خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 140 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 140

140 خطبات مسرور جلد 17 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 مارچ 2019 ہوتے تھے۔یہیں مقدمات کا فیصلہ کیا جاتا تھا۔یہیں سے احکامات صادر ہوتے تھے۔یہی قومی مہمان خانہ تھا یعنی جو مہمان خانہ تھاوہ بھی یہی مسجد ہی تھا۔اور ہر قومی کام جو تھاوہ اس مسجد میں انجام دیا جاتا تھا۔اور ضرورت ہوتی تھی تو اسی سے جنگی قیدیوں کا حبس گاہ کا کام بھی لیا جاتا تھا۔یعنی یہیں مسجد میں جنگی قیدی بھی رکھے جاتے تھے اور بہت سارے قیدی ایسے بھی تھے جب مسلمانوں کو عبادت کرتے اور آپس کی محبت اور پیار دیکھتے تھے تو ان میں سے پھر مسلمان بھی ہوئے۔بہر حال اس کے بارے میں سرولیم میور بھی ذکر کرتا ہے جو ایک مستشرق ہے اور اسلام کے خلاف بھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بھی کافی لکھتا ہے، لیکن وہ یہاں اس کے بارے میں لکھتا ہے کہ گو یہ مسجد سامان تعمیر کے لحاظ سے نہایت سادہ اور معمولی تھی لیکن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ مسجد اسلامی تاریخ میں ایک خاص شان رکھتی ہے۔رسول خدا اور ان کے اصحاب اسی مسجد میں اپنے وقت کا بیشتر حصہ گزارتے تھے۔یہیں اسلامی نماز کا با قاعدہ باجماعت صورت میں آغاز ہوا۔یہیں تمام مسلمان جمعہ کے دن خدا کی تازہ وحی کو سننے کے لیے مؤدبانہ اور مرعوب حالت میں جمع ہوتے تھے۔یہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنی فتوحات کی تجاویز پختہ کیا کرتے تھے۔یہی وہ ایوان تھا جہاں مفتوح اور تائب قبائل کے وفود ان کے سامنے پیش ہوتے تھے۔یہی وہ دربار تھا جہاں سے وہ شاہی احکام جاری کیے جاتے تھے جو عرب کے دور دراز کو نوں تک باغیوں کو خوف سے لرزا دیتے تھے اور بالآخر اسی مسجد کے پاس اپنی بیوی عائشہ کے حجرے میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جان دی اور اسی جگہ اپنے دو خلیفوں کے پہلو بہ پہلووہ مدفون ہیں۔یہ مسجد اور اس کے ساتھ کے حجرے کم و بیش سات ماہ کے عرصہ میں تیار ہو گئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے نئے مکان میں اپنی بیوی حضرت سودہ کے ساتھ تشریف لے گئے۔بعض دوسرے مہاجرین نے بھی انصار سے زمین حاصل کر کے مسجد کے آس پاس مکانات تیار کر لیے اور جنہیں مسجد کے قریب زمین نہیں مل سکی انہوں نے دور دور مکان بنا لیے اور بعض کو انصار کی طرف سے بنے بنائے مکان مل گئے۔(ماخوذ از سیرت خاتم النبین از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے صفحہ 269 تا 271) بہر حال حضرت سُھیل اور ان کے بھائی وہ خوش قسمت تھے جن کو اسلام کے اس عظیم مرکز میں اپنی زمین پیش کرنے کی توفیق ملی۔پھر جن صحابی کا ذکر ہے ان کا نام ہے حضرت سعد بن خَیمہ اے۔حضرت سعد بن خیثمہ ان کا تعلق قبیلہ اوس سے تھا۔آپ کی والدہ کا نام ھند بنت اوس تھا۔حضرت ابو ضَيّاح نُعمان بن ثابت اللہ، جو کہ بدری صحابی ہیں والدہ کی طرف سے آپ کے بھائی تھے۔آپ کی کنیت ابو خَیئَمہ اور ابو عبد اللہ بیان کی جاتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن خیثمہ اللہ کے اور حضرت ابو سلمہ بن عبد الاسد کے در میان مواخات قائم فرمائی تھی۔الطبقات الكبرى لابن سعد جلد3 صفحه 366-367 سعد بن خيثمه دارالکتب العلميه بيروت 1990ء) (اسد الغابة فى معرفة الصحابة جلد2 صفحه 429 سعد بن خيثمه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) (اسد الغابة في معرفة رفة الصحابة جلد 6 صفحه 175 ابو الضياح بن ثابت ، دار الكتب العلميه بيروت 2003ء)