خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 145
خطبات مسرور جلد 17 145 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 مارچ2019 کر دیتا تھا۔پس یہ بطور ضرب المثل استعمال ہونے لگا تھا کہ داؤ پیچ کے لیے پیچھے ہٹو اور پھر حملہ کرو۔حضرت علی کہتے ہیں کہ جب میرے قدم جم گئے اور وہ بھی میرے قریب پہنچ گیا تو اس نے اپنی تلوار سے مجھ پر حملہ کیا جسے میں نے اپنی ڈھال پر لیا اور اس کے کندھے پر اس زور سے وار کیا کہ میری تلوار اس کی زرہ کو چیرتی ہوئی نکل گئی۔مجھے یقین تھا کہ میری تلوار اس کا خاتمہ کر دے گی کہ اپنے پیچھے سے مجھے تلوار کی چمک محسوس ہوئی۔کہتے ہیں دوسر اوار بھی کرنا تھا کہ اتنے میں مجھے پیچھے سے تلوار کی چمک محسوس ہوئی۔میں نے اپنا سر فوار نیچے کر لیا کہ پیچھے سے کوئی تلوار آرہی ہے اور وہ تلوار اس زور سے اس دشمن پر پڑی کہ اس کا سر مع خود کے تن سے جد اہو گیا۔حضرت علی کہتے ہیں کہ جب میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ حضرت حمزہ تھے۔وہ اس کو کہہ رہے تھے کہ میرے وار کو سنبھالو کہ میں ابن عبد المطلب ہوں۔(كتاب المغازي للواقدى صفحه 92-93 غزوة بدر، عالم الكتب 1984ء) (لغات الحدیث جلد2 صفحه 431 مطبوعه علی آصف پرنٹرز لاهور 2005ء) اس روایت سے کہتے ہیں ناں کہ فلاں نے فلاں کو قتل کیا تو یہی لگتا ہے کہ طعیمہ بن عدی نے حضرت سعد اللہ کو شہید کیا تھا اور پھر وہ وہیں مارا گیا۔ایک روایت کے مطابق جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو گھوڑے تھے۔ایک گھوڑے پر حضرت مصعب بن محمید اللہ اور دوسرے پر حضرت سعد بن خیمه سوار تھے۔حضرت زبیر بن العوامر اللہ اور حضرت مقداد بن اسود اللہ بھی باری باری ان پر سوار ہوئے۔(دلائل النبوة للبيهقى جلد3 صفحه 110 سياق قصة بدر، دار الكتب العلميه بيروت 1988ء) جنگ بدر میں مسلمانوں کے پاس کتنے گھوڑے تھے ؟ اس کے متعلق تاریخوں میں مختلف روایات ملتی ہیں۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا خیال ہے کہ غزوہ بدر میں مسلمانوں کے پاس ستر اونٹ اور دو گھوڑے تھے۔(ماخوذ از سیرت خاتم النبیین از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے صفحہ 353) لیکن یہ بھی بعض دوسری کتابوں میں لکھا ہے کہ گھوڑوں کی تعداد تین اور پانچ بھی بیان ہوئی ہے۔(شرح زرقانی جلد 2 صفحه 260 باب غزوة بدر الكبرى مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1996ء)(السيرة الحلبية جلد 2 صفحه 205 باب ذکر مغازيه عليل الله مطبوعه مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2002ء) بہر حال جو بھی ساز و سامان اور گھوڑے اور اونٹ تھے یا ان کی تعداد تھی اس کی کافروں کے ساز و سامان کے ساتھ اور گھوڑوں کی تعداد سے تو کوئی نسبت ہی نہیں تھی۔لیکن جب مسلمانوں پر حملہ ہوا، جنگ ٹھونسی گئی اور کافر اپنے زعم میں اس لیے آئے کہ اب اسلام کو ختم کر دیں گے تو پھر ان مومنین نے اپنے سامان کی طرف نہیں دیکھا، گھوڑوں کی طرف نہیں دیکھا بلکہ خدا تعالیٰ کی خاطر ایک قربانی کرنے کی تڑپ تھی جیسا کہ ان کے جواب سے بھی ظاہر ہو رہا ہے کہ یہاں کسی اور دنیاوی چیز کی خواہش کا سوال نہیں ہے یہاں تو اللہ تعالیٰ کی خاطر قربانی کا سوال ہے۔اس لیے بیٹے نے باپ کو کہا کہ میں یہاں تمہیں ترجیح نہیں دے سکتا۔بہر حال ایک تڑپ تھی جسے اللہ تعالیٰ نے قبول فرمایا اور پھر فتح بھی عطا فرمائی۔اللہ تعالیٰ ہر آن ان صحابہ کے درجات بلند فرما تار ہے۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 105 اپریل 2019ء جلد 26 شماره 14 صفحہ 05 تا 09)