خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 139 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 139

خطبات مسرور جلد 17 139 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 مارچ 2019 مٹی کی دیوار میں لگائی جاتی تھیں تا کہ مضبوطی قائم رہے۔یہ اس کا سٹرکچر (structure) ہو تا تھا اور چھت پر کھجور اور تنے اور شاخیں ڈالی گئیں تھیں۔مسجد کے اندر چھت کے سہارے کے لیے کھجور کے ستون تھے اور جب تک منبر کی تجویز نہیں ہوئی، وہ منبر جہاں کھڑے ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دیا کرتے تھے انہی ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کے وقت ٹیک لگا کر کھڑے ہو جاتے تھے۔مسجد کا فرش کچا تھا اور چونکہ زیادہ بارش کے وقت چھت ٹپکنے لگتی تھی اس لیے ایسے اوقات میں فرش پر کیچڑ ہو جاتا تھا۔چنانچہ اس تکلیف کو دیکھ کر بعد میں کنکریوں کا فرش بنوا دیا گیا۔چھوٹے چھوٹے پتھر وہاں ڈالے گئے۔شروع شروع میں مسجد کا رخ بیت المقدس کی طرف رکھا گیا تھا لیکن تحویل قبلہ کے وقت یہ رخ بدل دیا گیا۔مسجد کی بلندی یعنی height اس وقت دس فٹ تھی۔چھت دس فٹ اونچی تھی اور طول ایک سو پانچ فٹ۔لمبائی ایک سو پانچ فٹ تھی اور عرض 90 فٹ کے قریب تھا۔چوڑائی جو تھی نوے فٹ تھی لیکن بعد میں اس کی توسیع کر دی گئی۔یہ بھی جو 105 فٹ اور 90 فٹ کارقبہ بنتا ہے یہ تقریباً پندرہ سولہ سو نمازیوں کے لیے جگہ بنتی ہے۔مسجد کے ایک گوشے میں ایک چھت دار چبوترا بنایا گیا تھا جسے صفہ کہتے تھے۔یہ ان غریب مہاجرین کے لیے تھا جو بے گھر بار تھے ، جن کا کوئی گھر نہیں ہوتا تھا۔یہ لوگ یہیں رہتے تھے اور اصحاب الصفہ کہلاتے تھے۔ان کا کام گویا دن رات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہنا، عبادت کرنا اور قرآن شریف کی تلاوت کرنا تھا۔ان لوگوں کا کوئی مستقل ذریعہ معاش نہ تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود ان کی خبر گیری فرماتے تھے اور جب کبھی آپ کے پاس کوئی ہدیہ وغیرہ آتا تھا یا گھر میں کچھ ہو تا تھا تو ان کا حصہ ضرور نکالتے تھے۔ان لوگوں کا کھانا پینا اکثر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے بلکہ بعض اوقات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود فاقہ کرتے اور جو کچھ گھر میں ہوتا تھا وہ اصحاب الصفہ کو بھجوا دیتے تھے۔انصار بھی ان لوگوں کی مہمان نوازی میں حتی المقدور مصروف رہتے تھے اور ان کے لیے کھجوروں کے خوشے لا لا کر مسجد میں لڑکا دیا کرتے تھے۔لیکن اس کے باوجود ان کی حالت تنگ رہتی تھی اور بسا اوقات فاقے تک نوبت پہنچ جاتی تھی اور یہ حالت کئی سال تک جاری رہی حتی کہ کچھ تو مدینہ کی آبادی کی وسعت کے نتیجہ میں ان لوگوں کے لیے کام نکل آیا مز دوری وغیرہ ملنے لگ گئی اور کچھ قومی بیت المال سے امداد کی صورت پید اہو گئی۔حالات بہتر ہوئے تو ان کی مدد ہونے لگ گئی۔مسجد کے ساتھ ملحق طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے رہائشی مکان تیار کیا گیا تھا۔مکان کیا تھا ایک دس پندرہ فٹ کا چھوٹا سا حجرہ تھا اور اس حجرے اور مسجد کے درمیان ایک دروازہ رکھا گیا تھا جس میں سے گزر کر آپ نماز وغیرہ کے لیے مسجد میں تشریف لاتے تھے۔جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور شادیاں کیں تو اسی حجرے کے ساتھ دوسرے حجرات بھی تیار ہوتے گئے اور مسجد کے آس پاس بعض اور صحابہ کے مکانات بھی تیار ہو گئے۔یہ تھی مسجد نبوئی جو مدینہ میں تیار ہوئی اور اس زمانہ میں چونکہ اور کوئی پبلک عمارت ایسی نہیں تھی جہاں قومی کام سر انجام دیے جاتے۔اس لیے ایوانِ حکومت کا کام بھی یہی مسجد دیتی تھی۔یہی دفتر تھا۔یہی حکومت کا پورا سیکر ٹریٹ (secretariat) تھا۔یہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس لگتی تھی۔یہیں تمام قسم کے مشورے