خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 148 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 148

خطبات مسرور جلد 17 148 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 مارچ 2019ء غیر مسلم جو ہر سال جماعت احمدیہ میں شامل ہوتے ہیں وہ آپ کے دیے ہوئے دلائل اور براہین کی وجہ سے ہی ہوتے ہیں۔پھر زمانے کی حالت اور مسیح موعود کی ضرورت کے بارے میں مزید ارشاد فرماتے ہیں کہ " اگر زمین قابل نہیں ہوتی تو بارش کا کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچتا بلکہ الٹاضر ر اور نقصان ہوتا ہے۔"اگر کوئی زمین اچھی نہ ہو، بنجر زمین ہو ، سخت زمین ہو تو نقصان ہی ہوتا ہے۔اسی لیے آسمانی نور اترا ہے اور وہ دلوں کو روشن کرنا چاہتا ہے۔اس کے قبول کرنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کو تیار ہو جاؤ۔" یعنی اپنی زمینوں کو، دلوں کی زمین کو اس قابل بناؤ تا ایسانہ ہو کہ بارش کی طرح کہ جو زمین جو ہر قابل نہیں رکھتی وہ اس کو ضائع کر دیتی ہے۔"پانی کا اس پر کوئی فائدہ نہیں ہو تا۔" تم بھی باوجود نور کی موجودگی کے تاریکی میں چلو اور ٹھو کر کھا کر اندھے کوئیں میں گر کر ہلاک ہو جاؤ۔" یہ نہ ہو کہ کہیں تمہارا یہی حال ہو جائے کہ تاریکی ملے باوجو د روشنی کے اور اندھے کنویں میں گر کر ہلاک ہو جاؤ۔فرماتے ہیں کہ " اللہ تعالی مادر مہربان سے بھی بڑھ کر مہربان ہے۔وہ نہیں چاہتا کہ اس کی مخلوق ضائع ہو۔وہ ہدایت اور روشنی کی راہیں تم پر کھولتا ہے مگر تم ان پر قدم مارنے کے لیے عقل اور تزکیہ نفوس سے کام لو۔جیسے زمین کہ جب تک ہل چلا کر تیار نہیں کی جاتی تخم ریزی اس میں نہیں ہوتی۔اسی طرح جب تک مجاہدہ اور ریاضت سے تزکیہ نفوس نہیں ہو تا پاک عقل آسمان سے اتر نہیں سکتی۔اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے بڑا فضل کیا اور اپنے دین اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید میں غیرت کھا کر ایک انسان کو جو تم میں بول رہا ہے بھیجا تاکہ وہ اس روشنی کی طرف لوگوں کو بلائے۔اگر زمانہ میں ایسا فساد اور فتنہ نہ ہوتا اور دین کے محو کرنے کے لیے جس قسم کی کوششیں ہو رہی ہیں نہ ہو تیں تو چنداں حرج نہ تھا۔" کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔"لیکن اب تم دیکھتے ہو کہ ہر طرف یمین و یسار اسلام ہی کو معدوم کرنے کی فکر میں ہیں۔دائیں بائیں سے حملے ہو رہے ہیں۔"جملہ اقوام لگی ہوئی ہیں۔" تمام قومیں اسی کوشش میں ہیں، اسی فکر میں ہیں۔آج تک کسی نہ کسی طریقے سے یہی حال ہے۔فرماتے ہیں ہیں کہ " مجھے یاد ہے اور براہین احمدیہ میں بھی میں نے ذکر کیا ہے کہ اسلام کے خلاف چھ کروڑ کتابیں تصنیف اور تالیف ہو کر شائع کی گئی ہیں۔" آپ کے زمانے کی بات ہے آج سے سوا سو سال پہلے بلکہ ڈیڑھ سو سال پہلے۔فرماتے ہیں کہ " عجیب بات ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کی تعداد بھی چھ کروڑ اور اسلام کے خلاف کتابوں کا شمار بھی اسی قدر ہے۔" اس وقت مسلمانوں کی تعداد چھ کروڑ تھی۔اب تو تقریباً پچاس ساٹھ کروڑ ہے بلکہ اس سے زیادہ۔فرمایا کہ " اگر اس زیادتی تعداد کو جو اب تک ان تصنیفات میں ہوئی ہے چھوڑ بھی دیا جائے " یعنی کہ اس کے علاوہ بھی اگر کوئی ہیں تو بھی ہمارے مخالف ایک ایک کتاب ہر ایک مسلمان کے ہاتھ میں دے چکے ہیں۔" جتنی مسلمانوں کی تعداد اتنی کتابیں لکھی گئی ہیں۔اور اب تو مختلف ذریعوں سے، میڈیا سے، سوشل میڈیا سے، انٹرنیٹ سے، مختلف ذرائع سے یہ کام اس سے بھی بڑھ چکا ہے۔نئے نئے طریقے اختیار کر لیے گئے ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ مخالف ایک ایک کتاب ہندوستان کے ہر مسلمان کے ہاتھ میں دے چکے ہیں۔فرمایا کہ "اگر اللہ تعالیٰ کا جوش غیرت میں نہ ہوتا اور انا لہ لحافظون اس کا وعدہ صادق نہ ہو تا تو یقیناً سمجھ لو کہ اسلام آج دنیا سے اٹھ جاتا اور اس کا نام و نشان تک مٹ جاتا۔مگر نہیں۔ایسا نہیں ہو سکتا۔خدا تعالیٰ کا پوشیدہ ہاتھ اس کی حفاظت کر رہا ہے۔مجھے افسوس اور رنج اس امر کا ہو تا ہے کہ لوگ مسلمان کہلا کر ناطے بیاہ کے برابر بھی تو اسلام کا فکر نہیں کرتے۔" اتنی فکر بھی نہیں جتنی شادی بیاہ