خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 142
خطبات مسرور جلد 17 142 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 مارچ 2019 میں اس کے لیے سینہ سپر ہوا ہے مگر اب محمد کا ارادہ اپنا وطن چھوڑ کر تمہارے پاس چلے جانے کا ہے۔سو اگر تم اسے اپنے پاس لے جانے کی خواہش رکھتے ہو تو تمہیں اس کی ہر طرح حفاظت کرنی ہو گی اور ہر دشمن کے سامنے سینہ سپر ہونا پڑے گا۔اگر تم اس کے لیے تیار ہو تو بہتر ورنہ ابھی سے صاف صاف جواب دے دو کیونکہ صاف صاف بات اچھی ہوتی ہے۔براء بن مَغرُور ہے، جو انصار کے قبیلے کے ایک معمر اور با اثر بزرگ تھے انہوں نے کہا کہ عباس ہم نے تمہاری بات سن لی ہے مگر ہم چاہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی اپنی زبان مبارک سے کچھ فرماویں اور جو ذمہ داری ہم پر ڈالنا چاہتے ہیں وہ بیان فرمائیں۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن شریف کی چند آیات تلاوت فرمائیں اور پھر ایک مختصر سی تقریر میں اسلام کی تعلیم بیان فرمائی اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ میں اپنے لیے صرف اتنا چاہتا ہوں کہ جس طرح تم اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کی حفاظت کرتے ہو اسی طرح اگر ضرورت پیش آئے تو میرے ساتھ بھی معاملہ کرو۔جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تقریر ختم کر چکے تو براء بن مَعْرُور نے عرب کے دستور کے مطابق آپ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا یار سول اللہ ! ہمیں اس خدا کی قسم ہے جس نے آپ کو حق اور صداقت کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے کہ ہم اپنی جانوں کی طرح آپ کی حفاظت کریں گے۔ہم لوگ تلواروں کے سائے میں پلے ہیں اور بات یہ کہہ ہی رہے تھے ، ابھی بات ختم نہیں ہوئی تھی کہ ابُو الْهَيْئَمُ بن تَيْهَان ایک اور شخص وہاں بیٹھا تھا، اس نے ان کی بات کاٹ کر کہا کہ یارسول اللہ ! یہ بھی مسلمان ہو گئے تھے یثرب کے یہود کے ساتھ ہمارے دیرینہ تعلقات ہیں، پرانے تعلقات ہیں ، آپ کا ساتھ دینے سے وہ منقطع ہو جائیں گے۔ایسا نہ ہو کہ جب اللہ تعالیٰ آپ کو غلبہ دے تو آپ ہمیں چھوڑ کر اپنے وطن میں واپس تشریف لے آئیں اور ہم نہ ادھر کے رہیں اور نہ ادھر کے رہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہنس کر فرمایا کہ نہیں نہیں ایساہر گز نہیں ہو گا۔تمہارا خون میراخون ہو گا۔تمہارے دوست میرے دوست اور تمہارے دشمن میرے دشمن۔اس پر عباس بن عبادة انصاری نے اپنے ساتھیوں پر نظر ڈال کر کہا کہ لوگو! کیا تم سمجھتے ہو کہ اس عہد و پیمان کے کیا معنی ہیں ؟ اس کا یہ مطلب ہے کہ تمہیں ہر اسود و احمر، ہر کالے گورے کے مقابلے کے لیے تیار ہونا چاہیے۔ہر شخص کو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرے گا اس کا مقابلہ کرنے کے لیے تمہیں تیار ہونا پڑے گا اور ہر قربانی کے لیے آمادہ رہنا چاہیے۔لوگوں نے کہا ہاں ہم جانتے ہیں مگر یار سول اللہ ! اس کے بدلے میں ہمیں کیا ملے گا؟ پھر ان لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ہم تو یہ سب کچھ کریں گے ہمیں کیا ملے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں خدا کی جنت ملے گی جو اس کے سارے انعاموں میں سے بڑا انعام ہے۔سب نے کہا ہمیں یہ سودا منظور ہے یار سول اللہ ! آپ اپنا ہاتھ آگے کریں۔آپ نے اپنا دست مبارک آگے بڑھایا اور یہ ستر جانثاروں کی جماعت ایک دفاعی معاہدے میں آپ کے ہاتھ پر بک گئی۔اس بیعت کا نام بیعت عقبہ ثانیہ ہے۔جب بیعت ہو چکی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم میں سے بارہ نقیب چنے تھے جو موسیٰ کی طرف سے ان کے نگران اور محافظ تھے۔میں بھی تم میں سے بارہ نقیب مقرر کرنا چاہتا ہوں جو تمہارے نگران اور محافظ ہوں گے اور وہ میرے لیے عیسی کے حواریوں کی طرح ہوں گے اور میرے سامنے اپنی قوم کے متعلق جوابدہ ہوں گے۔پس تم مناسب لوگوں کے نام تجویز کر کے میرے سامنے پیش کرو۔چنانچہ بارہ آدمی تجویز کیے گئے جنہیں آپ نے منظور فرمایا اور انہیں ایک ایک قبیلے کا نگران مقرر کر کے ان کے فرائض سمجھا دیے اور