خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 151 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 151

خطبات مسرور جلد 17 151 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 مارچ 2019ء متعلق۔سو یادر ہے کہ دجال کا خروج مشرق میں بتایا گیا ہے جس سے ہمارا ملک مراد ہے۔چنانچہ صاحب حجج الکرامه نے لکھا ہے کہ فتن دجال کا ظہور ہندوستان میں ہو رہا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ ظہورِ مسیح اسی جگہ ہو جہاں دجال ہو۔پھر اس گاؤں کا نام قدعہ قرار دیا ہے جو قادیان کا مخفف ہے۔یہ ممکن ہے کہ یمن کے علاقہ میں بھی اس نام کا کوئی گاؤں ہو۔" آپ فرماتے ہیں کہ ممکن ہے کہ یمن کے علاقے میں بھی اس نام کا کوئی گاؤں ہو۔کہا جاتا ہے "لیکن یہ یاد رہے کہ یمن حجاز سے مشرق میں نہیں بلکہ جنوب میں ہے۔" فرمایا کہ "۔۔۔اس کے علاوہ خود قضاء و قد ر نے اس عاجز کا نام جو رکھوایا ہے تو وہ بھی ایک لطیف اشارہ اس طرف رکھتا ہے کیونکہ غلام احمد قادیانی کے عدد بحساب جمل پورے تیرہ سو نکلتے ہیں۔" جو حروف ابجد کے نمبر بنتے ہیں اس کے حساب سے یہ تیرہ سو نکلتے ہیں " یعنی اس نام کا امام چودھویں صدی کے آغاز پر ہو گا۔غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اشارہ اسی طرف تھا۔" ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 50) پھر آپ نشانات کے بارے میں مزید فرماتے ہیں کہ " حوادث بھی ایک علامت تھی" مختلف قسم کی آفتیں آئیں گی، حادثات ہوں گے۔فرمایا کہ " حوادث سماوی نے قحط ، طاعون اور ہیضہ کی صورت پکڑ لی۔طاعون وہ خطر ناک عذاب ہے کہ اس نے گورنمنٹ تک کو زلزلہ میں ڈال دیا جس زمانے میں آپ بیان فرما رہے ہیں اس زمانے میں یہ پانچ چھ سال رہا اور بڑی خوفناک تباہی پھیلائی " اور اگر اس کا قدم بڑھ گیا تو ملک صاف ہو جائے گا اتنی تیزی سے پھیل رہا تھا۔پھر فرماتے ہیں کہ " ارضی حوادث، لڑائیاں ، زلازل تھے جنہوں نے ملک کو تباہ کیا اور زمینی لڑائیاں تو ابھی بھی اسی طرح جاری ہیں۔" مامور من اللہ کے لیے یہ بھی ضرور ہے کہ وہ اپنے ثبوت میں آسمانی نشان دکھاوے۔فرمایا کہ " ایک لیکھرام کا نشان کا کیا کچھ کم نشان تھا؟ ایک کشتی کے طور پر کئی سال تک ایک شرط بدھی رہی۔پانچ سال تک برابر جنگ ہو تا رہا۔طرفین نے اشتہار دیے، عام شہرت ہو گئی" ہر طرف لیکھرام کا واقعہ مشہور ہو گیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے مقابلہ ہو رہا ہے۔" ایسی شہرت جس کی مثال بھی محال ہے۔پھر ایسا ہی واقعہ ہوا جیسے کہ کہا گیا تھا۔کیا اس واقعہ کی کوئی اور نظیر ہے؟ دھرم مہوتسو کے متعلق بھی کئی دن پہلے اعلان کیا کہ ہم کو اللہ تعالیٰ نے اطلاع دی ہے کہ ہمارا مضمون سب پر غالب رہے گا۔جن لوگوں نے اس عظیم الشان اور پر رعب جلسہ کو دیکھا ہے وہ خود غور کر سکتے ہیں کہ ایسے جلسہ میں غلبہ پانے کی خبر پیش از وقت دینی کوئی اٹکل یا قیاس نہ تھا۔پھر آخر وہی ہوا جیسے کہا گیا۔" آپ کی کتاب جو " اسلامی اصول کی فلاسفی" ہے یہ اس کے بارے میں تھا۔اس کے بارے میں اس زمانے کا ایک اخبار جنرل و گوہر آصفی کلکتہ ہے۔اس کا ایک بیان پڑھ دیتا ہوں۔وہ لکھتا ہے کہ "اگر اس جلسے میں حضرت مرزا صاحب کا مضمون نہ ہو تا تو اسلامیوں پر غیر مذاہب والوں کے روبر وذلت و ندامت کا قشقہ لگتا۔مگر خدا کے زبر دست ہاتھ نے مقدس اسلام کو گرنے سے بچالیا۔بلکہ اس کو اس مضمون کی بدولت ایسی فتح نصیب فرمائی کہ موافقین تو موافقین مخالفین بھی سچی فطرتی جوش سے کہہ اٹھے کہ یہ مضمون سب پر بالا ہے۔بالا ہے۔" لملفوظات جلد 1 صفحہ 50 تا 51) تاریخ احمدیت جلد 1 صفحہ 572)