خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 144 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 144

خطبات مسرور جلد 17 144 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 مارچ2019 کے گھر ٹھہرا کرتے تھے۔مثلاً حضرت حمزہ۔ان میں سے بعض لوگوں کے نام جو ملتے ہیں وہ یہ ہیں : حضرت حمزہ، حضرت زید بن حارثہؓ، حضرت ابو کبشہ مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، جو غلام تھے۔حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ وغیرہ۔جب انہوں نے ہجرت کی تو حضرت سعد بن خَیمہ اللہ کے گھر ٹھہرے۔الطبقات الكبرى لابن سعد جلد3 صفحه6 ، صفحه 32 ، صفحہ 36 ، صفحه 112 ، دارالکتب العلميه بيروت 1990ء) سلیمان بن آنان روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے لیے نکلے تو حضرت سعد بن خَیذَمہ اللہ اور آپ کے والد دونوں نے آپ کے ساتھ جانے کا ارادہ کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ بات عرض کی گئی کہ دونوں باپ بیٹا گھر سے نکل رہے ہیں۔اس پر آپ نے ہدایت فرمائی کہ ان دونوں میں سے صرف ایک جاسکتا ہے۔وہ دونوں قرعہ اندازی کر لیں۔حضرت خَيْثَمَہ اللہ نے اپنے بیٹے سعد سے کہا کہ ہم میں سے ایک ہی جا سکتا ہے۔تم ایسا کرو کہ عورتوں کے پاس وہاں نگرانی کے لیے، حفاظت کے لیے رک جاؤ۔حضرت سعد نے کہا اگر جنت کے علاوہ کوئی اور معاملہ ہوتا تو میں ضرور آپ کو ترجیح دیتا لیکن میں خود شہادت کا طلبگار ہوں۔اس پر دونوں نے قرعہ اندازی کی تو قرعہ حضرت سعد اللہ کے نام نکلا۔آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر کے لیے نکلے اور جنگ بدر میں شہید ہو گئے۔(المستدرك على الصحيحين للحاكم جلد 3 صفحه 209 كتاب معرفة الصحابه و من مناقب سعد بن خيثمه حدیث 4866، دار الكتب العلميه بيروت 2002ء) آپ کو عمر و بن عَبدِ وُڈ نے شہید کیا اور ایک قول کے مطابق طعيمه بن عدی نے آپ کو شہید کیا تھا۔طعیمہ کو حضرت حمزہ لے نے جنگ بدر میں اور عمرو بن عَبدِ وُڈ کو حضرت علی نے جنگ خندق میں قتل کیا تھا۔(اسدالغابة فى معرفة الصحابة جلد2 صفحه 429 سعد بن خيثمه دارلكتب العلميه بيروت 2003ء) حضرت علی فرماتے ہیں کہ بدر کے روز جب دن چڑھ گیا اور مسلمانوں اور (ایک روایت یہ ہے) مسلمانوں اور کفار کی صفیں باہم مل گئیں یعنی جنگ شروع ہو گئی تو میں ایک آدمی کے تعاقب میں نکل تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک ریت کے ٹیلے پر حضرت سعد بن خیدمہ ایک مشرک سے لڑ رہے ہیں یہاں تک کہ اس مشرک نے حضرت سعد اللہ کو شہید کر دیا۔وہ مشرک لوہے کی زرہ میں ملبوس گھوڑے پر سوار تھا پھر وہ گھوڑے سے نیچے اترا۔اس نے مجھے پہچان لیا تھا لیکن میں اسے نہ پہچان سکا۔اس نے مجھے لڑائی کے لیے للکارا۔میں اس کی طرف بڑھا۔جب وہ آگے بڑھ کر مجھ پر حملہ کرنے لگا تو میں نیچے کو پیچھے ہٹا تا کہ بلندی سے میرے قریب آجائے۔زیادہ اونچا نہ ہو۔لڑائی کا اصول ہے ، نیچے آئے اور قریب آجائے کیونکہ مجھے یہ ناگوار گزرا کہ وہ بلندی سے مجھ پر تلوار سے وار کرے۔جب میں اس طرح ایک قدم پیچھے ہٹ رہا تھا تب وہ بولا کہ اے ابن ابی طالب ! کیا بھاگ رہے ہو ؟ تو میں نے اسے کہا کہ قَرِيبٌ مَفَرُّ ابنِ الشَّتَرَاء کہ الشَّتَرَاء کے بیٹے کا بھاگ جانا قریب ہے یعنی کہ ناممکن ہے۔یہ عربوں میں ایک محاورہ بن گیا تھا کیونکہ کہتے ہیں۔تاریخ میں لکھا ہے کہ ایک ڈاکو تھا جو لو گوں کو لوٹنے کے لیے آتا تھا۔لوگ اس پر حملے کرتے تو بھاگ جاتا لیکن اس کا بھا گنا عارضی ہو تا تھا۔پھر وہ جلدی موقع پا کر دوبارہ حملہ