خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 143 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 143

خطبات مسرور جلد 17 143 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 مارچ2019 بعض قبائل کے لیے آپ نے دو دو نقیب مقرر فرمائے۔بہر حال ان بارہ نقیبوں کے نام یہ ہیں۔اسعد بن زرارة - أسيد بن الحضير - ابو الهَيْثَم مالك بن تَيْهَان- سعد بن عُباده بَرَاء بن مَعْرُور - عبد الله بن رواحہ - عُبادہ بن صامت۔سعد بن ربیع۔رافع بن مالك عبد الله بن عمرو اور سعد بن خَيْثَمَه جن کا ذکر چل رہا ہے۔یہ سعد بن خَيْثَمَہ بھی ان نقیبوں میں سے ایک نقیب تھے اور منذر بن عمرو۔(ماخوذ از سیرت خاتم النبیین از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے صفحہ 227 تا232) ہجرت مدینہ کے وقت قبا میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت کلثوم بن الهدم ان کے گھر قیام فرمایا۔اس ضمن میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن خیثمہ اللہ کے گھر قیام فرمایا اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ قیام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت کلثوم بن الھدہ کے گھر ہی تھا لیکن جب آپ ان کے گھر سے نکل کر لوگوں میں بیٹھتے تھے تو و مسعد بن خَیمہ اللہ کے گھر تشریف فرما ہوا کرتے تھے۔(السيرة النبوية لابن كثير صفحه 215-216 فصل في دخوله الا الله۔۔۔۔۔۔دار الكتب العلميه بيروت 2005ء) بیعت عقبہ اولیٰ کے بعد جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مصعب بن عمیر ی کو مدینہ کے مسلمانوں کی تربیت کے لیے بھجوایا تو کچھ عرصہ بعد انہوں نے آپ سے نماز جمعہ کی اجازت چاہی۔اس پر آپ نے انہیں اجازت دی اور جمعہ کے متعلق ہدایت فرمائی۔چنانچہ ان ہدایات کے ماتحت مدینہ میں جو پہلا جمعہ ادا کیا گیا وہ حضرت سعد بن خیثمہ اللہ کے گھر ادا کیا گیا۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 87-88 مصعب الخير ، دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) یہ حوالہ الطبقات الکبری کا ہے۔حضرت سعد بن خیثمہ اللہ کا قبا میں ایک کنواں تھا جسے الغرس کہا جاتا تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس سے پانی پیا کرتے تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کنویں کے بارے میں فرمایا کہ یہ جنت کے چشموں میں سے ہے اور اس کا پانی بہترین ہے۔یعنی بہت اچھا میٹھا ٹھنڈا پانی تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کو اسی کنویں کے پانی سے غسل دیا گیا۔حضرت علی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب میر انتقال ہو جائے تو ب تر غرس سے سات مشکیزے لا کر اس کے پانی سے مجھے غسل دینا۔ابو جعفر محمد بن علی روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تین مرتبہ غسل دیا گیا۔آپ کو پانی اور بیری کے پتوں سے قمیض میں ہی غسل دیا گیا۔یعنی قمیض نہیں اتاری گئی تھی۔حضرت علی، حضرت عباس اور حضرت فضل نے آپ کو غسل دیا اور ایک روایت کے مطابق حضرت اسامہ بن زید، حضرت شقران ی اور حضرت اوس بن خولی یہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دینے میں شریک تھے۔(الطبقات الكبرى لابن سعد جلد2 صفحه 214 ذکر غسل رسول الله سبیل الله، دارالکتب العلميه بيروت 1990ء)(سنن ابن ماجه كتاب الجنائز باب ما جاء فى غسل النبی الا الله حدیث نمبر 1468)(سبل الهدى والرشاد جلد 7 صفحه 229 ـ الباب الاول: فيما كان يستعذب له الماء الخ مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 1993ء) قریش کے مظالم سے تنگ آکر مدینہ ہجرت کرنے والے بہت سے مسلمانوں کی پہلی منزل عموماً حضرت سعد بن خیثمہ اللہ کا گھر ہوا کرتی تھی۔جو لوگ بھی ہجرت کر کے آتے تھے وہ حضرت سعد بن خیثمہ اللہ