خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 141
خطبات مسرور جلد 17 141 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 مارچ 2019 حضرت سعد والی ان بارہ نقباء میں سے یعنی نقیبوں میں سے تھے جنہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت عقبہ ثانیہ کے موقع پر مدینہ کے مسلمانوں کا نقیب مقرر فرمایا تھا۔بارہ نقیب کس طرح مقرر ہوئے اس کی کچھ تفصیل اور نقیبوں کے نام اور کام کے بارے میں بھی بتاتا ہوں جو سیرت خاتم النبیین میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے لکھا ہے کہ 13 نبوی کے ماہ ذی الحجہ میں حج کے موقع پر اوس اور خزرج کے کئی سو آدمی مکہ میں آئے۔ان میں سے ستر شخص ایسے شامل تھے جو یا تو مسلمان ہو چکے تھے یا اب مسلمان ہونا چاہتے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کے لیے مکہ آئے تھے۔مُصعب بن عمیر یہ بھی ان کے ساتھ تھے۔مصعب کی ماں زندہ تھی اور گو مشرکہ تھی مگر ان سے بہت محبت کرتی تھی۔جب اسے ان کے آنے کی خبر ملی تو اس نے ان کو کہلا بھیجا کہ پہلے مجھے سے آکر مل جاؤ پھر کہیں دوسری جگہ جانا۔مصعب وہ نے جواب دیا کہ میں ابھی تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ملا۔آپ سے مل کر ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مل کر پھر آپ کے پاس آؤں گا۔چنانچہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس حاضر ہوئے آپ سے مل کر اور ضروری حالات عرض کر کے پھر اپنی ماں کے پاس گئے۔وہ بہت جلی بھی بیٹھی تھی۔ان کو دیکھ کر بہت روئی اور بڑا شکوہ کیا۔مصعب ﷺ نے کہاماں میں تم سے ایک بڑی اچھی بات کہتا ہوں جو تمہارے واسطے بہت مفید ہے اور سارے جھگڑوں کا فیصلہ ہو جاتا ہے۔اس نے کہا وہ کیا ہے ؟ مُصْعَب واہ نے آہستہ سے جواب دیا کہ بس یہی کہ بت پرستی ترک کر کے مسلمان ہو جاؤ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آؤ۔وہ پکی مشترکہ تھی سنتے ہی شور مچادیا کہ مجھے ستاروں کی قسم ہے میں تمہارے دین میں کبھی داخل نہیں ہوں گی اور اپنے رشتہ داروں کو اشارہ کیا کہ مصعب والے کو پکڑ کر قید کر لیں مگر وہ بھاگ گئے۔بہر حال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مصعب اللہ سے انصار کی آمد کی اطلاع مل چکی تھی اور ان میں سے بعض لوگ آپ سے انفرادی طور پر ملاقات بھی کر چکے تھے مگر چونکہ اس موقع پر ایک اجتماعی اور خلوت کی ملاقات کی ضرورت تھی یعنی علیحدہ ملاقات ہونی چاہیے تھے اس لیے مراسم حج کے بعد ماہ ذی الحجہ کی وسطی تاریخ مقرر کی گئی کہ اس دن نصف شب کے قریب یہ سب لوگ گزشتہ سال والی گھائی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آکر ملیں تاکہ اطمینان اور یکسوئی کے ساتھ علیحدگی میں بات چیت ہو سکے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو تاکید فرمائی کہ اکٹھے نہ آئیں بلکہ ایک ایک دو دو کر کے آئیں دشمن کی نظر پڑ سکتی ہے اور وقت مقررہ پر گھائی میں پہنچ جائیں اور اگر کوئی سویا ہوا ہے تو سوتے کو نہ جگائیں اور نہ غیر حاضر کا انتظار کریں۔چنانچہ جب مقررہ تاریخ آئی تو رات کے وقت جبکہ ایک تہائی رات جاچکی تھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے گھر سے نکلے اور راستے میں اپنے چچا عباس کو ساتھ لیا جو ابھی تک اسلام نہیں لائے تھے، مشرک تھے مگر آپ سے محبت رکھتے تھے اور خاندان ہاشم کے رئیس تھے۔اور پھر دونوں مل کر اس گھاٹی میں پہنچے۔ابھی زیادہ دیر نہ ہوئی تھی کہ انصار بھی ایک ایک دو دو کر کے آپہنچے۔یہ ستر اشخاص تھے اور اوس اور خزرج دونوں قبیلوں سے تعلق رکھنے والے تھے۔سب سے پہلے عباس نے گفتگو شروع کی یعنی حضرت عباس جو ابھی اسلام نہیں لائے تھے کہ اے خزرج کے گروہ ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خاندان میں ایک معزز اور محبوب ہے اور وہ خاندان آج تک اس کی حفاظت کا ضامن رہا ہے اور ہر خطرے کے وقت