خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 147 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 147

پر خطبات مسرور جلد 17 147 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 مارچ 2019ء اس بات کو بیان فرماتے ہوئے کہ کیوں مسیح موعود کے آنے کی ضرورت ہے اور مسیح کو اس زمانے سے کیا خصوصیت ہے ؟ آپ نے یہ فرمایا کہ بہر حال میں نے ہی آنا تھا۔زمانہ متقاضی تھا کہ کوئی آئے۔آپ فرماتے ہیں کہ " قرآن شریف نے اسرائیلی اور اسماعیلی دو سلسلوں میں خلافت کی مماثلت کا کھلا کھلا اشارہ کیا ہے جیسے اس آیت سے ظاہر ہے۔وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُو الصَّلِحْتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ (النور: 56) " آپ فرماتے ہیں کہ " اسرائیلی سلسلہ کا آخری خلیفہ جو چودھویں صدی پر بعد حضرت موسی آیا وہ مسیح ناصری تھا مقابل میں ضرور تھا کہ اس امت کا مسیح بھی چودھویں صدی کے سر پر آوے۔علاوہ ازیں اہل کشف نے " جن کو اللہ تعالیٰ سے خاص تعلق تھا، صاحب کشوف تھے انہوں نے ، بہت سارے پرانے بزرگوں نے " اسی صدی کو بعثت مسیح کا زمانہ قرار دیا ہے۔فرماتے ہیں کہ " جیسے حضرت شاہ ولی اللہ صاحب وغیرہ اہل حدیث کا اتفاق ہو چکا ہے کہ علامات صغرای کل اور علامات کبری ایک حد تک پوری ہو چکی ہیں۔" یعنی بڑی اور چھوٹی علامات جو مسیح کے آنے کی تھیں وہ پوری ہو چکی ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ "لیکن اس میں کسی قدر ان کی غلطی ہے۔علامات جو بھی تھیں " علامات کل پوری ہو چکی ہیں۔یہ نہیں کہ کچھ حد تک بلکہ مسیح کے آنے کی جو علامات تھیں وہ پوری ہو چکی ہیں۔فرماتے ہیں کہ "بڑی علامت یا نشان جو آنے والے کا ہے وہ بخاری شریف میں يَكْسِرُ الصَّلِيْب وَ يَقْتُلُ الخنزير الخ لکھا ہے یعنی نزول مسیح کا وقت غلبہ نصاری اور صلیبی پرستش کا زور ہے۔سو کیا یہ وہ وقت نہیں ؟ کیا جو کچھ پادریوں سے نقصان اسلام کو پہنچ چکا ہے اس کی نظیر آدم سے لے کر آج تک کہیں ہے ہر ملک میں تفرقہ پڑ گیا۔کوئی ایسا خاندان اسلامی نہیں۔کہ جس میں ایک آدھ آدمی ان کے ہاتھ میں نہ چلا گیا ہو۔سو آنے والے کا وقت صلیب پرستی کا غلبہ ہے۔اب اس سے زیادہ کیا غلبہ ہو گا کہ کس طرح درندوں کی طرح اسلام پر کینہ وری سے حملے کیے گئے۔" یہ الفاظ ہی اس کی وضاحت کر دیتے ہیں جو الزام لگایا جاتا ہے کہ آپ انگریزوں کا خود کاشتہ پودا ہیں۔پس ان سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ کیا آپ انگریزوں کا خود کاشتہ پودا ہیں یا اسلام کے دفاع کے لیے اور اس کی برتری ثابت کرنے کے لیے میدان میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتارے گئے ہیں۔بہر حال آپ فرماتے ہیں کہ " کیا کوئی گروہ مخالفین کا ہے۔کہ جس نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہایت وحشیانہ الفاظ اور گالیوں سے یاد نہیں کیا ؟ اب اگر آنے والے کا یہ وقت نہیں تو بہت جلدی وہ آیا بھی تو سو سال تک آئے گا کیونکہ وہ " مسیح موعود " وقت کا مجدد ہے جس کی بعثت کا زمانہ صدی کا سر ہوتا ہے۔تو کیا اسلام میں موجودہ وقت میں اس قدر اور طاقت ہے کہ ایک صدی تک پادریوں کے روز افزوں غلبہ کا مقابلہ کر سکے۔غلبہ حد تک پہنچ گیا اور آنے والا آگیا۔ہاں اب وہ دجال کو اتمام حجت سے ہلاک کرے گا کیونکہ حدیثوں میں آچکا ہے کہ اس کے ہاتھ پر ملتوں کی ہلاکت مقدر ہے نہ لوگوں کی یا اہل ملل کی۔تو ویسا ہی پورا ہوا۔" ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 47-48) یعنی مسیح محمدی نے جو آنا تھا اس نے دلائل اور براہین سے تمام دوسرے مذاہب پر اسلامی تعلیمات کی برتری ثابت کرنی تھی اور اسلامی تعلیم کو ہر مذہب و ملت پر اپنی برتری منوانے کے لیے پیش کرنا تھا۔ہزاروں