خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 150 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 150

150 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 مارچ 2019ء خطبات مسرور جلد 17 درست کہا۔ہمارے اشتہارات بطور منادی جہاں جہاں نہ پہنچ سکتے تھے وہاں وہاں اس کسوف و خسوف نے آنے والے کے وقت کی منادی کر دی۔یہ خدا کا نشان تھا جو انسانی منصوبوں سے بالکل پاک تھا۔خواہ کوئی کیسا ہی فلسفی ہو وہ غور کرے اور سوچے کہ جب مقرر کردہ نشان پورا ہو گیا تو ضرور ہے کہ اس کا مصداق بھی کہیں ہو۔یہ امر ایسا نہ تھا کہ جو کسی حساب کے ماتحت ہو جیسے کہ فرمایا تھا کہ یہ اس وقت ہو گا جب کوئی مدعی مہدویت ہو چکے گا۔" مہدی اور مسیح کا دعوی ہو چکا ہو گا تب یہ نشان ظاہر ہو گا۔فرماتے ہیں کہ "رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ آدم سے لے کر اس مہدی تک کوئی ایسا واقعہ نہیں ہوا۔اگر کوئی شخص تاریخ سے ایسا ثابت کرے تو ہم مان لیں گے۔" (ملفوظات جلد 1 صفحہ 48-49) پھر آپ فرماتے ہیں کہ " ایک اور نشان یہ بھی تھا کہ اس وقت ستارہ ذوالسنین طلوع کرے گا۔یعنی ان برسوں کا ستارہ جو پہلے گزر چکے ہیں۔یعنی وہ ستارہ جو صحیح ناصری کے ایام (برسوں ) میں طلوع ہو اتھا۔اب وہ ستارہ بھی طلوع ہو گیا جس نے یہودیوں کے مسیح کی اطلاع آسمانی طور سے دی تھی۔اسی طرح قرآن شریف کے دیکھنے سے بھی پتہ لگتا ہے وَ إِذَا الْعِشَارُ عُقِلَتْ وَ إِذَا الْوُحُوشُ حُشِرَتْ وَإِذَا الْبِحَارُ سُجْرَتْ وَإِذَا النُّفُوسُ زُوجَتْ وَإِذَا الْمَوْ دَةُ سُبِلَتْ بِأَي ذَنْبٍ قُتِلَتْ وَإِذَا الصُّحُفُ نُشرت_(التكوير: 5-11)" یہ ساری پیشگوئیاں قرآن کریم میں ہیں کہ وحشی اکٹھے کیے جائیں گے۔اس کی مختلف تشریح ہے۔یہ بھی ہے کہ چڑیا گھر قائم ہو گئے۔یہ بھی ہے کہ تعلیم عام ہو کے دنیا میں پھیل گئی۔یہ بھی ہے کہ بعض مقامی لوگوں کو بعض قوموں نے حملہ کر کے ختم کر دیا۔پھر سمندروں کے ملائے جانے کا بھی ہے۔لوگوں کے ملائے جانے کا بھی ہے۔اب رابطے کے آسان ترین طریقے ہو گئے ہیں اور اب تو ایک سیکنڈ میں دنیا میں ہر جگہ رابطے ہو جاتے ہیں۔پھر یہ ہے کہ عورت جس پہ اس وقت جو ظلم ہو تا تھا۔اس کے حقوق مارے جاتے تھے۔قتل کی جاتی تھی وہ سوال کرے گی کہ کس جرم میں مجھے قتل کیا جارہا ہے ؟ صحیفے نشر کیے جائیں گے۔پریس میڈیا ہے یہ ساری چیزیں ثابت کرتی ہیں کہ یہ زمانہ مسیح موعود کا زمانہ ہے اور قرآن شریف میں اس کی پیشگوئیاں موجو د ہیں۔آپ فرماتے ہیں " یعنی اس زمانہ میں اونٹنیاں بیکار ہو جاویں گی۔اعلیٰ درجہ کی سواری اور بار برداری جن سے ایام سابقہ میں ہوا کرتی تھی یعنی اس زمانہ میں سواری کا انتظام کوئی ایسا عمدہ ہو گا یعنی مسیح کے زمانے میں " کہ یہ سواریاں بریکار ہو جائیں گی۔اس سے ریل کا زمانہ مراد تھا۔" اور یہ بھی آپ کی ایک پیشگوئی تھی تو اس کے مطابق اب تو ریل مدینہ اور مکہ کے درمیان بھی چل پڑی ہے یار یلوے لائن بچھا دی گئی ہے۔فرماتے ہیں کہ "وہ لوگ جو خیال کرتے ہیں کہ ان آیات کا تعلق قیامت ہے سے وہ نہیں سوچتے کہ قیامت میں اونٹنیاں حمل دار کیسے رہ سکتی ہیں کیونکہ عشار سے مراد حمل دار اونٹنیاں ہیں۔پھر لکھا ہے کہ اس زمانہ میں چاروں طرف نہریں نکالی جائیں گی اور کتابیں کثرت سے اشاعت پائیں گی۔غرضیکہ یہ سب نشان اسی زمانہ کے متعلق تھے۔" (ملفوظات جلد 1 صفحہ 49-50) پھر آپ مزید دلیل دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ مسیح موعود نے کہاں مبعوث ہونا تھا؟ " اب رہا مکان کے