نا شروع ہو جاتا ہے کہ لوگ ظلم سے کام لے رہے ہیں۔انہیں