خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 153 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 153

خطبات مسرور جلد 17 153 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 مارچ2019ء بعثت سے ، شریعت اترنے سے ہوئی " اور تکمیل اشاعت ہدایت " اس ہدایت کی، شریعت کی جو اشاعت ہونی ہے وہ " آپ کی آمد ثانی سے ہوئی کیونکہ سورۂ جمعہ میں جو آخرین منہم (الجمعة: 4) والی آیت آپ کے فیض اور تعلیم سے ایک اور قوم کے تیار کرنے کی ہدایت کرتی ہے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی ایک بعثت اور ہے اور یہ بعثت بروزی رنگ میں ہے۔" ایک ظلی ہے "جو اس وقت ہو رہی ہے۔پس یہ وقت تکمیل اشاعت ہدایت کا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اشاعت کے تمام ذریعے اور سلسلے مکمل ہو رہے ہیں۔چھاپہ خانوں کی کثرت " ہے۔پریس بے شمار ہے" اور آئے دن ان میں نئی باتوں کا پیدا ہونا۔" پریس میں بھی زیادہ سہولتیں مل رہی ہیں۔بلکہ جدید ٹیکنالوجی اس میں استعمال ہو رہی ہے "ڈاکخانوں ، تار برقیوں، ریلوں، جہازوں کا اجرا اور اخبارات کی اشاعت، ان سب امور نے مل ملا کر دنیا کو ایک شہر کے حکم میں کر دیا ہے۔پس یہ ترقیاں بھی دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی ترقیاں ہیں کیونکہ اس سے آپ کی کامل ہدایت کے کمال کا دوسراجز و تکمیل اشاعت ہدایت پورا ہورہا ہے۔" (ملفوظات جلد 4 صفحہ 10) اور فرماتے ہیں کہ " اب ان تمام امور کو یکجا کر کے دانشمند غور کرے کہ جو کچھ ہم کہتے ہیں کیا وہ اس قابل ہے کہ سرسری نگاہ سے اسے رڈ کر دیا جائے ؟ یا یہ کہ اس پر پورے غور اور فکر سے کام لیا جاوے۔جو کچھ ہمارا دعوے ہے کیا یہ صدی کے سر پر ہے یا نہیں ؟ اگر ہم نہ آتے تب بھی ہر ایک عقل مند اور خداترس کو لازم تھا کہ وہ کسی آنے والے کی تلاش کر تا کیونکہ صدی کا سر آگیا تھا اور اب تو جبکہ ہمیں برس گزرنے کو ہیں اور بھی زیادہ فکر کی ضرورت تھی۔موجودہ فساد اپنی جگہ پکار پکار کر کہہ رہا تھا کہ کوئی شخص اس کی اصلاح کے لیے آنا چاہیے۔" فرمایا کہ "عیسائیت نے وہ آزادی اور بے قیدی پھیلائی ہے جس کی کوئی حد ہی نہیں ہے اور مسلمانوں کے بچوں پر جو اس کا اثر ہوا ہے اسے دیکھ کر کہنا پڑتا ہے کہ مسلمانوں کے بچے ہی نہیں ہیں۔" ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 13-14) آپ فرماتے ہیں کہ حق معلوم کرنے کا ذریعہ کیا ہونا چاہیے ؟ کس طرح حق معلوم کرو ؟ فرماتے ہیں " خدا تعالیٰ سے اپنی نمازوں میں دعائیں مانگیں کہ وہ ان پر حق کھول دے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر انسان تعصب اور ضد سے پاک ہو کر حق کے اظہار کے لیے خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرے گا تو ایک چلہ نہ نہ گزرے گا چالیس دن نہیں گزریں گے کہ اس پر حق کھل جائے گا۔مگر بہت ہی کم لوگ ہیں جو ان شرائط کے ساتھ خدا تعالیٰ سے فیصلہ چاہتے ہیں اور اس طرح پر اپنی کم سمجھی یا ضد و تعصب کی وجہ سے خدا کے ولی کا انکار کر کے ایمان سلب کر الیتے ہیں کیونکہ جب ولی پر ایمان نہ رہے تو ولی جو نبوت کے لیے بطور میخ کے ہے اسے پھر نبوت کا انکار پڑتا ہے اور نبی کے انکار سے خدا کا انکار ہوتا ہے اور اس طرح پر بالکل ایمان سلب ہو جاتا ہے۔" (ملفوظات جلد 4 صفحہ 16) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ان چند حوالوں کے بعد اب میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مختلف حوالے پیش کرتا ہوں جو آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارے میں مختلف