خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 154 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 154

خطبات مسرور جلد 17 154 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 مارچ 2019ء جگہوں پر پیش فرمائے۔ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ " جب مخالفت ترقی کرتی ہے تو جماعت کو بھی ترقی حاصل ہوتی ہے اور جب مخالفت بڑھتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی معجزانہ تائیدات اور نصر تیں بھی بڑھ جاتی ہیں۔" حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حوالے سے آپ بیان فرماتے ہیں کہ " اسی لیے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں جب کوئی دوست یہ ذکر کرتے کہ ہمارے ہاں بڑی مخالفت ہے تو آپ فرماتے یہ تمہاری ترقی کی علامت ہے۔جہاں مخالفت ہوتی ہے وہاں جماعت بھی بڑھتی ہے کیونکہ مخالفت کے نتیجہ میں کئی ناواقف لوگوں کو بھی سلسلہ سے واقفیت ہو جاتی ہے اور پھر رفتہ رفتہ ان کے دل میں سلسلہ کی کتابیں پڑھنے کا شوق پید اہو جاتا ہے اور جب وہ کتابیں پڑھتے ہیں تو صداقت ان کے دلوں کو موہ لیتی ہے۔" فرماتے ہیں کہ "حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں ایک دفعہ ایک دوست حاضر ہوئے اور انہوں نے آپ کی بیعت کی۔بیعت لینے کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان سے دریافت فرمایا کہ آپ کو کس نے تبلیغ کی تھی؟ وہ بے ساختہ کہنے لگے کہ مجھے تو مولوی ثناء اللہ صاحب نے تبلیغ کی ہے۔" جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بڑے مخالف تھے۔" حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حیرت سے فرمایا وہ کس طرح ؟" کہتے ہیں " وہ کہنے لگے میں مولوی صاحب کا اخبار اور ان کی کتابیں پڑھا کرتا تھا اور میں ہمیشہ دیکھتا کہ ان میں جماعت احمدیہ کی شدید مخالفت ہوتی تھی۔ایک دن مجھے خیال آیا کہ میں خود بھی تو اس سلسلہ کی کتابیں دیکھوں " اتنی مخالفت جو ہو رہی ہے تو کتابیں دیکھوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا کیا ہے کہ ان میں کیا لکھا ہے۔اور جب میں نے ان کتابوں کو پڑھنا شروع کیا تو میر اسینہ کھل گیا اور میں بیعت کے لیے تیار ہو گیا۔تو مخالفت کا پہلا فائدہ یہ ہو تا ہے کہ اس سے الہی سلسلہ کو ترقی حاصل ہوتی ہے اور کئی لوگوں کو ہدایت میسر آجاتی ہے۔" ( تفسیر کبیر جلد 6 صفحه 487) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مخالفت کے حوالے سے کہ انبیاء کس طرح اپنی مخالفت پر رد عمل دکھاتے ہیں۔اس بارے میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اس طرح بیان فرمایا کرتے تھے۔پہلے تو مصری حکومت کی پرانے زمانے کی مثال دی ہے۔آپ لکھتے ہیں کہ "مصری حکومت اپنے زمانہ میں نہایت نامور حکومت تھی اور اس کا بادشاہ اپنی طاقت وقوت پر ناز رکھتا تھا۔" فرعون تھے وہاں کے " ایسے بادشاہ کے مقابلہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کوئی حیثیت ہی نہیں تھی۔مگر باوجو د اس کے جب وہ بادشاہ کے پاس گئے تو گو بادشاہ نے ان کو ڈرایا دھمکایا اور انہیں اور ان کی قوم کو تباہ و برباد کر دینے کا ارادہ ظاہر کیا اور کہا کہ اگر تم باز نہ آئے تو تمہیں بھی مٹا دیا جائے گا اور تمہاری قوم کو بھی۔مگر حضرت موسیٰ علیہ السلام باز نہ آئے اور انہوں نے کہا کہ جو پیغام مجھے خدا نے دنیا کے لیے دیا ہے وہ میں ضرور پہنچاؤں گا۔دنیا کی کوئی طاقت مجھے اس سے روک نہیں سکتی۔" فرماتے ہیں کہ " یہی حال حضرت عیسی علیہ السلام کا تھا۔یہی حال محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا اور ایسی ہی حالت ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دیکھی۔ساری قو میں آپ کی مخالف تھیں، حکومت بھی ایک رنگ میں آپ کی مخالف ہی تھی گو آخری زمانہ میں یہ رنگ