خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 137
خطبات مسرور جلد 17 137 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 مارچ2019 آپ نے وار کر کے اس کی سونڈ کاٹ دی مگر آپ اس ہاتھی کے پاؤں کے نیچے آگئے اور دب کر شہید ہو گئے۔حضرت ابو عبید اللہ کی شہادت کے بعد سات آدمیوں نے باری باری اسلامی جھنڈ ا سنبھالا اور لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔آٹھویں شخص حضرت مشکی وہ تھے جنہوں نے اسلامی جھنڈے کو لے کر دوبارہ ایک پر جوش حملے کا ارادہ کیا لیکن اسلامی لشکر کی صفیں بے ترتیب ہو گئی تھیں اور لوگ مسلسل سات امیروں کو شہید ہوتے دیکھ کر ادھر ادھر بھاگنا شروع ہو گئے تھے جبکہ کچھ دریا میں کود گئے تھے۔حضرت ملی ہے اور آپ کے ساتھی مردانگی سے لڑتے رہے۔بالآخر حضرت مصلی ، زخمی ہو گئے اور آپ لڑتے ہوئے دریائے فرات عبور کر کے واپس آگئے۔اس واقعہ میں مسلمانوں کا بہت زیادہ نقصان ہو ا۔مسلمانوں کے چار ہزار آدمی شہید ہوئے جبکہ ایرانیوں کے چھ ہزار فوجی مارے گئے۔(ماخوذ از تاریخ ابن خلدون (مترجم) حکیم احمد حسین الہ آبادی جلد 3 صفحہ 270 تا 273 مطبوعہ دار الاشاعت کراچی 2003ء) بہر حال یہ جنگ اس لیے ہوئی تھی کہ ایرانیوں کی طرف سے بار بار حملے ہو رہے تھے اور ان حملوں کے روکنے کے لیے یہ اجازت لی گئی تھی کہ جنگ کریں۔پھر جن صحابی کا ذکر ہے حضرت سهل بن عتيك ہے۔ان کا نام سُھیل بھی بیان کیا جاتا ہے۔ان کی والد کا نام جمیلہ بنتِ عَلْقَمَہ تھا۔حضرت سهل بن عتيك الله ستر انصار کے ساتھ بیعت عقبہ ثانیہ میں نه شامل ہوئے۔آپ نے غزوہ بدر اور احد میں شامل ہونے کی سعادت پائی۔(طبقات الكبرى جلد 3 صفحه 387 سهل بن عتيك دار الكتب العلمية بيروت 1990ء) (اسد الغابة جلد 2 صفحه 578 سهل بن عتيك دار الكتب العلمية بيروت 2003ء) پھر جن صحابی کا ذکر ہے ان کا نام ہے حضرت سُهَيْل بن رافع۔حضرت سُھیل کا تعلق قبیلہ بنو نجار سے تھا۔وہ زمین جس پر مسجد نبوی کی تعمیر ہوئی ہے وہ آپ اور آپ کے بھائی حضرت سھل کی ملکیت تھی۔آپؐ کی والدہ کا نام ذُغَیبَہ بنتِ سَهْل تھا۔حضرت سھیل دی، غزوۂ بدر، احد اور خندق سمیت تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شامل ہوئے اور حضرت عمرؓ کے دور خلافت میں آپ کی وفات ہوئی۔(الطبقات الكبرى لابن سعد جلد3 صفحه 372 سهيل بن رافع دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت مدینہ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ نے جو تحریر فرمایا ہے پیش کر تا ہوں۔آپ لکھتے ہیں کہ " جب آپ مدینہ میں داخل ہوئے، ہر شخص کی یہ خواہش تھی کہ آپ اس کے گھر میں ٹھہریں۔جس جس گلی میں سے آپ کی اونٹنی گزرتی تھی اس گلی کے مختلف خاندان اپنے گھروں کے آگے کھڑے ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کرتے تھے اور کہتے تھے یار سول اللہ ! یہ ہمارا گھر ہے اور یہ ہمارا مال ہے اور یہ ہماری جانیں ہیں جو آپ کی خدمت کے لیے حاضر ہیں۔یارسول اللہ ! اور ہم آپ کی حفاظت کرنے کے قابل ہیں۔آپ ہمارے ہی پاس ٹھہریں۔بعض لوگ جوش میں آگے بڑھتے اور آپ کی اونٹنی کی باگ پکڑ لیتے تاکہ آپ کو اپنے گھر میں اتروالیں مگر آپ ہر ایک شخص کو یہی جواب دیتے تھے کہ میری اونٹنی کو چھوڑ دو یہ آج خد اتعالیٰ کی طرف سے مامور ہے۔" جو اس کو حکم ہو گا۔یہی سمجھو کہ جہاں اللہ تعالیٰ چاہے گا وہاں یہ بیٹھ جائے گی۔یہ وہیں کھڑی ہو گی