خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 138 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 138

خطبات مسرور جلد 17 138 (دیباچہ خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 مارچ 2019 جہاں خد اتعالیٰ کا منشاء ہو گا۔آخر مدینہ کے ایک سرے پر بنو نجار کے یتیموں کی ایک زمین کے پاس جاکر اونٹنی ٹھہر گئی۔آپ نے فرمایا خدا تعالیٰ کا یہی منشاء معلوم ہوتا ہے کہ ہم یہاں ٹھہریں۔پھر فرمایا یہ زمین کس کی ہے ؟ زمین کچھ یتیموں کی تھی۔ان کا ولی آگے بڑھا اور اس نے کہا کہ یارسول اللہ ! یہ فلاں فلاں یتیم کی زمین ہے اور آپ کی خدمت کے لیے حاضر ہے۔آپ نے فرمایا ہم کسی کا مال مفت نہیں لے سکتے۔آخر اس کی قیمت مقرر کی گئی اور آپ نے اس جگہ پر مسجد اور اپنے مکانات بنانے کا فیصلہ کیا۔" یہ تفسیر القرآن۔انوار العلوم جلد 20 صفحہ 228) حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اس کی تفصیل سیرت خاتم النبیین میں کچھ اس طرح لکھی ہے کہ مدینہ کے قیام کا سب سے پہلا کام مسجد نبوی کی تعمیر تھا جس جگہ آپ کی اونٹنی آکر بیٹھی تھی وہ مدینہ کے دو مسلمان بچوں سھل اور سُھیل کی ملکیت تھی جو حضرت اسعد بن زرارة الے کی نگرانی میں رہتے تھے۔یہ ایک افتادہ جگہ تھی۔یعنی بالکل بنجر، غیر آباد جگہ تھی۔جس کے ایک حصہ میں کہیں کہیں کھجوروں کے درخت تھے۔اکا دُکا درخت لگے ہوئے تھے۔اور دوسرے حصہ میں کچھ کھنڈرات وغیرہ تھے۔گرے ہوئے مکان تھے، کھنڈر تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مسجد اور اپنے حجرات کی تعمیر کے لیے پسند فرمایا اور دس دینار۔میں یہ زمین خرید لی گئی اور جگہ کو ہموار ر کر کے اور درختوں کو کاٹ کر مسجد نبوی کی تعمیر شروع ہو گئی۔(ماخوذاز سیرت خاتم النبیین از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے صفحہ 269) ایک روایت کے مطابق اس زمین کی یہ جو رقم تھی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ادا کی تھی۔(شرح زرقانی جلد 2 صفحه 186 دار الكتب العلمية بيروت 1996ء) پھر لکھتے ہیں کہ جگہ کو ہموار کر کے اور درختوں کو کاٹ کر مسجد نبوی کی تعمیر شروع ہوگئی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود دعا مانگتے ہوئے سنگ بنیاد رکھا اور جیسا کہ قبا کی مسجد میں ہوا تھا صحابہ نے معماروں اور مزدوروں کا کام کیا جس میں کبھی کبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی شرکت فرماتے تھے۔بعض اوقات اینٹیں اٹھاتے ہوئے صحابہ حضرت عبد اللہ بن رواحہ انصاری کا یہ شعر پڑھتے تھے کہ هَذَا الْحِمَالُ لَا حِمَالَ خَيْبَر، هَذَا أَبَرُّ رَبَّنَا وَ أَطْهَرُ یعنی یہ بوجھ خیبر کے تجارتی مال کا بوجھ نہیں ہے جو جانوروں پر لا کر آیا کرتا ہے۔بلکہ اے ہمارے مولیٰ ! یہ بوجھ تقوی اور طہارت کا بوجھ ہے جو ہم تیری رضا کے لیے اٹھاتے ہیں۔اور کبھی کبھی صحابہ کام کرتے ہوئے عبد اللہ بن رواحہ کا یہ شعر پڑھتے تھے کہ اللَّهُمَّ إِنَّ الْأَجْرَ اجْرُ الْآخِرَه، فَارْحَمِ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَه یعنی اے ہمارے اللہ ! اصل اجر تو صرف آخرت کا اجر ہے پس تو اپنے فضل سے انصار اور مہاجرین پر اپنی رحمت نازل فرما۔جب صحابہ یہ شعر پڑھتے تھے یا اشعار پڑھتے تھے تو بعض اوقات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کی آواز کے ساتھ آواز ملا دیتے تھے اور اس طرح ایک لمبے عرصہ کی محنت کے بعد یہ مسجد مکمل ہوئی۔مسجد کی عمارت پتھروں کی سلوں اور اینٹوں کی تھی جو لکڑی کے کھمبوں کے درمیان چنی گئی تھی۔اس زمانے میں مضبوط عمارت کے لیے یہ رواج تھا کہ لکڑی کے بلاک کھڑے کر کے، کھمبے بنا کر یا pillar بنا کر اس کے اندر یہ اینٹیں اور