خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 149 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 149

خطبات مسرور جلد 17 149 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 مارچ 2019ء کے لیے فکر ہوتی ہے۔" اور مجھے اکثر بار پڑھنے کا اتفاق ہوا ہے کہ عیسائی عورتوں تک مرتے وقت لکھو کھا روپیہ عیسائی دین کی ترویج اور اشاعت کے لیے وصیت کر جاتی ہیں۔" اس زمانے میں عیسائیوں کا مدد کی طرف رحجان تھا تو ان کی عورتیں بھی قربانیاں کیا کرتی تھیں۔" اور ان کا اپنی زندگیوں کو عیسائیت کی اشاعت میں صرف کرنا تو ہم ہر روز دیکھتے ہیں۔" اس زمانے کا آپ پھر نقشہ کھینچتے ہیں کہ " ہزار ہالیڈیز مشنری گھروں اور کوچوں میں پھرتی " عیسائی عور تیں تبلیغ کرتی پھرتی ہیں " اور جس طرح بن پڑے نقد ایمان چھینتی پھرتی ہیں۔" فرمایا کہ "مسلمانوں میں سے کسی ایک کو نہیں دیکھا کہ وہ پچاس روپیہ بھی اشاعت اسلام کے لیے وصیت کر کے مراہو۔ہاں شادیوں اور دنیاوی رسوم پر تو بے حد اسراف ہوتے ہیں۔اور یہ اسراف تو آجکل بھی ہیں۔اسلام کی خدمت کے لیے جو تھوڑا بہت نام نہاد خرچ کرتے بھی ہیں، ان کے بھی جو دنیاوی خرچ ہیں ان خرچوں کی کوئی نسبت ہی نہیں ہے۔فرمایا " اور قرض لے کر بھی دل کھول کر فضول خرچیاں کی جاتی ہیں مگر خرچ کرنے کے نہیں تو صرف اسلام کے لیے نہیں۔افسوس! افسوس !! اس سے بڑھ کر اور مسلمانوں کی حالت قابل رحم کیا ہو گی ؟" ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 72 تا 74) مسلمانوں کی اکثریت کا آج بھی یہی حال ہے۔گو کہ کچھ بہتری بعض جگہوں پر پید اہوئی ہے لیکن وہ بھی جیسا کہ میں نے کہا کہ دنیاوی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے جتنا خرچ کیا جاتا ہے دین کے لیے اس کے عشر عشیر بھی نہیں ہے۔یہ اس وقت کے حالات تھے جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعویٰ کیا۔اب اگر مسلمانوں کے ایک حصہ کو مذہب کی طرف توجہ پیدا بھی ہوئی ہے جیسا کہ میں نے کہا تو صرف اس حد تک ہے کہ اسلام پر قائم رہنا ہے۔چلو اس حد تک بہتری آئی ہے کہ ٹھیک ہے بہت سارے لوگ ہیں جو اسلام پہ قائم رہنا چاہتے ہیں۔کچھ حد تک مسجدیں بھی انہوں نے اپنی آباد کی ہیں۔لیکن اسلام کی تعلیم کو پھیلانے کے لیے کوئی کوشش نہیں ہے۔اور اگر کوئی نام نہاد کوشش ہے تو وہ شدت پسندی کی ہے کہ ہم نے زبر دستی اسلام کو پھیلانا ہے۔اس طرح مختلف گروہ بن چکے ہیں یا مسیح موعود کی اور اس کی جماعت کی مخالفت کے لیے کوشش ہو رہی ہے۔پس ہمیشہ یہ یادر کھنا چاہیے کہ اب اگر اسلام دنیا میں پھیلنا ہے تو اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے اس فرستادے کے ذریعہ ہی پھیلنا ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہے۔آنے والے مسیح موعود کے لیے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے کچھ نشانیاں بھی بتائی تھیں۔یہ نہیں کہ وہ آنے والا بغیر کسی نشانی کے دعوی کر دے گا۔چنانچہ اس بات کو بیان فرماتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ " آنے والے کا ایک یہ نشان بھی ہے کہ اس زمانہ میں ماہ رمضان میں کسوف و خسوف ہو گا۔" چاند گہ ند گرہن لگے گا اور سورج گرہن لگے گا۔" اللہ تعالیٰ کے نشان سے ٹھٹھا کرنے والے خدا سے ٹھٹھا کرتے ہیں۔کسوف و خسوف کا اس کے دعویٰ کے بعد ہونا یہ ایک ایسا امر تھا جو افترا اور بناوٹ سے بعید تر ہے۔" اس کو افترا نہیں کہہ سکتے۔اتفاق بھی نہیں کہہ سکتے۔دھوکا بھی نہیں کہہ سکتے۔فرمایا کہ " اس سے پہلے کوئی کسوف و خسوف ایسا نہیں ہوا۔یہ ایک ایسا نشان تھا کہ جس سے اللہ تعالیٰ کو کل دنیا میں آنے والے کی منادی کرنی تھی۔چنانچہ اہل عرب نے بھی اس نشان کو دیکھ کر اپنے مذاق کے مطابق