خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 152
خطبات مسرور جلد 17 152 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 مارچ 2019ء اب یہ لکھنے والا کوئی احمدی نہیں بلکہ ایک غیر ہے۔لیکن مجبور ہوئے اور غیروں کے بھی حوالے دے رہے ہیں اور اس طرح کے بے شمار اخباروں نے لکھا۔پھر آپ مامور اٹھی ہونے کی شہادتیں پیش کرتے ہوئے مزید فرماتے ہیں کہ " غرض اس وقت میرے مامور ہونے پر بہت سے شہادتیں ہیں۔اول: اندرونی شہادت۔دوم: بیرونی شہادت۔سوم: صدی کے سر پر آنے والے مجدد کی نسبت حدیث صحیح۔چہارم: إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لحفِظُونَ (الحجر: 10) کا وعدہ حفاظت۔اب پانچویں اور زبردست شہادت میں اور پیش کرتا ہوں اور وہ سورہ نور میں وعد ہ استخلاف ہے۔اس میں اللہ تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے۔" پہلے بھی ذکر ہو گیا کہ " وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ (النور: 56) اس آیت میں وعدہ استخلاف کے موافق جو خلیفے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلہ میں ہوں گے وہ پہلے خلیفوں کی طرح ہوں گے۔اسی طرح قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مثیل موسیٰ فرمایا گیا ہے۔جیسے فرمایا إِنَّا أَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْسَلْنَا إِلى فِرْعَوْنَ رَسُولًا (المزّمّل: 16) اور آپ مشیل موسیٰ استثنا کی پیشگوئی کے موافق بھی ہیں۔بائبل میں پیشگوئی ہے۔" پس اس مماثلت سے جیسے گیا کا لفظ فرمایا گیا ہے ویسے ہی سورہ نور میں گیا کا لفظ ہے۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ موسوی سلسلہ اور محمدی سلسلہ میں مشابہت اور مماثلت تامہ ہے۔موسوی سلسلہ کے خلفا کا سلسلہ حضرت عیسی علیہ السلام پر آکر ختم ہو گیا تھا اور وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد چودھویں صدی میں آئے تھے۔اس مماثلت کے لحاظ سے کم از کم اتنا تو ضروری ہے کہ چودھویں صدی میں ایک خلیفہ اسی رنگ و قوت کا پیدا ہو جو مسیح سے مماثلت رکھتا ہو اور اس کے قلب اور قدم پر ہو۔پس اگر اللہ تعالیٰ اس امر کی اور دوسری شہادتیں اور تائیدیں نہ بھی پیش کرتا تو یہ سلسلہ مماثلت بالطبع چاہتا تھا کہ چودھویں صدی میں عیسوی بروز آپ کی امت میں ہو ورنہ آپ کی مماثلت میں معاذ اللہ ایک نقص اور ضعف ثابت ہو تا لیکن اللہ تعالیٰ نے نہ صرف اس مماثلت کی تصدیق اور تائید فرمائی بلکہ یہ بھی ثابت کر دکھایا کہ مشیل موسیٰ، موسیٰ سے اور تمام انبیاء علیہم السلام سے افضل تر ہے۔" یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء سے افضل تر ہیں۔فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام جیسے اپنی کوئی شریعت لے کر نہ آئے تھے بلکہ توریت کو پورا کرنے آئے تھے۔اسی طرح محمدی سلسلہ کا مسیح اپنی شریعت لے کر نہیں آیا بلکہ قرآن شریف کے احیاء کے لیے آیا ہے۔" اس کو زندہ کرنے کے لیے آیا ہے۔قرآن کریم کی تعلیم پھیلانے کے لیے آیا ہے " اور اس تکمیل کے لیے آیا ہے جو تکمیل اشاعت ہدایت کہلاتی ہے۔" ( ملفوظات جلد نمبر 4 صفحہ 9-10) پھر آپ اس بارے میں مزید فرماتے ہیں کہ " تکمیل اشاعت ہدایت کے متعلق یاد رکھنا چاہیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جو اتمام نعمت اور اکمال الدین ہوا تھا یعنی دین اپنے کمال کو پہنچ گیا اور نعمت اپنے انتہا کو پہنچ گئی جہاں تک پہنچ سکتی تھی " تو اس کی دو صورتیں ہیں۔اول، تکمیل ہدایت۔دوسری تکمیل اشاعت ہدایت۔" آپ فرماتے ہیں " تکمیل ہدایت من کل الوجوہ آپ کی آمد اول سے ہوئی۔"ہدایت کی تکمیل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی